The healthy place Pahalgam is getting stuck in air pollution day by day

صحت افزا مقام پہلگام دن بدن فضائی آلودگی میں جکڑتا جارہا ہے

اگرآلودگی پر اگر جلد قابونہیں پایا گیا تو اس کی خوبصورتی جلد ختم ہوجائے گی۔ ماہرین ماحولیات

سرینگر// سیاحتی مقام پہلگام کی خوبصورتی کو آلوگی سے خطرہ ہے کیوں کہ پہلگام میں ہزاروں کی تعداد میں نجی اور کمرشل گاڑیاں روزانہ پہنچ جاتی ہیں جس کی وجہ سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے۔ سیاحتی مقام جہاں ایک زمانے میں جانوروں اور چرند و پرند کی چہچہاہٹ اور خوموش فضاء سے سیاحوں کے دل ودماغ تازہ ہوجاتے تھے لیکن آج سیاحتی مقام پر گاڑیوں کا دھواں اور شوروغل سے سکون ختم ہوگیا ہے اور اگر اس صورتحال پر قابو نہیں پایا گیا تو اگلے چند برسوںمیں سیاح پہلگا م جانا ہی چھوڑ دیں گے۔ اس ضمن میں ماہرین ماحولیات نے کہا ہے کہ پہلگام سے دور کسی جگہ گاڑیوں کو روک دیا جانا چاہئے اور وہاں سے سیاحتی مقام تک الیکٹرک گاڑیوں ، آٹو رکھشا?ں کا استعمال کیا جانا چاہئے تاکہ کاربن کا کم سے کم اخراج ہو۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر میں پہلگام ایک ایسی جگہ ہے جو جموں کشمیر میں سب سے خوبصورت اور پْر فضاء جگہ مانی جاتی ہے اور اس صحت افزاء مقام کی سیر کرنے کیلئے نہ صرف ملک بلکہ بیرون ممالک سے بھی لوگ آتے ہیں تاہم آج کل کے دور میں سیاحتی مقام پہلگام میں گاڑیوں کا شور ، دھواں اور گوبر نظر آتا ہے جس کی وجہ سے اس صحت افزاء مقام کی افادیت ہی ختم ہوجاتی ہے اور خوبصورت جگہ آلودگی کی نظر ہوجاتی ہے۔ وی او آئی نمائندے امان ملک کے ساتھ برطانیہ کے ایک سیاح میکی جانسن نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 1980 کی دہائی میں یہاں اپنی فیملی کے ساتھ آیا کرتے تھے اْس وقت یہاں پر نہ اتنے ہوٹل اور ناہی رہائشی مکانات تھے اورناہی گاڑیوں کاشوروغل تھا۔ ہم برطانیہ کے مصروف بازاروں کے شورو غل سے دور اس جگہ سکون کے ساتھ ایک ایک مہینے رہتے تھے اور اْس وقت یہاں پر پرندوں کی آوازیں ہماری کانوں میں گونجتی تھی اورہر طرف خاموشی ہوا کرتی تھی جس سے ہمیں ذہنی و قلبی سکون مئیسر ہوتا تھا لیکن آج یہاں پر بازاروں میں لوگوں کا رش، گاڑیوں کا شور، دھواں اور گوبر دکھائی دیتا ہے اور ناہی یہاں پر اگر اْن پردنوں کی آوازیں کانوں میں سنائی دیتی ہے اور ناہی وہ خاموشی ہے۔ا نہوںنے بتایا کہ دہلی ، میں جو گاڑیوں کا شور ہوتا ہے وہیں اب پہلگام کے اڈوں پر بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ دریں اثناء ماہرین ماحولیات نے اس ضمن میں نمائندے کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ اگر اس صحت افزا ء مقام کو فضائی آلودگی سے بچانا ہے تو پہلگام کے مین مارکیٹ سے قریب پانچ کلو میٹر پہلے ہی تمام گاڑیوں کیلئے اڈہ قائم کیا جانا چاہئے اور وہاں سے پہلگام مارکیٹ تک الیکٹرک گاڑیاں اور آٹو رکھشا چلائے جانے چاہئے تاکہ اس جگہ کو فضائی آلودگی سے بچایا جاسکے۔ انہوںنے بتایا کہ اگر اس ضمن میں جلد ہی اقدامات نہیں اْٹھائے گئے تو اگلے چند برسوں کے بعد یہاں پرکوئی سیاح نظر نہیں آئے گا۔