دو سو کے قریب بارکیں تعمیر بھارت خاموش تماشائی بن کرنہیں رہ سکتا /دفاعی ماہرین
سرینگر//اقصائی چین میں پیپلز لبریشن آرمی کی جانب سے بارکوں کاقیام عمل میں لانے کے بعد بھارت چین کے مابین کشیدگی اور تناؤ میں مزید اضافہ ،چینی لبریشن آرمی کی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہاہے ابھی تک وزارت دفاع وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ نے اقصائی چین میں پیپلز لبریشن آرمی کی سرگرمیو ں کے بارے میں کسی بھی طرح کابیان نہیں دیاتاہم دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت صورتحال پرکڑی نظررکھے ہوئے ہے اور اروناچل پردیش کے بعد اقصائی چین میں خلا ف ورزی ناقابل برداشت ہوگی ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اقصائی چین میں پیپلز لبریشن آرمی کی جانب سے عارضی طور پربارکوں کی تعمیر کاکام مکمل کیاگیاہے اور لبریشن آرمی کی جانب سے سرما میں اپنی حفاظت کے لئے دو سو سے زیادہ بارکوں کاقیام عمل میں لایاہے ان بارکوں کا قیام عمل میں لانے سے بھارت چین کے مابین کشیدگی اور تناؤ کے ماحول میں مزید کشیدگی اور تناؤ لازمی ہے بھارت چین تواقعات پہلے ہی تعطل کاشکار ہے ایل اے سی پرچینی لبریشن آرمی کی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہاہے اور دونوں ملکوں کے مابین ملٹری سطح پربات چیت کے جو18دور ہوئے ہے اور اس بات پر دونوں ممالک نے رضامندی ظاہر کی تھی کہ جن پوئٹوں پر دونوں ممالک کے مابین تنازعہ پایاجارہاہے وہاں سے فوجی انخلاء ہوگا تاہم چینی لبریشن آرمی کی جانب سے دونوں ملکوں کے مابین ہوئے معاہدوں سے مسلسل خلاف ورزی ہورہی ہے اور جہاں ایک طرف چین نے اروناچل پردیش میں سرحدوں کی خلاف وورزی کی ہے او رمیڈیارپورٹس کے مطابق اقصائی چین جوبھارت کے حدود میں شامل ہے میں چینی پیپلزلبریشن آرمی نے بارکوں کاقیام عمل میں لاکر کشیدگی اور تناؤ کے ماحول میں مزیداضافہ کردیاہے ۔اقصائی چین میں پیپلز لبریشن آرمی کی خلاف ورزی پراگر چہ وزارت داخلہ وزارت دفاع اور وزارت خارجہ نے کسی بھی طرح کابیان منظرعام پرنہیں لایاتاہم دفاعی زررائع کے مطابق بھارت کی حالات پرکڑی نظر ہے اور چینی لبریشن آرمی کی ا سطرح کی کارروائیوں کوبرداشت نہیں کیاجائیگا ۔چینی لبریشن آرمی کواقصائی چین سے پیچھے ہٹناہی ہوگا ۔










