غریب عوام کیلئے باعث ستم ،کوئی پُرسان حال نہیں،حکام سے سہولیات کی فراہمی کیلئے اقدام اٹھانے کا مطالبہ
سرینگر / /وادی کشمیر میں سردیوں کی شروعات ہوتے ہی اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوجاتا ہے اور اس دوران لوگوں کو گونا گوں مشکلات کاسامنا ہے ۔کیونکہ ان ایام میں سردیوں سے بچنے اور خوراک ذخیرہ کرنے پر کافی پیسے درکار ہوتے ہیں ۔لیکن ان کے پاس مالی سکت نہیں ہوتی ہے۔جس سے وہ بروقت اخراجات پورا کرنے سے قاصر رہتے ہیں ۔ موسم گرما میں بے گھر افراد خیموں یا ہجروں میں زندگی بسر کرتے ہیں ۔لیکن سردیوں میں ان کی زندگی ان کیلئے عذاب بنتی ہے۔کیونکہ جس کے پاس رہنے کو مکان نہیں ہوگا اور کھانے کوراشن میسر نہ ہو اور پہننے کیلئے ملبوسات نہیں ہونگے تو ان کی زندگی گذارنا مشکل ہی ثابت ہوتی ہے ۔سرکار نے غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کو آئی اے وائی اسکیم کے تحت مکان تعمیرکرنے کا ایک منصوبہ ترتیب دیا ہے لیکن وہ اسکیم بھی اثررسوخ رکھنے والے افراد کے نصیب میں ہے جبکہ بے بس اور بے یارو مددگار افراد کیلئے مذکورہ اسکیم سے استفادہ کرنا ممکن نہیں بنتا ہے اور موجودہ مہنگائی کے دور میں ایک یا ڈیڑھ لاکھ کے رقم سے مکان تعمیر کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ۔اسی طرح سے یہاں عام لوگوں کی زندگی بھی سردیوں کے ایام میں کافی مشکل اور اجیرن بنی رہتی ہے کیونکہ سردیوں کے ایام شروع ہوتے ہی بجلی کٹوتی کی جاتی ہے اور مرتب شدہ شیڈول کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔جبکہ پانی اور راشن کی فراہمی بھی متاثر رہتی ہے ۔اس سلسلے میں کشمیر پریس سروس کو آئے روز مختلف علاقوں سے فون کالز موصول ہورہی ہیں یا عوامی وفود دفتر پر آکر بتاتی ہیں کہ بجلی ،پانی کی فراہمی کافی حد متاثر ہے ۔ان کا کہنا ہوتا ہے کہ سردیوں کے ان ایام کے دوران بجلی و پانی کی فراہمی کیلئے کوئی شیڈول نہیں ہوتا ہے جبکہ محکمہ جات نے باضابطہ طور شیڈول مرتب کئے ہیں لیکن اس مرتب شدہ شیڈول کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف ان اہم ضرویات کی عدم دستیابی نے لوگوںکاجینامحال بنادیاہے اور دوسری طرف مہنگائی کاجن بوتل سے باہر آگیا جس نے لوگوں کی کمر توڑ دی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ سبزیوں کی قیمتی آسمان کوچھورہی ہیں اورغریب جو دن میںمحنت ومزدوری کرکے گنتی کے چند پیسے کماتے ہیں ۔کیسے وہ 60روپے سبزی کلو خریداپنے عیال کو کھلاسکتے ہیں۔ان کے بقول مہنگائی کی یہ تلوار غریب اور مزدور طبقے پر ہی لٹکتی ہے ۔اس سلسلے میں انہوںنے سرکار اور موجودہ انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ بنیادی سہولیات بشمول بجلی و پانی کی دستیابی کو یقینی بنانے اور اشیائے خوردنی کی قیمتوں کو اعتدال پر لانے اور غریب عوام کیلئے متعارف کی گئی اسکیموں کو مستحقین کے حق میں منظور کرنے کیلئے ٹھوس اور موثر لائحہ عمل ترتیب دیاجائے تاکہ لوگوں کے مشکلات کا ازالہ ہوسکے ۔










