گیارہویں معیشت سے ہندوستان کوپانچویں بڑی طاقت بنایا اگلے پانچ برسوں میں تیسرے نمبر پر ہوں گے
سرینگر//وزیر اعظم نریندر مودی نے کہاکہ ہندوستان کو عالمی طاقت بنانے کا سفر جو ہم نے 2014میں شروع کیا تھا وہ جاری ہے اور ملک کو گیارہویں معیشت سے ہم نے پانچویں معیشت تک پہنچایا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا ‘’ہمارے لئے ترقی کا مطلب غریب سے غریب کی ترقی، دلت، قبائلیوں، پسماندہ اور محروموں کی ترقی ہے۔’’ وزیر اعظم نے کہا کہ 25 کروڑ سے زیادہ لوگ غربت سے باہر نکل آئے ہیں۔ اور اسی کے ساتھ انہوں نے اس کامیابی کاسہرا غریبوں کے لیے سرکاری فلاحی اسکیموں کے سر باندھا۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ملک کو ترقی کی بلندیوں پر پہنچانے کیلئے ہماری سرکار نے جو عزم کیا ہے اس کیلئے ہم دن رات کام کررہے ہیں ۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ ہندوستان جو پہلے گیارہویں معیشت تھا آج پانچویں معیشت بن گیا ہے اور اگلے پانچ برسوں میں تیسرے نمبر پر ہوگا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے سوموار کو تلنگانہ کے عادل آباد میں 56,000 کروڑ روپے سے زیادہ کے بجلی، ریل اور سڑک کے شعبوں سے متعلق متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کیا، قوم کو وقف کیا اور ان کا سنگ بنیاد رکھا۔جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ عادل آباد کی سرزمین نہ صرف تلنگانہ بلکہ پورے ملک سے متعلق ترقیاتی منصوبوں کی گواہ بن رہی ہے کیونکہ 56000 کروڑ روپے سے زیادہ کی مالیت کے 30 سے زیادہ ترقیاتی منصوبے یا تو قوم کے نام وقف کیے جا رہے ہیں یا آج ان کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہے۔ ان پروجیکٹوں میں ریاست میں توانائی، ماحولیات کی پائیداری اور سڑکوں سے جڑے کئی منصوبے شامل ہیں۔وزیر اعظم نے اس بات کا ذکر کیا کہ مرکزی حکومت اور ریاست تلنگانہ دونوں نے تقریباً 10 سال مکمل کر لیے ہیں اور کہا کہ حکومت ریاست کو اپنے شہریوں کے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ آج بھی 800 میگاواٹ کی صلاحیت کے این ٹی پی سی یونٹ 2 کا آج افتتاح کیا گیا ہے جس سے تلنگانہ کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے امباری – عادل آباد – پمپلکھوٹی ریل لائنوں کی برقی کاری کی تکمیل اور عادل آباد، بیلہ اور ملوگو میں قومی شاہراہ کے دو بڑے پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھنے کا بھی ذکر کیا۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ آج کے یہ جدید ریل اور سڑک پراجکٹس تلنگانہ کے ساتھ ساتھ پورے خطہ کی ترقی کو رفتار دیں گے، ساتھ ہی ساتھ سفر کے وقت کو بھی کم کریں گے، سیاحت کی حوصلہ افزائی کریں گے اور روزگار کے بے شمار مواقع پیدا کریں گے۔وزیر اعظم نے ریاستوں کی ترقی کے ذریعے ملک کی ترقی کے منتر کو دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ بہتر معیشت کے ساتھ ملک میں اعتماد بڑھتا ہے اور ریاستوں کو بھی اس سے فائدہ ہوتا ہے کیونکہ وہ سرمایہ کاری حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے ہندوستانی معیشت کی بلند شرح نمو کی گونج عالمی سطح پر سنائی دینے کا ذکر کیا کیونکہ ہندوستان واحد بڑی معیشت ہے جس نے پچھلی سہ ماہی میں 8.4 فیصد کی ترقی کی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا، ‘‘اس رفتار کے ساتھ، ہندوستان دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بن جائے گا’’، انہوں نے مزید کہا کہ جس کا مطلب تلنگانہ کی معیشت کے لیے بھی اعلیٰ نمو ہوگا۔تلنگانہ جیسے علاقوں کو پہلے نظر انداز کیے جانے کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعظم نے گزشتہ 10 برسوں کے دوران اختیار کئے جانے والے حکمرانی کے نئے طریقوں پر روشنی ڈالی۔ پچھلے 10 برسوں کے دوران ریاست کی ترقی کے لئے زیادہ مختص کئے جانے والے فنڈز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا، ‘’ہمارے لئے ترقی کا مطلب غریب سے غریب کی ترقی، دلت، قبائلیوں، پسماندہ اور محروموں کی ترقی ہے۔’’ وزیر اعظم نے کہا کہ 25 کروڑ سے زیادہ لوگ غربت سے باہر نکل آئے ہیں۔ اور اسی کے ساتھ انہوں نے اس کامیابی کاسہرا غریبوں کے لیے سرکاری فلاحی اسکیموں کے سر باندھا۔ خطاب کے اختتام پر وزیر اعظم نے زور دیا کہ آئندہ 5 برسوں میں ایسی مہمات کو مزید وسعت دی جائے گی۔وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں 2014سے جو تبدیلی ہوئی ہے اس کا مشاہدہ عوام خود کررہی ہے ۔ا نہوںنے بتایا کہ ہماری سرکار نے خاص طور پر خواتین کی سماجی اور اقتصادی آزادی کو مد نظر رکھا ہے اور آج ملک میں کروڑوں ’’لکھ پتی دیدیاں‘‘ موجود ہیں۔










