غریبوں کاآشیانہ تعمیرکرنا خواب بن گیا

وادی کشمیر میںتعمیراتی سامان کی قیمتیں عام شہری کی قوت خرید سے باہر ہوتی جارہی ہے اینٹ ،ریت ،بجری ،بولڈر ،مٹی کے لئے سرکار نے کوئی نرخ مقررنہیں کیاہے اگرکیاہے تو اس پر کہی بھی عمل نہیں ہوپارہاہے۔ ہارڈ ویئر سامان فروخت کرنے والے بھی عام آدمی کودو دو ہاتھوں لوٹنے میںکوئی کسرباقی نہیں چھوڑرہے ہیں ۔سال 2020میں اس وقت کے چیف سیکریٹری اور 2021میں اپنانیا عہدہ سمبھالنے کے بعدموجودہ چیف سیکریٹری ڈاکٹرارون کما ر مہتا نے جموںو کشمیرمیںبالعموم اور وادی کشمیرکے تمام ڈپٹی کمشنروں کوہدایت کی تھی کہ تعمیراتی سامان جن میں اینٹ ،بجری، ریت، مٹی اور دوسری اشیاء شامل ہے ا سکانرخ مقررکیاجانا چاہئے اور اسپرمن وعن عمل کرائی جانی چاہئے ۔چیف سیکریٹری کی جانب سے ہدایات ملنے کے بعد اگرچہ ڈپٹی کمشنروں نے پہلی کی تھی کہ اینٹ بٹ مالکان کے ساتھ اینٹوں کانرخ مقرر کیاجائے تاہم اینٹ بھٹ مالکان او رضلع انتظامیہ کے درمیان کسی بات پر اتفاق نہیں ہوا اور آئندہ کی میٹنگ میں ا س مسئلے کوحل کرنے پراتفاق کیاگیاتاہم ہوآئیندہ کاہفتہ نہ آیا اورنہ ہی تعمیراتی سامان کو نرخ مقررکرنے کے لئے اقدامات اٹھائے گئے ۔وادی کشمیرکے اطراف واکناف میں اینٹ بھٹ مالکان ریت، بجری، بولڈر اور مٹی فروخت کرنے والوں نے جو لوٹ کھسوٹ کابازار گرم کیاہے ا سنے ماضی کے تمام ریکارد توڑدیئے ہے غریب اب صرف آشیانہ تعمیر کرنے کاخواب دیکھ سکتاہے اور ا سکایہ خواب موجودہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کومد نظررکھتے ہوئے کبھی پور انہیں ہو گا۔وزیراعظم آواس یوجنا کے تحت ایک غریب کوایک لاکھ سے زیادہ کی رقم مکان تعمیرکرنے کے لئے فراہم کئے جاتے ہے جسے رہائشی مکان کی اینٹیں بھی پوری نہیں ہوسکتی ہے اب غریب آشیانہ صرف خواب میںبناسکتاہے عملی طور پر کبھی نہیں ۔