بــودا
حسن ساہو
احمد، اشرف، اشفاق اور احقر امروز
ہم چاروں نرسری سے آٹھویں جماعت تک ایک ہی اسکول میں پڑھ لکھ کر جوانی کی دہلیز کو چھونے میں کامیاب اُترئے تھے۔ ہماری دوستی کے چرچے بستی کے طول و عرض میں سننے کو ملتے!
ایک دن کھانے پینے کا سامان لئے بجرے میں جھیل ڈل کی سیر کرنے کا اتفاق ہوا۔ چار چناری کے سر سبز اور دل کش کنج میں دن کا کھانا تناول کرنے کے بعد مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال ہوتا رہا۔ باتوں باتوں میں غیر ارادی طو رطے پایا کہ ہم میں سے جس کے دل کے چمن میں محبت نام کی کھلی ِکھل اُٹھی ہو وہ مبالغہ آرائی کے بغیر اپنی رودار سنا کر جی کا بوجھ ہلکا کر دے۔
احمد نے دفعتاً فخریہ انداز اپناتے ہوئے سنایا کہ گائوں میں ماموں جان کی کوٹھی کے پچھواڑے ستار کا کا رہتے ہیں ۔ماموں جان کی پن چکی اور بادام باغ کی رکھوالی اس کی ذمہ داری تھی۔ ماموں جان لاولد تھے اور ستار کاکا کی بیٹی ریحانہ ممانی جان کے کام میں ہاتھ بٹایا کرتی تھی۔ ریحانہ متوازن خدوخال لئے خوبصورتی کا نمونہ تھی۔ ہم دونون دن گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے میں دلچسپی لینے لگے۔ البتہ شرافت و حیا کے لوازمات سے سرشار ہم اپنی چاہت کا برملا اظہار نہ کرسکے ،جس کانتیجہ یہ دیکھنے کوملا کہ والدین نے ریحانہ کو گھر کی زینت بنانے کی چاہ میں اس کی شادی میرے بڑے بھائی اختر سے طے کردی۔ مجھے جب ممانی کی زبانی یہ علم ہوا کہ اختر بھائی بھی ریحانہ کودل سے چاہتے ہیں تومیں نے چپ سا دھنے میں ہی عافیت جان لی۔
اب تو ریحانہ بھابھی کا چوغہ زیب تن کئے میرے آس پاس منڈلاتی رہتی ہے اور میں اس بات پر خوش کہ بھائی جان کی چاہت رنگ لائی۔
اشرف نے اپنی کہانی شروع کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنی ہمسائیگی میں قیام پذیر انجینئر آفاق احمد کی بیٹی دِلشادہ کو چاہنے لگا تھا۔ میرے ابو مولوی ریاض الدین سرکاری اسکول میں ٹیچر ہونے کے ساتھ ساتھ مقامی دینی مکتب میں بستی کے بچوں کو عربی پڑھاتے تھے۔ میں نے دلشادہ کے ساتھ دینی تعلیم کے علاوہ دنیوی تعلیم میٹرک تک حاصل کرلی… میں دلشادہ کو دل ہی دل میں چاہنے لگا۔ دل کے ہاتھوں مجبور ہوکرمیں نے اپنی چاہت سے ماں کو آگاہ کیا اور انہوںنے موقع دیکھ کر میرے والد سے بات کی۔ بات آگے بڑھانے کے بجائے والدصاحب نے مجھے سمجھانے کی کوشش کی کہ بڑے گھرانے والوں کی سوچ بھی اونچی ہوا کرتی ہے۔ بعد میں میری تشفی اور امی کے اصرار پر والد صاحب نے انجینئر صاحب سے تذکرہ چھیڑا۔ بدلے میںسننے کو ملا کہ انہو ں نے پاس والے گائوں کے زمیندار کے بیٹے عظیم کو داماد بنانے کا فیصلہ پہلے ہی لیا ہے۔ حالانکہ عظیم کے افراتفری و غنڈہ گردی سے لبریز واقعات زبان زد عام ٹھہرے یہ کہتے ہوئے اشرف کے ماتھے پر تشویش کے نقوش اُبھر آئے۔
اب اشفاق نے اپنی پریم کہانی سنانا شروع کر دی۔ میںنے گوالن کی بیٹی شرفو کو دل سے چاہا۔ خوبصورتی میں اُسکا جواب نہیں۔ سویرے دودھ دینے آجاتی ہے اور پھر کام میں ماں کا ہاتھ بھی بٹاتی ہے۔ یہ بھانپ کر کہ ماں بھی شرفو کو بہت چاہتی ہے ،میر ی محبت میں استحکام سمانے لگا اور آگے چل کر ہم دونوں ایک دوسرے کے قریب آتے گئے۔ میری خواہش کا مان رکھتے ہوئے ماں نے شرفو کے والدین سے بات کی البتہ انہوںنے صاف انکار کر دیا… ساتھ میں یہ بھی بتا دیا کہ شرفوکی شادی بچپن میں ہی خالہ زادہ بھائی اسحاق سے طے پائی ہے… شرفوخودکشی کر نے پرآمادہ البتہ اسحاق کو خاطر میں نہیں لاتی۔ وہ تو میرے ساتھ بھاگنے کو بھی تیارہے۔ مگر ایک بڑی رکاوٹ راستہ روکے ہے۔ شرفونابالغ ہے۔ ہم دونوں نے فیصلہ کیا ہے کہ بالغ ہونے پر عدالت میں جاکر شادی کو قانونی شکل دینگے۔
اب تینوں دوستوں کی نظروں کا نشانہ میںتھا۔
میںنے بتایا کہ اس بابت میں اناڑی ہوں
اس بیٹھک میں احقر ہی بڑا بودا ثابت ہوا۔
مجھے لے دے کے بزدل قرار دیا گیا۔
اس دن کے بعد میں اپنے آپ کو کوسنے لگا۔
پڑھائی میںدل نہیں لگتا۔
اور سوچنے لگا کہ میں کسی سے محبت کیوں نہیں کرتا۔
…ایک دن باجی کی بیٹھک میں کتابوں کی ورق گردانی کر رہا تھا۔ اسی وقت رضیہ کو اندر آتے دیکھا۔ رضیہ رحیمن بوا کی خوبصورت بیٹی اور گھر کے کام میں اماں کاہاتھ بٹا تی تھی ابا اور امی رضیہ کو بہت پیار کرتے تھے۔
تھوڑی دیر کچن کا کام نپٹاکر برآمد ے میں آئی۔
میں نے حوصلے کے دامن کو پکڑ ے دھیرے سے کہا
’’رضیہ ذرا ایک بات سن لو‘‘۔
وہ بے جھجک اندر آگئی۔ میں نے لاابالی پن میں اُس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیا اور بہ مشکل کہا
’’ رضیہ میں تم سے پیار کرتا ہوں‘‘
اس کے آگے میں کچھ نہ کہہ سکا۔ سارا بدن پسینہ پسینہ !
ڈر سے میری چھاتی دھک دھک کر رہی تھی۔
رضیہ نے میری جانب تعجب سے دیکھا اور رونے لگی۔
میرے ہوشن اڑ گئے اورلگا خوشامدکرنے۔
’’رضیہ معاف کر دو مجھ سے بھول ہوگئی۔
میںاب تم سے محبت نہیں کروں گا‘‘۔
ا س پر وہ معصومیت سے بولی
’’ امروذ بابو میں تمہاری شکایت چاچی سے کروں گی‘‘۔
رضیہ نے ماں سے شکایت کی یا نہیں البتہ میرا حال بُرا ہوا۔
اس کے بعد ڈر کے مارے ماں کے سامنے جانے کی ہمت نہ ہوتی تھی۔
کچھ دن گذرے۔ دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر سوچاکہ دل کا حال ماں کو بتا دوں۔ ڈرتے ڈرتے ساری داستان ماں سے کہ ڈالی۔
خلافِ توقع ماں سے غصہ نہیں کیا۔ بلکہ ہنس کر پیار سے بولی۔
’’بیٹے اس میں ڈرنے کی کیا بات ہے۔
تم رضیہ سے محبت کرتے ہو اچھی بات ہے۔
ایک غریب سے شفقت سے پیش آنا ہمار ا مذہب سکھاتا ہے۔ دیکھو تمہاری اپنی کوئی بہن نہیں۔ رضیہ تمہاری بہن بن سکتی ہے۔ ایک بھائی کی طرح محبت کرو‘‘
اُس دن سے میں رضیہ کو اپنی بہن کی طرح چاہتا ہوں اور رفیق حیات چننے کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا۔
بوجھ
شرافت علی عمر کی اس منزل کو چھو چکا تھا جہاں کسی سہارے کے بغیر چلنا پھرنا دو ر رہا اُٹھنا بیٹھنا بھی دشوار ہوتا تھا۔
وہ تو بیٹھتے بیٹھتے ہانپتا رہتا اور ناتو ان ہاتھوں سے اپنے کمزور گھٹنوں کو سہلانے لگتا۔ گھٹیا کے مرض نے اُسے لاچاربنا دیا تھا… عالم بے بسی میں وہ اکثر بار سوچنے لگتا کہ اس کا وجود اس زمین پر ایک بوجھ سا ہے۔ اکثر اپنے اکلوتے بیٹے امتیاز کا خیال آتا، جو اُسی گھر میں قیام پذیر ہے۔ البتہ بیوی بچوں میں اتنا مگن کہ بھول کر بھی کبھی اس کے کمرے کی طرف نہیں آتا۔
آج کچھ دنوں سے اُسے کھانسی بھی آرہی ہے
کھانستے کھانستے حالت ابتر ہو جاتی۔
گھر میں خادمہ نہ ہو تو اُسے پانی بھی پینے کو نہ ملتا
شرافت علی کو ڈراینگ روم سے اپنے بیٹے اور اس کے دوستوں کے زور زور سے ہنسنے کی آوازیں سنائی دیں اور وہ سوچنے لگا کہ اُس نے امتیاز کو کس ناز سے پالا تھا… اور وہ کس قدر گمراہ… اس کے ساتھ زوروں کی کھانسی آئی۔
کھانستے کھانستے اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ تب ہی امتیاز اُ سکے کمرے میں آیا… شرافت علی کی آنکھوں میں خوشی کی جوت جگمگائی۔ وہ بیٹے سے کچھ کہنے جارہا تھا کہ امتیا زبولا۔
’’باپو ہم نے طے کیا ہے کہ آپ ’’اولڈ ایج ہوم‘‘ میں داخل کرائیں گے۔ وہاں تمہاری دیکھ بھال اچھی طرح ہوگی۔
آپ کے کھانسنے سے ہم سب پریشان ہوتے ہیں۔ز اہدہ کی بھی خواہش ہے کہ آپ کے کمرے کو بیٹھک میں تبدیل کیا جائے‘‘۔
شراف علی کی آنکھوں میں اندھیرا چھانے لگا اور امتیاز کو اندازِ دگر میں گھومتے ہوئے سارے بدن میں لرزہ چھا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے گردن لڑھک کے رہ گی۔
امتیا زنے باپ کو پکارا… بدن جھنجوڑا سب بے کار۔
روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی تھی۔
رکاوٹ
شکیلہ گائوں کے چوکیدار قادر ڈار کی بیٹی تھی
وہ جواں تھی اورشکل و صورت سے بھی اچھی۔
قدرت نے شکیلہ پر غربت و افلاس کا منحوس سایہ بچپن سے ہی ساہی فگن کر رکھا تھا۔ اُس پر بالائے ستم یہ کہ والدین کا شفیق سایہ بھی چھن کر رہ گیا تھاجو ایک بس حادثے کا شکار ہو کے دارالبقا سدھار گئے تھے۔
گھر اور اس کی ذمہ داری بڑے بھائی راشد کے کمزور کاندھوں پر تھی جو پولیو زدہ بائیں ٹانگ کے باعث لنگڑاتے چلتے تھے۔
گائوں میں شکیلہ کی ہم جنس امیرزادیاں رشتہ ازدواج میں بندھ گئی تھیں۔ قسمت کی ماری تھی تو شکیلہ ۔شادی کی اُمید و فکر میں کئی برس بیت گئے اور اس بابت بہن بھائی کا اضطراب بڑھنے لگا۔
کئی جہیز کے لالچی آگئے اور رشتے ہوتے ہوتے رہ گئے۔
کچھ مدت بعدپچاس سالہ چودھری غریب خانے میں داخل ہوتا ہے اور رشتے کی بات چھیڑتا ہے۔
اُسکی عمر رسیدگی کی وجہ سے ارشد کو رشتہ پسند نہ آیا اور چودھری کو اس بابت آگاہ کر دیا۔ اس پر چودھری بولا۔
’’ تم دونوں ٹھیک سے سوچ لو میں جہیز وغیرہ کا طلب گار نہیں بلکہ دوسرے خرچے بھی میں برداشت کرنے کو تیار ہوں‘‘۔
شکیلہ کی حسرت بھری نظر بھائی کے مغموم چہرے پر پڑی اور درد ویاس کے لہجے میں بول اُٹھی۔
’’چودھری صاحب میں شادی کے لئے تیار ہوں‘‘
’’ یہ تم کیا کہہ رہی ہو شکیلہ، ارشد سے نہ رہاگیا۔
’’ نہیں بھیا بہت ہو گیا!۔ مجھ ابھاگن کی خاطر تم اپنی زندگی برباد نہ کرو۔ مجھے میرے حال پر چھوڑ دو ۔میںکب تک تمہاری گھر گرہستی میں رکاوٹ بنتی رہونگی بنوں میں تمہیں اور دکھی نہیں دیکھنا چاہتی‘‘۔
مسکن
بھکاری جامع مسجد کے صدر دروازے کے سامنے چادر پھیلائے صدا لگا رہا تھا۔
’’ اللہ کے نام پر دے دو ۔مولیٰ کے نام پرمجھ لاچار غریب کو کچھ دے دو، اللہ پاک آپ کی ہر مُراد پوری کرے‘‘
نماز ادا کرنے کے بعد لوگ مسجد سے نکل رہے تھے ۔ البتہ خلاف توقع کسی نے اُسے کچھ نہیں دیا۔
بھکاری دل برداشتہ ہو کر ہنومان مندر کے باہر کھڑا ہوا اور صدا لگا نے لگا۔
’’ بھگوان کے نام پر بھوکے فقیر کو کچھ دیدو۔ ایشور بھلا کرے گا‘‘۔
مگر یہاں بھی بھکاری کو کسی نے کچھ نہیں دیا۔ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر گوردوارہ اور گرجا گھر کارُخ کیا البتہ وہاں بھی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔
اب توبھکاری مایوسی کے بحربے کراں میں غرق اندازِ دگر میں سوچنے لگا…
نہ چاہتے ہوئے بھی اُس نے میکدہ کے باہر چادر پھیلا دی اور صدا لگانے لگا
’’ اللہ کے نام پر کچھ دے دو لاچار
اور غریب کی جھولی بھر دو، جگ کا
داتا تمہارا بھلا کرے گا‘‘۔
میکدے سے لوگ نشے میں دھت ہو کر نکل رہے تھے۔ جس کے جو ہاتھ میں آیا بھکاری کو دے دیا ۔کسی نے سو روپے دیئے کسی نے دس کا نوٹ دیا… تھوڑی دیر میں بھکاری کی چادر نوٹوںا و رریزگاری سے بھر گئی۔
بھکاری نے آسمان کی طرف منہ اُٹھا کر کہا
’’واہ رے داتا آخر رنگ بدلتی دُنیا اور گردشی زمانہ کے زیر اثر مسکن بدلنے میںہی اپنی عافیت جان لی‘‘۔
ترکی بہ ترکی
یوم خواتین کی مناسبت سے مقامی گرلز کالج کے بڑے ہال میں تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف شعبہ جات سے وابستہ نامی گرامی حضرات و خواتین نے شرکت کی۔
ایک نہایت ہی لحیم شحیم عورت ہال کے مدھ میں ایک کرسی پر بہ مشکل بیٹھ گئی۔ اس کے بازو والی سیٹ پر ایک دُبلا پتلا کا لا سا آدمی قبضہ جماگیا۔
کچھ دیر بعد عورت نے منہ پھاڑ کر ایک زور دار جمائی لی۔
کالا سا آدمی خوفزدہ ہو کر طنزیہ اندا میں کہنے لگا۔
’’محترمہ کہیں مجھے نگل نہ جانا۔ کمزور ساآدمی ہوں‘‘
موٹی عورت نے نہایت ہی سادگی سے جواب دیا
’’ ارے صاحب آپ فکر نہ کریں۔ ہمارے مذہب میں کوئے کھانا حرام ہے‘‘










