منشیات کی وباء کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے سماج کے تمام طبقوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت / سنجے صراف
سرینگر // روایتی سیاسی جماعتوں کو دفعہ370 اور35اے کی واپسی پر جذباتی طور پر لوگوں کو ورغلانے کا سلسلہ بند کرنے کی صلاح دیتے ہوئے راشٹریہ لوک جن شکتی پارٹی کے جنرل سیکریٹری سنجے صراف نے کہا کہ یہ معاملہ ختم ہوچکا ہے اور اس پر بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ سی این آئی کے مطابق سرینگر میں پریس کانفرنس کے دوران راشٹریہ لوک جن شکتی پارٹی کے جنرل سیکریٹری سنجے صراف نے منگل کو دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ دفعہ370اور 35اے کا معاملہ ختم ہوچکا ہے،اور اس پر اب سیاسی جماعتوں کو سیاست کرنا بند کرنی چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی طرف سے اس خصوصی حیثیت کو منسوخ کیا گیا اور بعد میں علاقائی جماعتوں نے عدالت سے رجوع کرکے اس فیصلے پر مہر بھی ثبت کروا دی۔ صراف نے کہا کہ اب ان سیاسی جماعتوں کو بھی لوگوں کے جذبات کے ساتھ استحصال کرنا بند کرنا چاہے کیونکہ ان جماعتوں کے لیڈروں کو بھی علم ہے کہ،جن مدعوں پر گزشتہ70برسوں سے انہوں نے عوام کو دھوکہ دیا،ان سے اب ہوا نکل چکی ہے۔ صراف نے کہا کہ دفعہ 370کی واپسی کیلئے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اکثریت کے بعد صدر کی منطوری لازمی ہے،اور یہ ناممکن ہے کہ کوئی جماعت اس کو واپس لا سکتی ہیں۔ صراف نے ان سیاسی جماعتوں کو مشورہ دیا کہ وہ عام لوگوں کے مسائل و مشکلات کو حل کرنے کے مدعوں پر بات کریں اور اس میں اپنا وقت اور تونائی صرف کریں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ بھی اب ان سیاسی جماعتوں کے ہتکھنڈوں سے واقف ہوچکے ہیں اور انہیں بھی یہ بات معلوم ہوگئی ہیں کہ یہ روایتی سیاستی جماعتیں ایک بار پھر انکے جذبات اور احساسات کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی تاک میں ہیں،تاہم لوگ انہیں بروقت جواب دینگے۔وادی میں منشیات کی لت میں اضافے کو اصل تشویش قرار دیتے ہوئے ایل جے پی کے قومی ترجمان نے کہا کہ اس وباء کو اکھاڑنے کیلئے سماج کے تمام طبقوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ وادی میں نوجوان نسل اس زہر کی وجہ سے ختم ہو رہی ہے،جبکہ منشیات کے سوداگروں کی نکیل کسنے کی ضرورت ہے۔ صراف نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے بچوں کا خیال رکھے اور انکی کڑی نگہداشت کریں۔انہوں نے علمائے کرام اور دیگر مذاہب کے علمبرداروں، اہل دانش اور رباب حل و عقد سے بھی اپیل کی کہ وہ منشیات کا قلع قمع کرنے اور نوجوان نسل کو اس سے دور رکھنے میں اپنا رول ادا کریں۔ سنجے صراف نے کہا کہ جموں کشمیر کے ہر حصے میں منشیات کے سوداگروں کے خلاف کریک ڈائون کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انکے نیٹ ورک کو تباہ کیا جائے۔ سنجے صراف نے راشٹریہ لوک جن شکتی پارٹی کو جموں کشمیر میں ایک موثر آواز قرار دیتے ہوئے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ لوگوں کے مسائل کو ارباب اقتدار تک پہنچانے میں پیش پیش رہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ جوق درجوق میں آر ایل جے پی میں شامل ہو رہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگوں کو اس جماعت کے منشور اور لیڈرشپ پر اعتماد ہے۔ صراف نے واعدہ کیا کہ کسی بھی مرحلے پر لوگوں کے اس بھروسے اور اعتماد کو توڑا نہیں جائے گا بلکہ ہاتھ سے ہاتھ ملا کر لوگوں کے مسائل کو حل کرنے میں انکی جماعت ہمیشہ ایک وکیل کے طور پر کام کرکے مرکز اور جموں کشمیر کے درمیان ایک پل کی حیثیت سے کام کرے گی۔سنجے صراف نے تاہم واضح کیا کہ پارٹی میں نظم شکنی کو کسی بھی طور پر برداشت نہیں کیا جائے گا اور پارٹی لٰیڈرشپ ان لوگوں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائے گی جو پارٹی کی ساخت کو مظبوط بنانے کے بجائے اس کو کمزور کرینگے۔ صراف نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ ہمہ وقت پارٹی کا منشور لوگوں تک پہنچانے میں مشغول رہیں،اور کسی بھی طرح کے انتخابات کیلئے تیار رہیں۔ پریس کانفرنس کے دوران ہی شیو سینا سے وابستہ درجنوں کارکنوں نے راشٹریہ لوک جن شکتی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ان میں منظور احمد ملہ،انچارج سینٹر کشمیر، نثار احمد لون، سٹیت سیکریٹری کشمیر، شبیر احمد بیگ آرگنائزر کشمیر، فیاض احمد زرگر ضلع صدر گاندربل، گلزار احمد ڈار ضلع صدر سرینگر، منظور احمد ڈار ضلع صدر بڈگام،محمد آصف ضلع صدر بانڈی پورہ،منیر احمد وانی ضلع یوتھ صدر سرینگر، آزاد احمد وانی،ضلع یوتھ صدر،،محمد امین وانی ضلع یوتھ صدر بانڈی پورہ،محمد اشرف وانی ضلع جنرل سیکریٹری سرینگر، بلال احمد بٹ،ضلع جنرل سیکریٹری گاندربل، بشیر احمد وانی ضلع سیکریٹری، مدثر احمد ڈار ضلع جنرل سیکریٹری بڈگام،میمونہ،شہنواز احمد بٹ،محمد یوسف گنائی وغیر نے شمولیت کا اعلان کیا۔پریس کانفرنس میں ابرار احمد،لیاقت علی ڈار،یاسیر اور ارشد احمد بھی موجود تھے۔










