جموں و کشمیر میں تقریبا گذشتہ تین برسوں میں مسلسل نامساعد حالات اورلاک ڈاون سے اقتصادی صورتحال مجموعی کافی متاثر ہوئی ہیں۔ محنت کش طبقے سے وابستہ ہزاروں افراد روزگا ر کے اعتبا ر سے کافی حد تک متا ثر ہو ئے ہیں۔کوروناوائرس کے پھیلائو کے بعد حکو مت کی جانب سے ان محنت کشوں کے لئے روزگار کے مواقع مسدود ہو کر رہ گئے ہیں اوران محنت کشوں کی ایک بڑی تعداد کو روز گار سے محروم ہو نا پڑا ہے۔یہاں دستکا روں ،کاریگروں،ہنر مندوں اور دیگر قسم کے محنت کشوں کی ایک بڑ ی تعداد آبا د ہے اور گزشتہ دو سال سے ان لوگوں کو کھا نے کے لا لے پڑ ے ہیں کیونکہ ان کی ما لی حالت مسلسل کشیدہ اور دگر گوں ہو رہی ہے۔جموں و کشمیر میں کام کرنے والے دستکاروںکی خاصی تعداد ملازمت پر اپنا روزگار کمارہے تھے ۔ لیکن کوڈ۔19 لاک ڈاون نے دوسرے مزدور طبقہ کے ساتھ ساتھ دستکاری شعبے پر انحصار کرنے والے ہزاروں خاندانوں کی بقا ء کو مشکل بنا دیا ہے۔ لوگ کشمیر میں ایک مضبوط وجود کی تلاش کر رہے ہیں۔ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور اپنے اہل خانہ کو کھانا کھلانے کے لئے کام نہیں ڈھونڈ سکتے ہیں۔ ہزاروں کاروباری افراد اپنے عملے کو تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کرسکتے ہیں اور نہ ہی انہیں اپنے کام پر رکھ سکتے ہیں۔خطے کے مزدور وں کی ایک خاصی تعداد جو موسم سرما کے مہینوں میں بھارت کی مختلف ریاستوں میں اور دیگر مقامات پر مزدوری کا کام تلاش کرنے جاتے تھے ، کوروناوائرس جیسی مہلک اور وبائی مرض کی وجہ سے پچھلے سیزنز میں نہیں جاسکے۔اسی طرح سیاحت اور ٹرانسپورٹ کی صنعت سے وابستہ افراد کو بھی پریشانیوں کا سامنا ہے ۔ غیر منظم شعبے میں لاکھوں افراد کے معاش کا خاتمہ ہوا ہے ۔اس صورتحال کے بارے میں وادی کے حساس افراد نے کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایاکہ وادی کشمیر کی موجودہ صورتحال دگر گوں اور ابتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات میں لوگ مالی بدحالی کے شکار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جن کی روزی روٹی متاثر ہوئی ہے انہیں مالی اعانت فراہم کرنے کے لئے ایک لائحہ عمل ترتیب دینے کی ضرورت ہے اس کے علاوہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں اورتاجروں کے لئے ایک سال کے لئے بینک کے قرضوں پر سودمیں رعایت دینا یا معاف کرنا لازمی بن گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حالات اس حدتک بگڑ چکے ہیں کہ تمام ضروری اشیاء کو شامل کرنے کے لئے عوامی تقسیم کے نظام کو بڑھایا جائے۔اس بحرانی صورتحال میں عوام کو عوامی تقسیم کاری نظام کے ذریعے مفت راشن مہیاکرنے کا سلسلہ جاری رکھنا چاہئے ، جن میں غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ موسم گرما کی فصل نہ صرف کاشتکاروں کے لئے اہم ہے بلکہ جموں و کشمیر کی معیشت کی ترقی کے لئے بھی اتنا ہی اہم ہے جس کا زیادہ تر انحصار زرعی اور باغبانی کے شعبوں پر ہے۔لیکن گذشتہ سال بارشوں ،طوفانی ہوائوں اور خشک سالی کے بعد سینچائی کیلئے پانی کی عدم دستیابی سے کھڑی فصلوںاور میوہ جات کو کافی نقصان پہنچاہے جس سے ان کی امیدوں پر پانی پھیر گیا ہے ۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اِنڈین سوسائٹی فارٹریننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کے جموں چپٹرکا اِفتتاح کیا
جے اینڈ کے وِکست یوتھ پارلیمنٹ۔2026
متعدد عوامی وفود نے وزیر جاوید رانا سے ملاقات کی
مشن سکل جموںوکشمیر کے ہنرمندی منظرنامے کو نئی شکل دے کر معاشی بااِختیاری کو فروغ دے گا۔نائب وزیراعلیٰ
چیف سیکرٹری کی جموںوکشمیرمیں ریکروٹمنٹ رولز میں مقررہ مدت کے اندر اِصلاحات پر زور
لیفٹیننٹ گورنر نے رام نومی کے موقعہ پر عوام کو مُبارک باد دِی
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے رام نومی کے موقعہ پر جموںوکشمیر کے لوگوں کو مُبارک باد دِی
سکینہ اِیتو کی رام نومی کے موقعہ پرجموںوکشمیر کے لوگوں کو مُبارک باد
جاوید ڈار نے لال منڈی سری نگر میں چھوٹے مویشیوں کے ہسپتال کمپلیکس کا اِفتتاح کیا
ایران کے لیے کیسے مصیبت بن گئے چینی کیمرے؟ جس کے سبب چلی گئی سپریم لیڈر کی جان










