خلاف ورزیوں کے خلاف سخت کاررِوائی کی جائے۔ چیف سیکرٹری کی ٹی ڈی ایز پر زور

سری نگر// چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے جموںوکشمیر یوٹی کے تمام 21 ٹوراِزم ڈیولپمنٹ اَتھارٹیز (ٹی ڈِی اے) کے ساتھ ایک میٹنگ منعقد کی تاکہ ان کے کام کاج ،ریونیو جنریشن اور ان کی طرف سے سیاحوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا جاسکے۔ میٹنگ میں کمشنر سیکرٹری سیاحت، ڈائریکٹر ٹوراِزم جموں ، ڈائریکٹر ٹوراِزم جموں ، ڈیولپمنٹ اتھارٹیوں کے سی ای اوز کے علاوہ دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی جبکہ جموں مقیم اَفسران نے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ میٹنگ میں حصہ لیا۔چیف سیکرٹری نے میٹنگ کے آغاز میں سیاحتی مقامات میں غیر قانونی تعمیرات یا ماسٹر پلان کی خلاف ورزیوں کا سختی سے نوٹس لیا۔اُنہوں نے متعلقہ اَفسران پر زور دیا کہ وہ قوانین کے سختی سے نفاذ اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لئے اپنے دائرہ اختیار پر کڑی نظر رکھیں۔ اُنہوں نے اپنے دائرہ اِختیار میں آنے والی زمینوں کی فوری حد بندی کی بھی ہدایت دی تاکہ ان علاقوں میں کوئی خلاف ورزی نہ ہو۔اَتل ڈولونے ٹورسٹ ڈیولپمنٹ اَٹھارٹی (ٹی ڈی اے)میں سے ہر ایک کے لئے ماسٹر پلان کی حیثیت کا بھی جائزہ لیا۔ اُنہوں نے اُن پر زور دیا کہ جہاں بھی ضرورت ہو وہاں منصوبوں کو اَپ ڈیٹ کریں اور متعلقہ چیف ٹاؤن پلانر کی مشاورت سے حکام کے لئے نئے منصوبوں کا مسودہ تیار کریں۔اُنہوںنے ریونیو کے حوالے سے افسران پر زور دیا کہ وہ ریونیو کے حصول اور ان کی دیکھ ریکھ کے لئے اَپنے اثاثوں کی آؤٹ سورسنگ کے لئے اَقدامات کریں۔ اُنہوں نے اِس کے ساتھ ساتھ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے نگرانی کا ایک میکانزم قائم کرنے کے لئے کہا کہ ان تمام اثاثوں کی پرائیویٹ پلیئرز کی طرف سے مناسب دیکھ ریکھ کی جائے۔چیف سیکرٹری نے سیاحوں کو سہولیات کی فراہمی کے بارے میں پوچھتے ہوئے اَفسران پر زور دیا کہ وہ اِن علاقوں میں صفائی ستھرائی کے لئے ضروری بنیادی ڈھانچہ تیار کریں۔اُنہوںنے وہاں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پیز) کی دستیابی اور ان سیاحتی مقامات میں سالڈ ویسٹ ٹریٹمنٹ کی صورتحال کے بارے میں پوچھا۔ اُنہوں نے صفائی ستھرائی کی بہترین سہولیات، سڑک، بجلی، پانی اور موبائل نیٹ ورک کنکٹویٹی پیدا کرکے ان مقامات کے مناسب اِنتظام کو یقینی بنانے پر زور دیا۔کمشنرسیکرٹری سیاحت یشا مدگل نے جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں ان ٹورازم ڈیولپمنٹ اتھارٹیوں کے قیام کے پیچھے کے مینڈیٹ اور مقاصد کا جائزہ پیش کیا۔ اُنہوں نے ان کے کام کاج اور پالیسی یا اِنسانی وسائل کی ضروریات کے حوالے سے ان میں سے ہر ایک کو درپیش مسائل پر بھی روشنی ڈالی۔اُنہوں نے یہ بھی یقین دِلایا کہ اَگلے ایک ماہ میںاَنفورسمنٹ اورہر اَتھارٹی کے تحت علاقوں کی حد بندی کے حوالے سے کافی پیش رفت کی جائے گی ۔ اُنہوںنے یہاں تک کہا کہ اثاثوں کی آؤٹ سورسنگ کے عمل کو ایک مخصوص ٹائم لائن کے اندر ختم کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ان ٹورسٹ ڈیولپمنٹ اَتھارٹیوں کے متعلقہ چیف ایگزیکٹیو اَفسران(سی ای اوز) نے حکومت کی جانب سے وقتاًفوقتا ًجاری کئے جانے والے مختلف نوٹیفکیشنز کی بنیاد پر اَپنے دائرہ اِختیار میں آنے والے علاقوں کی تفصیلات پیش کیں۔ اُنہوں نے میٹنگ کو ماسٹر پلان کی صورتحال اور ان میں ترمیم کی ضرورت کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔مزید برآں، متعلقہ سی اِی اوز نے ہر ٹی ڈی اے میں موجود اثاثوں کی نوعیت پر روشنی ڈالی۔ اُنہوں نے اپنے موجودہ استعمال اور سیاحوں کی آمد میں اِضافے کے لئے ان کی آؤٹ سورسنگ کے منصوبوں، رات کے قیام کے لئے سہولیات کی تخلیق اور وہاں سیاحت سے متعلق دیگر سرگرمیوں کو اَنجام دینے کے منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا۔آج جن اہم ترقیاتی اتھارٹیوں کا جائزہ لیا گیا ان میں گلمرگ، پہلگام، پتنی ٹاپ، سونہ مرگ، دودھ پتھری، بھدرواہ، سرنسر مانسر، بنی، بسوہلی ، لولاب۔ بنگس، اہرہ بل، کشتواڑ، کوکرناگ، پونچھ، راجوری، توسہ میدان ، شوپیاں۔پیر کی گلی، ولر۔ مانسبل، بلاور۔دوگن، ویری ناگ، یوسمرگ شامل ہیں۔یہاں یہ بات قابل ذِکر ہے کہ یہ ترقیاتی اتھارٹیز جموں و کشمیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی ایکٹ کے تحت قائم کی گئی ہیں۔ پتنی ٹاپ ڈیولپمنٹ اَتھارٹی، پہلگام ڈیولپمنٹ اَتھارٹی اور گلمرگ ڈیولپمنٹ اَتھارٹی سمیت تین اہم اتھارٹیوں کی سربراہی لیفٹیننٹ گورنر کرتے ہیں جبکہ باقی اٹھارہ اتھارٹیوں کی سربراہی چیف سکریٹری خود کرتے ہیں۔