اٹلی:غیرت کے نام پر بیٹی کے قتل میں ملوث والدین کو عمرقید کی سزا

اٹلی کی عدالت نے شادی کے لیے پاکستان جانے سے انکار پر اپنی 18سالہ بیٹی کو قتل کرنے والے والدین کو عمر قید کی سزا سنا دی۔خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اٹلی کے شہر ریجیو امیلیہ میں عدالت نے مقتول لڑکی کے والد شبر عباس پر فرد جرم عائد کی تھی جبکہ مقتولہ کی والدہ اب تک مفرور ہیں۔ عدالت نے لڑکی کے والدین کو عمر قید اور چچا کو 14سال قید کی سزا سنائی جبکہ مقتولہ کے دو کزنز کو بری کردیا۔ منگل کو عدالت میں لڑکی کے والد روتے ہوئے اپنی بے گناہی پر مصر رہے۔انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹرائل نامکمل ہے، میں بھی جاننا چاہتا ہوں کہ میری بیٹی کو کس نے قتل کیا۔ثمن عباس نے اپنی طے شدہ شادی کے لیے پاکستان جانے سے انکار کردیا تھا اور اس کے بعد اپریل 2021 میں وہ لاپتا ہو گئی تھیں۔لڑکی کے والد شبر عباس کو گزشتہ سال نومبر میں پنجاب میں ایک گاؤں سے بیٹی ثمن عباس کو قتل کرنے کے شبے میں گرفتار کیا گیا تھا۔نوعمر لڑکی کی گمشدہ ہونے کے 18ماہ بعد دانتوں کے ریکارڈ سے شناخت اس وقت ہوئی تھی جب شمالی اطالوی قصبے نوویلارا میں اس کے خاندانی گھر کے قریب سے انسانی باقیات برآمد ہوئی تھیں۔استغاثہ کا خیال ہے کہ خاندان کو اس وقت غصہ آیا جب انہیں پتا چلا کہ ثمن عباس کا اٹلی میں بوائے فرینڈ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ لڑکی کو اس وقت قتل کیا گیا ہو گا جب وہ کچھ دن سماجی خدمات کے مرکز میں رہنے کے بعد کچھ دستاویزات جمع کرنے گھر گئی تھیں۔تاہم مقتولہ کے والد نے اس بات کی تردید کی تھی کہ ان کی بیٹی مر گئی ہے جبکہ لڑکی کے چچا کو اس کے دو کزنوں کے ساتھ مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے فرانس کے حوالے کر دیا گیا تھا۔
متاثرہ لڑکی نے 2020 میں پاکستان میں اپنے کزن سے شادی کرنے کے اپنے خاندان کے فیصلے کے خلاف بغاوت کی تھی جس کے بعد نومبر 2020 میں انہیں اٹلی کی سوشل سروسز نے شیلٹر ہوم میں منتقل کیا تھا، مگر اپریل 2021 میں وہ اپنے والدین کے پاس واپس چلی گئی تھیں۔ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق عباس کے قتل میں ملوث والدین، چچا اور دو کزن قتل کے بعد اٹلی سے نکل گئے تھے مگر لڑکی کو قتل کرنے والے ان کے چچا کو ستمبر 2021 میں پیرس سے گرفتار کیا گیا تھا جبکہ ایک چچا زاد بھائی پہلے ہی جیل میں تھے۔لڑکی کے والد شبیر عباس کو پنجاب سے گرفتار کیا گیا تھا اور رواں سال ستمبر میں انہیں اٹلی کے حوالے کردیا گیا تھا۔پولیس کی جانب سے جاری سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جس دن لڑکی غائب ہوئی،اس کے اگلے دن لڑکی کے خاندان کے تین افراد کو پھوڑوں اور ایک نیلے رنگ کے بیگ کے ساتھ چلتے دیکھا جا سکتا ہے۔پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق لڑکی موت ممکنہ طور پر گلا گھنٹنے سے ہوئی جبکہ اس کی گردن بھی ٹوٹی ہوئی تھی۔