ماضی کی سپر ماڈل، فیشن ڈیزائنر، پبلک ریلیشنز (پی آر) منیجر، آرٹسٹ و اداکارہ فریحہ الطاف نے اعتراف کیا ہے کہ ماڈلنگ کی دنیا میں کام کے بدلے نامناسب مطالبات عام بات ہیں اور بعض لوگ مجبوری میں ایسا کرنے پر مجبور بھی ہوجاتے ہیں۔فریحہ الطاف نے حال ہی میں ’میشن پی کے‘ کے ایک شو میں معروف ماڈل نادیہ حسین سمیت دیگر ابھرتی ہوئی ماڈلز کے ہمراہ شرکت کی، جہاں ماڈلنگ اور فیشن انڈسٹری پر کھل کر گفتگو کی گئی۔شو کے دوران نادیہ حسین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جیسے ہی کوئی خاتون خود کو بطور ماڈل متعارف کرواتی ہیں تو اسے غلط سمجھا جانے لگتا ہے، ان کے کردار پر شک کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ابھی تک خاتون ماڈلز کو غلط سمجھا جاتا ہے اور انہیں بھی غلط سمجھا جاتا تھا لیکن پھر انہوں نے ماڈل کے ساتھ اپنی شناخت کے لیے دوسری چیزں بھی کہنا شروع کیں۔پروگرام کے دوران ابھرتی ہوئی ماڈلز نے بھی کہا کہ اگرچہ اب فیشن انڈسٹری پہلے سے کافی بہتر ہے لیکن تاحال سماج میں ماڈلز اور خصوصی طور پر خواتین ماڈلز کے لیے خراب سوچ پائی جاتی ہے اور انہیں ان کے لباس اور انداز کی وجہ سے غلط سمجھا جاتا ہے۔شو کے دوران بات کرتے ہوئے فریحہ الطاف نے کہا کہ ماضی میں ماڈل گرل کا لفظ سنتے ہی لوگ خواتین ماڈلز کو غلط سمجھنا شروع ہوتے تھے۔ان کے مطابق 38 سال قبل جب انہوں نے ماڈلنگ شروع کی تب بولڈ لباس نہیں پہنا جاتا تھا لیکن اس باوجود خواتین کے کردار کو غلط سمجھا جاتا تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ خیال تک پایا جاتا ہے کہ ماڈل خواتین سے کوئی شادی نہیں کرے گا اور والدین کی جانب سے بھی بچیوں کو فیشن انڈسٹری میں جانے سے منع کیا جاتا ہے۔فریحہ الطاف نے انکشاف کیا کہ جب ان کی منگنی ہوئی تو ان کے سسرال والوں نے مطالبہ کیا کہ وہ ماڈلنگ چھوڑ دیں ورنہ رشتہ نہیں ہوگا لیکن انہوں نے ان کا مطالبہ نہیں مانا۔’کاسٹنگ کاؤچ‘ یعنی کام کے بدلے جنسی تعلقات کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں فریحہ الطاف نے کہا کہ یہ فیشن انڈسٹری کا حصہ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے ماڈلنگ ایجنسی قائم کی تو انہیں بہت ساری ڈیزائنرز کے فون آتے تھے اور انہیں کہا جاتا تھا کہ فلاں لڑکے کو شو کا حصہ بنائیں، فلاں کو نکالیں اور فلاں کے لیے جگہ بنائیں۔انہوں نے بتایا کہ انہیں نہ صرف لڑکوں بلکہ لڑکیوں کے لیے بھی کہا جاتا تھا اور لوگ انہیں پھول بھجواکر ان سے مطالبہ کرتے تھے کہ فلاں لڑکی کو شو کا حصہ بنائیں۔ان کے مطابق وہ ہمیشہ میرٹ پر ماڈلز کو بھرتی کرنا چاہتی ہیں لیکن انہیں ڈیزائنرز کے علاوہ دوسرے افراد کے بھی فونز آتے رہتے تھے کہ فلاں لڑکے یا لڑکی کو شو کا حصہ بنائیں۔انہوں نے کہا کہ فیشن اور ماڈلنگ انڈسٹری میں کام کے بدلے نامناسب مطالبات کیے جاتے ہیں اور بعض افراد ایسے مطالبے مان بھی لیتے ہیں۔ان کے مطابق خصوصی طور پر ماڈلنگ میں لڑکوں کے کام کرنے کے مواقع کم ہوتے ہیں، اس لیے وہ کبھی کبھار سمجھوتہ کرتے ہیں، کیوں کہ ان کا خیال ہوتا ہے کہ وہ ماڈلنگ میں آنے کے بعد اداکاری میں چلے جائیں گے۔










