رشید پروین
جھپٹنا، پلٹنا پلٹ کر جھپٹنا بقول اقبالؔ لہو گرم رکھنے کا ایک طریقہ ہے اور سیاسی طور پر اپنے میدان میں وارم اپ کے لئے سیاسی لیڈراں ایک دوسرے پر شدید تنقیدیں بھی کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو موردِ الزام بھی ٹہھراتے ہیں ،،جموں و کشمیر کے سیاسی افق پر ابھی تک اگرچہ انتخابات کی گھٹائیں نظر نہیں آتی لیکن ایسا لگتا ہے کہ پارلیمنٹ کے لئے مختلف پارٹیوں نے ’’فرنڈلی میچ ‘‘شروع کئے ہیں ، فرنڈلی اس لئے کہ ان پارٹیوں کے خدوخال ایک دوسرے سے بڑی حد تک ملتے جلتے ہیں اور کسی کے پاس کوئی نیا مال بیچنے کے لئے بھی نہیں ۔وہی روائتی میدان ہے ، وہی گیم رولز ہیں بس ریفری اور کھلاڈیوں میںکچھ نئے کھلاڑی شامل ہیں ۔پھر بھی ایک دوسرے پر نشانہ تاکتے رہتے ہیں ،اور سچویشن بڑی دلچسپ بنتی ہے ، جب یہ اپنے تیر و نشتر سے ایک دوسرے کو زچ کرنے کی کوششیں کرتے ہیں ، ابھی ابھی ایک حالیہ بیان میں نیشنل کانفرنس کے نائب صدر جناب عمر عبداللہ نے ’’اپنی پارٹی ‘‘کے سربراہ محترم الطاف بخاری سے اپنے ایک جلسے میں سوال پوچھا ہے کہ ، ’’۵ اگست ۲۰۱۹ کے بعد یہ صاحب جیل کی سلاخوں کے پیچھے کئے جانے کے بجائے آزاد کیوں گھوم رہے تھے‘؟‘ ، اور جب کہ تمام لیڈر حضرات پابند سلاسل ہوئے تھے یہ صاحب نہ تو نظر بند ہوئے اور نہ انہیں کسی قید خانے کی ہوا ہی کھانی پڑی ، ایسا کیوں تھا؟ دراصل عمر کا یہ بیان سید الطاف بخاری کے اس بیان کا ردِ عمل تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’ نیشنل کانفرنس ہی کشمیر کی نا ساز گار صورتحال کی ذمہِ دار ہے ‘‘ دونوں بیانات دلچسپ ہیں جنہیں اپنے اپنے پس منظروں میں دیکھنا لازمی ہے ، ،،،کیا یہ حیرت انگیز اور متحیر کر دینے والی بات نہیں کہ این سی ، پی ڈی پی ، پیپلز کانفرنس اور اس کے ساتھ اور بھی جتنی مینسٹریم پارٹیاں کشمیر میں ہیں ان سبوں کو ۵ اگست کے بعد قیدو بند کے دن گذارنے پڑے، ۔نظر بند کیا گیا اور ان کے ساتھ ساتھ اکثر و بیشتر ان کے ار اکین جیل کی صعوبتوں کا شکار ہوئے ، علیحدگی پسندوں کی بات نہیں کریں گے ، لیکن ،، فاروق عبداللہ ، عمر عبداللہ ۔محبوبہ مفتی کا اور ان کے بہت سارے ساتھیوں کانظر بند ہونا ساری دنیا اور بھارت واسیوں کے لئے خصوصی طو ر ۔ سوائے ایک مخصوص سیکٹ کے ناقابل فہم قدم تھا کیونکہ یہ حقیقت تا ریخی شواہد کے ساتھ موجود ہے کہ شیخ خاندان ہی نے ہندوستان کو جموں و کشمیر کو اپنی انتھک محنت اور اپنے عوام کی مرضی و منشا کے خلاف پلیٹ پر سجاکر تحفے کے طور دیا تھا اور پھر مفتی محبوبہ نے عوامی منڈیڈیٹ کے خلاف بی جے پی کے ساتھ اشتراک میں سرکار بنا کر یہاں زعفرانی فصل کی آبیاری کی ، مطلب یہ کہ زعفرانی فصل کی سینچائی اور ریکھ دیکھ کے بعد بی جے پی نے محبوبہ کو ایک د م ان کھیتوں سے بے دخل کیاتھا ۔
ایسے دوست اور وفادار ۔ سرکار سے معتوب ہوئے ،انہیں حاشیوں پر بھی آنے سے روکا گیا ، ان پر چھاپے ڈالے گئے ، ان کے خلاف چنلوں پر نفرت آمیز پروپگنڈے ہوئے ، انہیں دیش دروہی ، پاکستانی اور پاکستان کی بولی بولنے والے لوگ کہا گیا ، یہاں تک کہ اکثر و بیشتر اِن ہند نواز پارٹیوں کا مستقبل میں بھارت کے ساتھ ہمقدم ہوناکئی پہلوؤں سے مشکل ہی نظر آتا تھا ۔ رہی سید الطاف کی اپنی پارٹی تو اس کے متعلق یہ کہنا کافی ہوگا کہ ۔ ۵ اگست ۲۰۱۹ کے بعد کی پیداوار ہے ۔
سید الطاف بخاری جموں و کشمیر کے دولت مند ترین افراد میں شمار ہوتے ہیں ، ڈائیتھین کی وجہ سے بہت ہی معروف بزنس ٹائیکون ہیں ، پہلی بار سیاسی آسمان میں اس وقت طلوع ہوئے جب مفتی مر حوم نے پی ڈی پی کی سنگ بنیاد ڈالی تھی ، امیرا کدل حلقے سے ۲۰۱۴ میں پہلی بار الیکشن لڑا اور جیت کرپی ڈی پی ہی میں منسٹری کے پد پر فائض ہوئے۔
مفتی کی موت کے ساتھ ہی ایجنڈا آف الائینس کو عملانے کے سلسلے میں بی جے پی اور محبوبہ مفتی میں اختلافات پیدا ہوئے تھے ، اور اس اختلافی دور میں غلام محمد شاہ کی طرز پر ایک نئی سرکار بنانے کاعندیہ دیا گیا، لیکن محبوبہ مفتی نے اس منصوبے کو انجام تک پہنچنے نہیں دیا اور بغیر کسی شرط و شروط کے چیف منسٹری کا پد قبول کیا تھا ، اس طرح محبوبہ مفتی ۴ اپریل ۲۰۱۶ سے ۲۰جون ۲۰۱۸ تک جموں و کشمیر کی چیف منسٹر رہیں ، کچھ مدت تک اپنی نئی حکومت میں سید الطاف کو محبوبہ نے منسٹری کے پد سے دور رکھا لیکن چھوٹی سی مدت کے بعد ہی انہیں پھر سے ایک بار اسی سرکار میں ایجوکیشن منسٹری پر فایض کیا ۔اپنی تمام وفاداریوں کے باوجود بی جے پی نے اچانک محبوبہ سرکار گرادی تھی ، ظاہر ہے کہ سیاسی بیک گراونڈ نہ رکھنے کے باوجود الطاف صاحب سیاسی پینترے بازی اور سیاسی قلابازیوںکے ماہر ہیں۔ ۸ مارچ دو ہزار بیس کو ’’اپنی پارٹی ‘‘لانچ کی ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کانگریس نے اس نئی پارٹی کو۔ ( زعفرانی پارٹی)، نیشنل کانفرنس نے اسے( دہلی کی تخلیق) اور پی ڈی پی نے اس سے (بی جے پی) کی بی ٹیم کے نام سے موسوم کیاتھا ۔ ۔مگر ان باتوں میں کوئی خاص وزن اس لحاظ سے نہیں کہ نیشنل کانفرنس ،اور پی ڈی پی جو یقینی طور پر علاقائی پارٹیاں ہیں مرکزی سرکار کی باجگذار اور زیر سایہ ہی کام چلاتی رہی ہیں۔اور مرکز کی خوشنودی کے بغیر کوئی بھی پارٹی یہاں مسند اقتدار کا تصور نہیں کرسکتی ۔یہ دونوں پارٹیوں کا مختصر سا بیک گراونڈ ہے اور دیکھا جائے تو این سی ،پی ڈی پی اور ’’اپنی پارٹی‘‘ کے منشور میں بھی اب کوئی نئی بات نہیں ، اور تینوں پارٹیوں کا مال بھی جو ،ان دکانوں میں رکھا ہے ایک جیسا ہی ہے ، اور تینوں پارٹیاں مقامی ہیں ۔
عمر عبداللہ کے اس بیان کے جواب میں سید الطاف بخاری نے کچھ عجیب سی یا حیران کن بات کہہ دی ہے جس سے سیاسی طور بالغ لوگ بہت پہلے سے جانتے اور سمجھتے ہیں لیکن کشمیر کی اکثریتی آبادی یاتو نہیں جانتی یا نہیں مانتی ہے ،، بہر حال انہوں کہا ہے ’’ کچھ باتوں پر اگر پردہ ہی رہے تو بہتر ہے ،، کیونکہ ان سے یعنی عمر عبداللہ سے بہتر کون جانتا ہے کہ وہ کہاں ہیں اور کون ہیں؟ ‘‘اب اس بیان کا تھوڑا سا تجزیہ کیا جائے تو اس جملے میں کشمیر کی ایک پوری تاریخ چھپی نظر آتی ہے ۔یہ وہی تاریخ ہے جو ۱۹۴۷ سے پہلے اس وقت سے شروع ہوئی تھی جب کشمیر میں مسلم کانفرنس کو نیشنل کانفرنس میں ڈھال کر ان راہوں پر قدم رکھے گئے تھے جس کی منزل اس کے سوا کچھ ہوہی نہیں سکتی تھی جہاں آج ہم ہیں ، اس بیچ کئی ایکارڈ اور آخر ۱۹۷۵ کا اندرا عبداللہ ایکارڈہوا جس کی رو سے شیخ محمد عبداللہ کو کمزور سی ناتواں سی چیف منسٹری کا پد سونپا گیا تھا ، آتے آتے فاروق اور پھر عمر کا دور ، ان سب ادوار کی تاریخ سے بلکل عیاں ہے کہ یہ سب لوگ مرکز کی مہربانیوں پر ہی جیتے رہے اور چیف منسٹروں کے پد پر فائض ہوتے رہے ،اور آگے بھی مرکزی سرکار کی مرضی کے بغیر یہاں اقتدار حاصل نہیں کیا جاسکتا ، تو الطاف صاحب یہی کہنا چاہتے ہیں ۔ اور عمر صاحب کو یاد دلانا چاہتے ہیں وہ کوئی ہٹ کرچیز نہیں ہے، ہمیں یعنی الطاف صاحب کو معلوم ہے کہ وہ کس مقام اور کہاں اور کس چشمے سے پانی پیتے ہیں تو بہتر ہے کہ ان چشموں کو راز ہی رکھا جائے ، جو۔ اب اس سوشل میڈیا کے زمانے میں بہت مشکل ہوتا جارہا ہے ، بہر حال یہ الزام تراشیاں اور تنقید جمہوری نظام میں لازم سمجھی جاتی ہیں ، یہاں ایک کیا کئی کئی پارٹیوں کا چشمہ پردوں کے پیچھے ایک ہی ہوتا ہے جس میں سے کسی کو آگے اور باقی سب کو بھی ونٹی لیٹر پر رکھ کر زندہ رکھا جاتا ہے تاکہ بوقت ضرورت ان سے کام لیا جائے۔
پچھلے کئی ہفتوں سے ایسا لگتا ہے کہ سیاسی پارٹیاں متحرک ہوچکی ہیں جس میں یہ دونوں پارٹیاں شامل ہیں ، عمر عبداللہ کی قیادت میں پارٹی نے ہر حلقے میں ’’ عوامی رابطوں ‘‘ کے پروگرام ترتیب دئے ہیں اور اس کا آغاز گلمرگ حلقے سے کیا ہے اور دوسری طرف ان کی حریف ’’اپنی پارٹی ‘‘ نے بھی اس طرح کے جلسے جلوسوں کا اہتمام شروع کیا ہے اور اپنا پہلا جلسہ اوڑی میں کر چکے ہیں ، اب کی بار کسی پارٹی کے پاس کوئی خاص بیانیہ نہیں ہے جس سے آگے بڑھا کر اپنے آپ کو وؤٹ کا مستحق قرار دیتے ، اس لئے یہ لوگ کھل کر ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنے سے کوئی دریغ نہیں کر رہے بلکہ وہ سب بتانے لگے ہیں جو کبھی سیاسی راز سمجھے جاتے تھے اور اب ان رازوں سے بلا جھجھک پردے اٹھائے جا رہے ہیں ، این سی اپنی شروعات سے ہی یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی رہی ہے کہ وہ اکیلی کشمیری عوام کی وہ پارٹی ہے جو کشمیری عوام کے بنیادی حق ان کے حقوق ان کی امنگوں اور آزرؤں کی علمبردار ہے۔
جو تاریخی حقائق ہیں یا نہیں لیکن اس بار بھی شاید این سی کو کشمیر ی عوام کا وؤٹ ملے کیونکہ عوام چاہے گی کہ کچھ نہیں تو کم سے کم اس پارٹی کو ہی وؤٹ کریں جو مقامی بھی ہو ، بڑی بھی ہو اور جو کشمیر میں ہر جگہ اور گاؤں میں موجود ہو اور این سی کے بغیر ابھی ایسی کوئی دوسری پارٹی نہیں ،جس سے لوگ بی جے پی کے مقابلے میں وؤٹ دینا نفسیاتی طور پربہتر تصور کریں گے ۔ اس کے باوجود کہ این سی اور پی ڈی پی اپنے اپنے ادوار میں مرکزی سرکاروں کے گماشتوں کی حثیت سے ہی کام کر تی رہی ہیں اور جانتی ہیں کہ عوامی وؤٹ کے باوجود وہ مرکزی منشا کے بغیر یہاں مسنداقتدر پر براجمان نہیں رہ سکتی ہیں ،،،










