درجہ حرارت میںکمی ریکارڈ ،گرمی کی لہر میں کمی ، 05اگست تک خراب موسمی صورتحال کی پیشگوئی
سرینگر// گزشتہ کچھ دنوں سے جاری شدید گرمی کی لہر کے بیچ محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے عین مطابق جمعرات کو ابر آلود موسم کے ساتھ ساتھ وادی کے کئی علاقوں میں بارشو ں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا جس کے نتیجے میں درجہ حرارت میںکمی ریکارڈ کی گئی اور لوگوں نے شدید گرمی کی لہر سے راحت کی سانس لی ۔ادھر وادی میںہوئی تازہ جاری بارشوں کے بیچ محکمہ موسمیات نے 24گھنٹوں تک جموں و کشمیر کے لئے موسمی الرٹ جاری کیا اور بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے ۔سی این آئی کے مطابق محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق جمعرات کی صبح سے موسمی صورتحال ابر آلو د رہنے کے ساتھ ساتھ بیشتر علاقوں میں ہلکی سے درمیانی درجے کی بارشیں ہوئی ۔محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے عین مطابق وادی کے شمال و جنوب میدانی علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ ہوا جبکہ بالائی علاقوں خاص طور پر مشہور سیاحتی مرکز گلمرگ اور دیگر کئی مقامات پر ہلکی بارشیں ہوئی ۔وادی کے شمال و جنوب میں واقع دیگر اضلاع میں بھی تازہ بارشیں ہوئی ہے جس میں شوپیان ،کپواڑہ اور دیگر کئی اضلاع کے میدانی علاقوں میں بھی ہلکی بارشیں ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ۔کپوارہ،بارہمولہ ،بڈگام ،گاندربل ،پلوامہ ،اننت ناگ ،شوپیان اور کولگام سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ان تمام اضلاع کے میدانی علاقوں میںہلکی بارشیں ریکارڈ کی گئی ۔ مجموعی طور پر پوری وادی کے میدانی علاقوں میں بارشوں سے رات کے کم سے کم درجہ حرارت میں بھاری اضافہ دیکھنے کو ملا۔محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں بارش ہوئی ۔ اس بیچ محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر مختار احمد نے بتایاہے کہ اس وقت جموں و کشمیر کے بیشتر مقامات پر آسمان ابر آلود ہے اور پونچھ ، راجوری ، ریاسی اور اس کے آس پاس کے کچھ مقامات پر تیز ہوائیںبھی چل رہی ہیں اور گرج چمک بھی ہورہی۔انہوں نے کہا’’وقفے وقفے سے بارش کا امکان زیادہ تر 05اگست تک ہے۔ بعض مقامات پر بھاری سے انتہائی موسلا دھار بارش کا بھی امکان ہے‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے نشیبی علاقوں میں طوفانی سیلاب ، مڈ سلائیڈ ، لینڈ سلائیڈ اور سیلابی صورتحال بھی پیداہوسکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا گیا ہے کہ لوگوں کو ایک بار پھر انتباہ دیا جاتا ہے اور انتہائی محتاط رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے کیونکہ ندی نالوں میں پانی کی سطح بڑھ چکی ہے۔لوگوں کو پہاڑی علاقوں میں گھمونے پھرنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔










