زائد از50لاکھ ووٹوںکے نتائج شام تک ظاہر ہونے کا امکان،مخصوص سیاسی جماعتیں جشن منانے کی تیاریوں میں مشغول
سرینگر///کڑے پہرے اورسخت سیکورٹی بندوبست کے بیچ آج4 مئی منگل کوجموں کشمیر کی5پارلیمانی نشستوں پرہوئے انتخابات کی ووٹ شماری شروع 9مراکز پر ہوگی۔5مراحل میں ہوئے انتخابی عمل میں2سابق وزراء اعلیٰ،مرکزی وزیر و سابق ریاستی قانون سازیہ کے ارکان و وزراء سمیت اور 100امیدوار بھی میدان میں ہیں،جن کی سیاسی تقدیر اور پارلیمنٹ جانے کا فیصلہ آج شام تک50لاکھ سے زائد رائے دہندگان کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں بند ووٹ شماری کے بعد ہوگا۔وائس آف انڈیا کے مطابق جموں کشمیر میں مجموعی طور پر87لاکھ26ہزار ووٹروں میں سے58.46ووٹروں نے اپنی رائے دہی کا استعمال کیا۔پارلیمانی انتخابات کی ووٹ شماری پورے ملک کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر میں4منگل کو شروع ہوگا،جس کیلئے الیکشن کمیشن نے دہلی میں نقل مکانی کرنے والے پنڈتوں کی ووٹوں کی گنتی سمیت جموں کشمیر میں مجموعی طور پر9مراکز کا قیام عمل میں لایا ہے۔ ووٹ شماری کی پیش نظر جموں کشمیر میں سیکورٹی کو مزید متحرک کیا گیا ہے،جبکہ ووٹ شماری مراکز کے باہر سخت ترین سیکورٹی انتظامات عمل میں لائے گئے ہیں تاکہ کسی بھی نا خوشگوار واقعے سے قابل از وقت ہی نپٹا جاسکے۔ ووٹنگ مشینوں کو پہلے ہی مختلف مراکز پر مثالی سیکورٹی پہرے میں رکھا گیا ہے۔ ووٹ شماری کے عملے کو بھی متحرک کیا ہے جبکہ ووٹنگ مراکز پر انہیں پہنچانے کے انتظامات بھی عمل میں لائے گئے ہیں۔ پارلیمانی انتخابات میں جموں کشمیر کی5نشستوں پر100امیدوار میدان میں ہیں جبکہ 86لاکھ92ہزار646 ووٹروں میں44لاکھ35ہزار مرد جبکہ42 لاکھ 56ہزار956خواتین اور164خواجہ سرا رائے دہندگان شامل تھے۔ انتخابات44دنوں میں مکمل ہوا جس کے دوران حلقہ انتخاب ادھمپور میں19اپریل جبکہ جموں حلقے میں26اپریل،سرینگر پارلیمانی حلقے میں13مئی، بارہمولہ پارلیمانی حلقے میں20مئی اور ،اننت ناگ، راجوری میں7مئی کو ووٹنگ موخر کرکے25مئی کوہوئی۔ الیکشن میں جموں کشمیر کے2سابق وزراء اعلیٰ،عمر عبداللہ،محبوبہ مفتی کے علاوہ مرکزی وزیر ڈاکٹر جتندر سنگھ اور2مرتبہ کے ممبر پارلیمنٹ چودھری لال سنگھ،7سابق وزیر میاں الطاف،سجاد لون ،رمن بلا،جی ایم سروڈی آغا روح اللہ اور محمد اشرف میر اورسابق قانون سازیہ ارکان انجینئر رشید و ظفر منہاس بھی میدان میں قسمت آزامائی کر رہے ہیں۔مجموعی طور پر58.46 فیصد لوگوں نے اپنی رائے دہی کا استعمال کیا۔سرینگر پارلیمانی نشست پر13مئی کو انتخابات ہوئے،جس میں نیشنل کانفرنس امیدوار آغا روح اللہ،پی ڈی پی امیدوار وحید پرہ اور اپنی پارٹی امیدواروں محمد اشرف میر سمیت24 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ 4مئی کو جھیل ڈل کنارے واقع ایس کے آئی سی سی میں 4مئی کو ووٹ شماری کے بعد ہوگا۔اس نشست پر 17لاکھ40ہزار ووٹر ان میں سے38.49ووٹروں نے رائے دہی کا استعمال کیا۔اس نشست پر تقریباً 52ہزار100 نقل مکانی کرنے والے رائے دہندگان کو ووت کا حق حاصل تھا۔اس نشست پر کل ہوئے15پارلیمانی انتخابات میں نیشنل کانفرنس نے9مرتبہ اپنے حریفوں کو شکست دی ہے جبکہ کانگریس نے بھی5مرتبہ اور پی ڈی پی نے ایک دفعہ اس نشست پر میدان مارا ہے۔جموں کشمیر میں چوتھے مرحلے پرشمالی کشمیر کی بارہمولہ ،کپوارہ پارلیمانی نشست پر 20مئی کو ووٹ ڈالے گئے۔17لاکھ سے زائد رائے دہندگان میں سے 59.1فیصد ووٹروں نے عمر عبداللہ،سجاد غنی لون اورتہاڑ جیل میں نظر بند سابق ممبر اسمبلی انجینئر رشید سمیت22امیدواروں کی سیاسی تقدیر الیکٹرانک ووٹنگ مشنینوں میں بند کی۔ ماضی میں یہ نشست نیشنل کانفرنس نے9مرتبہ جیت درج کی جبکہ کانگریس نے بھی5بار کامیاب ہوئی ہیں۔پیر پنچال کے آر پار5اضلاع پر محیط جنوبی نشست اننت ناگ،راجوری میں پارلیمانی انتخاب کے چھٹے را?نڈ میں25مئی کو الیکشن ہوا۔اس نشست پر پہلے7مئی کو انتخابات ہونے تھے تاہم خراب موسم کے پیش نظر قبل از وقت ہی اس نشست پر الیکشن کی تاریخ کو موخر کیا گیا۔20امیدواروں کی سیاسی تقدیر کا فیصلہ18لاکھ30 ہزار294رائے دہندگان میں سے54.84فیصد رائے دہندگان نے ووٹنگ مشینوں میں بندکریں گے۔اس نشست پر ماضی میں6مرتبہ نیشنل کانفرنس اور4مرتبہ کانگریس کے علاوہ2بار پی ڈی پی اور ایک بار جنتا دل کے امیدواروں نے جیت درج کی۔فاتح امیدواروں میں2خواتین امیدوار بیگم اکبر جہاں اور محبوبہ مفتی بھی شامل ہیں۔اس نشست میں پہلی بار پیر پنچال خطے کو جوڈ دیا گیا ہے جبکہ پلوامہ ضلع کے علاوہ شوپیاں کی ایک اسمبلی نشست کو حذف کیا گیا ہے۔حلقہ ادھمپور میں19اپریل کو1623195رائے دہندگان میں سے 68.27فیصد لوگوں نے اپنے جمہوری حق کو ادا کیا۔اس نشست پر مجموعی طور پر12امیدوار میدان میں ہیں جن میں مرکزی وزیر اور بھاجپا امیدوار ڈاکٹر جتندر سنگھ اورکانگریس ٹکٹ پر2بار پارلیمنٹ ممبر رہیں چودھری لال سنگھ بھی شامل ہیں۔13پارلیمانی انتخابات اور2ضمنی انتخابات میں کانگریس نے9مرتبہ فتح کے پرچم گاڑ دئیے ہیں جبکہ5مرتبہ بی جے پی امیدوار بھی انتخابات میں جیت اپنی نام کر چکے ہیں۔ جموں نشست پر مجموعی طور پر22امیدواروں کے درمیان 26اپریل کو مقابلہ ہوا،جبکہ ان امیدواروں میں2بار ممبر پارلیمنٹ رہیں اور بی جے پی امیدوار جگل کشور اور کانگریس امیدوار و سابق وزیر رمن بھلہ شامل ہیں۔اس پارلیمانی نشست پر رائے دہندگان کی تعداد17لاکھ80ہزار738ہے جس میں مرد رائے دہندگان کی تعداد9لاکھ21ہزار53جبکہ خواتین کی تعداد8 لاکھ59ہزار657کے علاوہ خواجہ سرائوں کی تعداد28ہے،تاہم72.22فیصد رائے دہنگان نے اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا۔اس نشست پر ماضی میں ہوئے13انتخابات کے دوران سب سے زیادہ کانگریس نے7مرتبہ فتح کا پرچم لہریا ہے جبکہ4مرتبہ بی جے پی امیدواروں کو بھی کامیابی حاصل ہوئی،تاہم نیشنل کانفرنس اور ایک آزاد امیدوار،نے1967کے بعد آج تک صرف ایک مرتبہ اس نشست پر کامیابی حاصل کی۔










