چیف ایگزیکٹیو آفیسر اِی آر اے نے ایمرجنسی آپریشن سینٹر بلڈنگ اوربون اینڈ جوائنٹس میں

160 بستروں پر مشتمل اِضافی بلاک کی پیش رفت کا جائزہ لیا

سری نگر//چیف ایگزیکٹیو آفیسر جموں وکشمیر اِکنامک ری کنسٹرکشن ایجنسی (اِی آر اے) اعجاز اسد نے جموں و کشمیر اِکنامک ری کنسٹرکشن ایجنسی کے دفتر میں عالمی بینک کے مالی اعانت سے چلنے والے جہلم توی فلڈ ریکوری پروجیکٹ کے تحت جاری مختلف فلیگ شپ ذیلی پروجیکٹوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کیلئے ایک میٹنگ کی صدارت کی ۔جے ٹی ایف آر پی کے تحت 40.16 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کئے جانے والے جدید ترین ای او سی (ایمرجنسی آپریشن سینٹر) پر کام کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے اِی آر اے کے سی اِی او کو جانکاری دی گئی کہ زیادہ تر سول اجزأ جن میں مین بلڈنگ، سروس بلڈنگ، ہوسٹل بلڈنگ کی تعمیر کے ساتھ ساتھ اندرونی سڑکوں کی تعمیر، کمپلیکس کے اِردگرد بائونڈری وال اور بجلی کے کھمبوں کی تنصیب وغیرہ کا کام مکمل کیاگیا ہے۔ فائر فائٹنگ ٹینک کی تعمیر اور دیگر ذیلی کام جاری ہیں۔چیف ایگزیکٹیو آفیسر اِی آر اے نے عمل آوری ایجنسی کو ہدایت دی کہ وہ عمارت میں ایچ وِی اے سی (ہیٹنگ وینٹی لیشن اور ایئر کنڈیشننگ) سسٹم کی تنصیب پر فوری طور پر کام شروع کریں اور ذیلی منصوبے کے تحت دیگر سرگرمیوں پر بھی کام تیز کریں تاکہ اس کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جاسکے۔اوم پورہ بڈگام میں اسٹیٹ آف آرٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) کی عمارت عالمی بینک کی مالی اعانت سے چلنے والی جے ٹی ایف آر پی کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ صلاحیت کو مضبوط بنانے کے جزو کے تحت تعمیر کی جارہی ہے اور اس میں جی پلس وَن فلور کے ساتھ مین کنٹرول بلڈنگ شامل ہے جس کا بلٹ اَپ ائیریا 27,204مربع فٹ ہے جس میں سینٹرل کنٹرول روم فار سپروائزری کنٹرول اینڈ ڈیٹا ایکوزیشن سینٹر بھی ہوگا۔ سروس بلاک جس کا رقبہ 3,224مربع فٹ ہے، این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کے جوانوں کے لئے ہوسٹل بلڈنگ میں ڈائننگ ہال، باورچی خانہ، تفریحی کمرہ جیسی تمام سہولیات موجود ہیںاوربڑے سائز کے گودام جس کا رقبہ 11,248 مربع فٹ ہے جو ریسکیو بوٹس، پینے کے قابل پمپوں اور اشیائے خوردونوش کی ضروری اشیاء جیسے اِمدادی اور ریسکیو آلات کے ذخیرے کے لئے اِستعمال کیا جائے گا۔ اِی او سی سینٹر میں انخلأ کے لئے خیمے لگانے اور 3 ہیلی کاپٹروں کی ایمرجنسی لینڈنگ کے لئے ہیلی پیڈ کے سائز کے دو کنکریٹ پلیٹ فارم بھی ہیں جن کا سائز 2100×2ہے۔بعد میں اعجاز اسد نے بون اینڈ جوائنٹ ہسپتال برزلہ میں 103.27 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے 160 بستروں پر مشتمل اضافی بلاک کی تعمیر پر کام کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔چیف ایگزیکٹیو آفیسر ( سی ای او) کو جانکاری دی گئی کہ ذیلی منصوبے پر کام آخری مراحل میں ہے اور لفٹوں کی تنصیب، پرانی اور نئی ہسپتال کی عمارتوں کے درمیان کنکٹینگ کوریڈور کی تعمیر، مرکزی عمارت پر دیگر ذیلی کام تیزی سے جاری ہیں۔اُنہوں نے آر اینڈ بی (پی ڈبلیو ڈی) کو ہدایت دی کہ ذیلی منصوبے کے لئے پی آئی یو (پروجیکٹ امپلی منٹیشن یونٹ) کام کی رفتار کو مزید تیز کریں اور مقررہ وقت میں اس کی تکمیل کو یقینی بنائیں۔بون اینڈ جوائنٹس ہوسپٹل برزلہ میں 160 بستروں پر مشتمل اضافی بلاک وادی میں صحت بنیادی ڈھانچے میں ایک بہت ضروری اِضافہ ہے اور لوگوں کو بہترین معیار کی آرتھوپیڈک صحت سہولیات فراہم کرے گا۔جدید ترین عمارت زلزلے سے نمٹنے والی جدید ٹیکنالوجی، جدید ماڈیولر آپریشن تھیٹرز، لیمینر فلو سسٹم، ٹی ایس ایس یو (تھیٹر سٹیرائل سپلائی یونٹ)، آئی سی یو، پری اینڈ پوسٹ آپریشن کیئر وارڈز، سی ایس ایس ڈی (سینٹرل سٹیرائل سپلائی ڈیپارٹمنٹ) خصوصی لانڈری ، نی میٹک ٹیوب سسٹم اور ویسٹ کلیکشن سسٹم ،عمارت میں آئی جی بی سی ( اِنڈیا گرین بلڈنگ کونسل) سرٹیفکیشن ہے،بائیو میڈیکل ویسٹ مینجمنٹ کی سہولیت کا اِستعمال کرتے ہوئے بنایا گیا ہے۔ سی اِی او کو جی ڈی سی بمنہ میں اضافی بلاک کی تعمیر کی پیش رفت کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے ایس ای آر اینڈ بی (پی ڈبلیو ڈی) نے بتایا کہ عمارت میں لفٹوں کی تنصیب اور دیگر معمولی ذیلی کاموں پر کام کو مزید آگے بڑھایا جا رہا ہے تاکہ ذیلی منصوبے کی جلد اَز جلد تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔اُنہوںنے اِنجینئروں کو ہدایت دی کہ وہ ورلڈ بینک کے مالی اعانت سے چلنے والے جے ٹی ایف آر پی کے تحت جاری تمام زیر تکمیل کاموں پر کام کی پیش رفت کی باریک بینی سے نگرانی کریں تاکہ اِس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ تمام کام مقررہ مدت کے اندر مکمل ہوجائیں اور کام کے معیار کے پیرامیٹروںکی سخت نگرانی کی بھی ہدایت دی۔میٹنگ میں ڈائریکٹر ٹیکنیکل جے ٹی ایف آر پی راکیش مہاجن، سپر اِنٹنڈنٹ بون اینڈ جوائنٹ ہاسپٹل برزالہ ڈاکٹر الطاف کاووسہ، پروجیکٹ منیجرجے کے ای آر اے سشیل کمار، ایس اِی آر اینڈ بی (پی ڈبلیو ڈی) سینٹرل مشتاق احمد اور جے اینڈ کے اِی آر اے ا، آر اینڈ بی (پی ڈبلیو ڈی) اور محکمہ صحت کے دیگر سینئر افسران نے بھی شرکت کی۔