ژالہ باری ،ناسازگارموسم،خشک سالی اور اضافی اخراجات سے میوہ صنعت کونقصان : پھل کاشتکار
سرینگر//ماہ مئی کے وسط سے کم ترین بارشیں ہونے اور ماہ جون، جولائی، اگست کے اوائل سے جاری مسلسل خشک سالی نے کشمیرکی میوہ صنعت کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے ،کیونکہ بارشیں نہ ہونے اور درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کی وجہ سے سیب سمیت کئی میوہ جات کے SIZEاور رنگت پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں ،اور بقول پھل کاشتکاروںکے اگر جلد بارش نہ ہوئی ،تو درختوں پر پکنے کے منتظر سیب کے مختلف اقسام بشمول امریکن اورڈلیشن کی پیداوار ضائع ہونے کااحتمال ہے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کے شوپیاں ، پلوامہ ، اننت ناگ اور کولگام اضلاع جو میوہ صنعت کیلئے اہم ترین مرکزہے ،کے پھل کاشتکار اورمالکان باغات کاکہناہے کہ خشک سالی کے طول پکڑجانے سے کشمیرکی میوہ صنعت پر کاری ضرب لگنے کااندیشہ لاحق ہوا ہے۔ سبزی اور فروٹ منڈی آشاجی پورہ اننت ناگ اور اننت ناگ سے وابستہ تاجروں کی تنظیم کے صدر رایس احمد خان کہتے ہیں کہ امسال شدیدڑالہ باری سے پہلے ہی مختلف میوہ جات کو20 سے 30فیصد تک نقصان پہنچا۔انہوںنے کہا وی او آئی نمائندے امان ملک کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ میوہ دار درختوں پرموجود 50 سے60 فیصد سیب کے مختلف اقسام کی پیداوار ،معیار اور رنگت کا دارومدار موسمی صورتحال پر ہے۔ رائیس احمد خان نے کہاکہ بارش نہ ہونے سے درختوں پر پکنے کے منتظر سیب کے مختلف اقسام کے دانوںکا سائز فروغ نہیں پارہاہے اور نہ سیب کے دانوں پررنگ چڑھ رہاہے۔انہوںنے کہاکہ خشک سالی نے میوہ صنعت اوراسے جڑے باغ مالکان اور پھل تاجروں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔رواں خشک وگرم موسمی صورتحال کو میوہ صنعت کے لئے ناموافق قرار دیتے ہوئے سبزی اور فروٹ منڈی آشاجی پورہ اننت ناگ صدر رایس احمد خان نے کہاکہ کشمیرمیں لاکھوں لوگ بالواسطہ یابلاواسطہ طور پر میوہ صنعت سے جڑے ہوئے ہیں ،اوراگر ناموافق موسمی صورتحال جاری رہی ،تو لاکھوں لوگوںکی محنت اور اْمیدوں پر اللہ نہ کرے پانی پھر جائے گا۔ رائیس احمد خان نے حکومت سے کشمیرمیں MIS یعنی مارکیٹ میں مداخلت کی اسکیم دوبارہ لاگو کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ اگر باغات میں ہی سیب کاCگریڈ مال 25روپے فی کلومیں خریدجائے ،تو مالکان باغات اور پھل کاشتکاروتاجر اس گریڈ کے سیبوںکی بھرائی اور ٹرانسپورٹریشن کے اضافی اخراجات سے بچ جائیں گے۔انہوںنے کہاکہ کشمیرمیں کم وبیش3جوس فیکٹریاں موجود ہیں ،اور اگر حکومت مالکان باغات سے تیسرے درجے کے سیب خریدے گی ،تو حکومت کوکوئی نقصان نہیں ہوگا،جبکہ MISاسکیم پرعمل درآمد سے مالکان باغات اور پھل تاجر غیر ضروری اخراجات سے بچ جائیں گی۔










