rahul gandhi

کشمیر سے کنیا کماری تک نفرت کی سیاست لوگوں نے رد کردی

کرناٹک میں نفرت کا بازار بند ہوا، محبت کی دکانیں کھل گئیں۔راہل گاندھی

سرینگر// کانگریس کی نمایاں کارکردگی پر راہل گاندھی نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں نفرت کی سیاست نہیں چلے گی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ کشمیر سے لیکر کنیا کماری تک لوگوں نے نفرت کی سیاست کو رد کردیا ہے اور ہماری بھارت یاترا میں لوگ نے اس کا برملا اظہار کیا تھا جو آج ہم کرناٹک میں اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ چکے ہیں کہ ملک کو مذہب اور ذات پات پر تقسیم کرنے والوں کے ساتھ لوگ نہیں ہیں بلکہ جمہوریت اور بھائی چارے کو فروغ دینے والوں کے ساتھ لوگ ہیں۔ سی این آئی کے مطابق راہل گاندھی نے کہا کہ ’’ہم نے پانچ وعدے کیے تھے، کہا تھا کہ انہیں کابینہ کی پہلی میٹنگ میں پورا کریں گے، اور اب پھر کہتا ہوں کہ یہ وعدے پورے کیے جائیں گے۔‘‘کرناٹک اسمبلی انتخاب میں کانگریس کی نمایاں کارکردگی کے بعد پارٹی لیڈران میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ جیسے جیسے نتائج کا اعلان ہو رہا ہے، پارٹی لیڈران سامنے آ کر اپنی خوشی کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بھی پارٹی کی کامیابی پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اسے نفرت پر محبت کی جیت قرار دیا ہے۔ انھوں نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’کرناٹک میں نفرت کا بازار بند ہوا اور محبت کی دکانیں کھل گئی ہیں۔‘‘کرناٹک میں کانگریس کی شاندار جیت پر راہل گاندھی نے ریاستی عوام کے ساتھ ساتھ سبھی پارٹی لیڈران و کارکنان کو مبارکباد پیش کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’کرناٹک کے انتخاب میں کرونی کیپٹلزم کے پاور اور غریب عوام کی طاقت کے درمیان مقابلہ تھا۔ کانگریس کے ساتھ غریب عوام کی طاقت تھی اور اس طاقت نے پاور کو ہرا دیا۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’یہی اب ہر ریاست میں دیکھنے کو ملے گا۔کیوں کہ کشمیر سے کنیا کماری تک لوگوں نے نفرت کی سیاست کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے اور ہماری بھارت یاترا میں ہم نے دیکھ لیا کہ لوگ امن چاہتے ہیں لوگ بھائی چارہ چاہتے ہیں لوگ مذہب کے نام پر ملک کو باٹنا نہیں چاہتے ۔ کانگریس کرناٹک میں عوام کے ساتھ کھڑی ہوئی، غریبوں کے ایشوز پر ہم انتخاب لڑے۔ ہم نے نفرت سے یہ لڑائی نہیں لڑکی، محبت سے یہ لڑائی لڑی۔ کرناٹک کی عوام نے دکھا دیا کہ محبت اس ملک کو اچھی لگتی ہے۔‘‘راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں کانگریس کے ذریعہ کیے گئے ان پانچ گارنٹی کا بھی تذکرہ کیا جو کہ انتخابی ریلیوں میں بار بار پارٹی لیڈران کے ذریعہ دیئے جا رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم نے پانچ وعدے کیے تھے۔ کہا تھا کہ انہیں کابینہ کی پہلی میٹنگ میں پورا کریں گے، اور اب پھر کہتا ہوں کہ یہ وعدے پورے کیے جائیں گے۔‘‘