جموں//ایڈیشنل کمشنر سٹیٹ ٹیکسز ایڈمنسٹریشن اینڈ اَنفورسمنٹ جموں نمرتا ڈوگرہ نے آج صد فیصد ریٹرن فائلنگ کی تعمیل پر زور دیا۔ ایڈیشنل کمشنر نے ٹیکس دہندگان کو جعلی یا متعدد کیو آر (کوئیک رسپانس) کوڈ اِستعمال کرنے اور فروخت کو دبانے کے نتائج کے بارے میں بھی متنبہ کیا۔نمرتا ڈوگرہ نے جموں کے سرکل۔ اے اور سرکل ۔سی کے ٹیکس دہندگان کے ساتھ ڈیلرز میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے جون میں ختم ہونے والے مالی برس 2024-25 ء کی پہلی سہ ماہی کی مالی صورتحال کا جائزہ لیا اور بقیہ تین سہ مہینوں کے لئے محصولات کی دلیل کے لئے حکمت عملی وضع کی ۔میٹنگ کے آغاز میں سٹیٹ ٹیکس آفیسر سرکل۔ اے تمنا سیٹھ اور سٹیٹ ٹیکس آفیسر سرکل۔سی سمی نے شرکأ کو میٹنگ کے ایجنڈے کے بارے میں آگاہ کیا اور ڈیلروں کا تعارف کیا جس میں آٹوموبائل، ریستوراں اور انٹریز، ہوٹلز، ورک کنٹریکٹس، گارمنٹس، الیکٹرانکس، پینٹس اینڈ وارنشنگ، سروس سیکٹر، ٹیوشن سینٹروں، کنسلٹنسی، موبائل اور دیگر ریٹیل سیکٹر جیسے کاروبار سے وابستہ ٹیکس دہندگان شامل ہیں۔ اِس موقعہ پر سٹیٹ ٹیکس آفیسر روپالی سدوترا بھی موجود تھیں۔یہ میٹنگ کمشنر سٹیٹ ٹیکسز پی کے بھٹ کی’’اپنے ڈیلر کو جانیں ‘پہل کا حصہ تھی جس کا مقصد ٹیکس دہندگان کے ساتھ سرکل لیول کے افسروں کے رابطے کو بڑھانا ہے تاکہ ان کی تجارتی شکایات اور کمیوں کو جان سکیں۔ یہ میٹنگ ٹیکس دہندگان سے رائے حاصل کرنے اور ٹیکس دہندگان میں عدم تعمیل اور ٹیکس چوری کے نتائج سے آگاہ کرنے کے لئے اہم تھا۔سیکٹر وار کاروبار اور ٹیکس کی پوزیشن کا جائزہ لینے کے لیے کاروبار کے ہر نمائندے کے ساتھ ون ٹو ون بات چیت ہوئی۔ غیر تعمیل کرنے والے ڈیلروں کو موقعہ پر ہی ہدایات بھی جاری کی گئیں کہ وہ اپنے آئی ٹی سی کے ریورسل اور عدم توازن کو دور کریں۔ آمدنی کی دلیل کی حکمت عملی پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ کچھ شعبوں کے لئے ٹیکس سلیب میں تبدیلی کے بارے میں بھی تجاویز موصول ہوئیں جنہیں متعلقہ حلقوں کو آگے بھیجنے کے لئے اچھی طرح سے لیا گیا تھا۔ایڈیشنل کمشنر نے جموں اولڈ سٹی کے ڈیلروں کی لگن اور ایمانداری کو سراہتے ہوئے کہا کہ جموںسٹی کے ٹیکس دہندگان روایتی طور پر فرمانبردار رہتے ہیں اور اپنے متعلقہ ٹیکس بروقت جمع کرتے ہیں جس کی مستقبل میں بھی توقع ہے ۔نمرتا ڈوگرہ نے صد فیصد ریٹرن کی تعمیل اور تمام بلاک شدہ ادائیگیوں کو کلیئر کرنے پر زور دیا۔ایڈیشنل کمشنر نے ایک تجزیے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا،’’ہم نے دیکھا ہے کہ کچھ کھانے پینے کی اشیأ فروشوں، ریستوراں، ہوٹل مالکان اور دیگر تاجروں نے اپنے اصل ٹرن اوور کو چھپانے کے لئے متعدد یو پی آئی اکاؤنٹس کے ذریعے ادائیگیاں وصول کی ہیں جس کا مقصد دبی ہوئی فروخت کو ظاہر کرنا اور ٹیکس انوائسز جاری کرنے سے بچنا ہے۔‘‘نمرتا ڈوگرہ نے ٹیکس دہندگان پر زور دیا کہ وہ اپنی سٹاک پوزیشننگ برقرار رکھیں اور ایس ٹی او کو ہدایت دی کہ عدم توازن کی صورت میں سٹاک کا بار بار معائینہ کیا جائے۔ایڈیشنل کمشنر نے کہا،’’تمام ٹیکس دہندگان کو شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے اپنی سٹاک پوزیشن اور فروخت کو ٹیکس سٹیٹمنٹ کے مطابق رکھنا چاہیے۔ میں نے بہت سے ایسے معاملات بھی دیکھے ہیں جہاں ڈیلر کو عدم تعمیل کے بارے میں علم نہیں ہے اور ہم نوٹس جاری کرتے ہیں کیوں کہ اُن کا اپنا فون نمبر محکمہ کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ہے ، لہٰذا میں آپ سب سے درخواست کرتی ہوں کہ آپ ذاتی اِی میل اور موبائل نمبروں کے ساتھ جی ایس ٹی رجسٹر کریں تاکہ محکمہ سے بروقت اطلاع اور مواصلات حاصل ہوسکیں۔










