Secy Health-Major reform in the interest of Patient care on Anvil in Gmc’s

جی ایم سی میں پیشنٹ کیئر کے مفاد میں اہم اِصلاحات

سیکرٹری صحت و طبی تعلیم نے جی ایم سیز میں ایمرجنسی میڈیسن ڈیپارٹمنٹ کے قیام کا جائزہ لیا

سری نگر//سیکرٹری صحت و طبی تعلیم ڈاکٹر سیّد عابد رشید شاہ نے آج سول سیکرٹریٹ سری نگر میں محکمہ صحت کے سینئر افسران کی میٹنگ میں جموں و کشمیر کے تمام سرکاری میڈیکل کالجوں میں ایمرجنسی میڈیسن ڈیپارٹمنٹ کے قیام کا جائزہ لیا۔میٹنگ میں تمام سرکاری میڈیکل کالجوں پرنسپلوں،ڈائریکٹر فائنانس صحت و طبی تعلیم ، جوائنٹ ڈائریکٹر پلاننگ صحت و طبی تعلیم، ایڈیشنل سیکرٹری اور ڈپٹی سیکرٹری میڈیکل ایجوکیشن نے شرکت کی۔ سیکرٹری موصوف نے تمام جی ایم سیز میں 30 بستروں پر مشتمل ایمرجنسی میڈیسن ڈیپارٹمنٹ کے قیام میں تیزی لانے کے لئے جی ایم سیز کے پرنسپلوں اور سینئر فیکلٹی ممبران سے رائے طلب کی۔ڈاکٹر سیّد عابد رشیدشاہ نے ان تمام لوگوں کو جامع او رمعیاری ایمرجنسی طبی نگہداشت فراہم کرنے کے ویژن پر روشنی ڈالتے ہوئے جموں و کشمیر فائنانس ڈیپارٹمنٹ کی ہدایات کے مطابق فیکلٹی اَسامیوں کی معرض وجود میں لانے کے لئے تمام رسمی کارروائیوں کو تیز کرنے کی عجلت کا اِظہار کیا۔اُنہوں نے محکمہ کو کم سے کم وقت میں فعال بنانے کے لئے دستیاب بنیادی ڈھانچے ، اَفرادی قوت اور آلات کی ضروری خریداری کو زیادہ سے زیادہ اِستعمال کرنے پر زور دیا۔میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ طبی ایمرجنسی صورتحال صحت نظام کے لئے ایک سنگین بوج بنتی جارہی ہے اور این سی ڈی جیسے فالج، ایکیوٹ کورونری سنڈروم، سانس، ذیابیطس کی پیچیدگیوں اور الکحل جگر کے اَمراض کے حالات جن کو فوری کیئر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایمرجنسی میڈیسن ڈیپارٹمنٹ جی ایم سیز میں ٹراما کیئر اور ایمرجنسی کو زیادہ مؤثر طریقے سے بہتر بنانے کے قابل ہو جائے گا۔نیشنل میڈیکل کمیشن کے اصولوں کے تحت تعلیمی سال 2022-2023 ء سے تمام میڈیکل کالجوں کے لئے ایمرجنسی میڈیسن ڈیپارٹمنٹ کے قیام کو بھی لازمی قرار دیتے ہیں۔ تسلیم شدہ ایم بی بی ایس کی اہلیت رکھنے والے تمام میڈیکل کالجوں کو تسلیم کی سطح پر اور تجدید کے کسی بھی مرحلے پر ایمرجنسی میڈیسن کا شعبہ ہونا ضروری ہے جس میں داخلہ میں اضافہ بھی شامل ہے۔