بی جے پی بے نقاب ہو گئی‘سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی
نئی دہلی: الیکٹورل بانڈ اسکیم پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر راجیہ سبھا کے رکن اور سینئر وکیل کپل سبل نے کہا ہے کہ یہ حکومت کا ایک طرح کا گھوٹالہ تھا۔ بی جے پی کو الیکٹورل بانڈ سسٹم کے ذریعے بڑے پیمانے پر چندہ مل رہا تھا۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد بی جے پی پوری طرح بے نقاب ہو گئی ہے۔ سپریم کورٹ کاآج کا فیصلہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ نہ صرف کسی سیاسی پارٹی کیلئے بلکہ جمہوریت اور اس ملک کے شہریوں کیلئے امید کی ایک بڑی کرن ہے۔ یہ پوری اسکیم جو میرے آنجہانی دوست ارون جیٹلی کے دماغ کی اختراع تھی واقعتاً بی جے پی کو مالا مال کرنے کیلئے بنائی گئی تھی کیونکہ سبھی جانتے تھے کہ بی جے پی اقتدار میں ہے اور الیکٹورل بانڈ اسکیم کے ذریعے کوئی بھی چندہ بی جے پی کو ہی ملنا تھا لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس الیکٹورل بانڈ اسکیم کا انتخابات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔کپل سبل نے مزید کہا کہ یہ دراصل کارپوریٹ سیکٹر اور بی جے پی کے درمیان گٹھ جوڑ تھا جس سے بی جے پی نے سب سے زیادہ چندہ حاصل کیا اور اس دوران اسے جو چندہ ملا وہ تقریباً 5 سے 6ہزار کروڑ روپے ہے جس کا استعمال انتخابات میں بالکل نہیں کیا جائے گا۔ وزیر اعظم کہتے رہتے ہیں کہ گھوٹالہ کہاں ہے؟ گھوٹالہ کہاں ہے؟ مودی جی اب گھوٹالہ آپ کی آنکھوں کے سامنے ہے اور یہ ایک سرکاری گھوٹالہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس سے ہمیں فنڈنگ کرنے والوں اور ملک کی سیاست کے درمیان تعلق کا پتہ چلے گا کیونکہ کوئی بھی کسی نعم البدل کے طور پر اتنی بڑی رقم عطیہ نہیں کرتا۔ کوئی 10 لاکھ یا 15 لاکھ روپے کا الیکٹورل بانڈ نہیں دے گا۔ یہ رقم کروڑوں روپے میں ہے۔ اگر آپ نے اپنی سیاسی پارٹی کو 5000 کروڑ روپے کا فنڈ دیا ہے تو آپ تصور کر سکتے ہیں کہ یہ کام صرف امیر ہی کر سکتے ہیں اور اس کے بدلے میں انہیں کچھ نہ کچھ حاصل ہوا ہوگا۔










