استنبول دھماکے کا مبینہ منصوبہ ساز گرفتار، کردستان ورکرز پارٹی پر الزام

ترکیہ میں حکام نے استنبول کی استقلال اسٹریٹ میں ہونے والے دھماکے کے ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ترکیہ کے نشریاتی ادارے ’ٹی آر ٹی‘ کی رپورٹ کے مطابق وزیرِ داخلہ سلیمان صویلو نے تصدیق کی ہے کہ استقلال اسٹریٹ میں دھماکے کی منصوبہ بندی کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مرکزی ملزم کو گرفتار کرنے سے قبل 21 دیگر افراد کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کے مطابق استنبول کی پولیس مرکزی ملزم کی نشان دہی اور گرفتاری میں کامیاب رہی ہے۔واضح رہے کہ اتوار کو استنبول کی استقلال اسٹریٹ میں ہونے والے دھماکے میں چھ افراد ہلاک جب کہ 81 زخمی ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں چار خواتین سمیت ایک نو سالہ لڑکی اور دو مرد شامل تھے۔وزیرِ صحت فخر الدین قوجہ کا کہنا تھا کہ زخمی ہونے 81 افراد میں سے 39کو ابتدائی طبی امداد کے بعد اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا تھا۔ان کے مطابق 42 افراد ابھی انتہائی نگہداشت کے وارڈز میں زیرِ علاج ہیں جن میں سے دو کی حالت تشویش ناک ہے۔ پیر کو وزیرِ داخلہ سلیمان صویلو نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ یہ دھماکا کالعدم ‘کردستان ورکرز پارٹی‘ پی کے کے نے کرایا۔واضح رہے کہ پی کے کے کو امریکہ، کینیڈا اور یورپی یونین بھی دہشت گرد تنظیم قرار دیا جا چکا ہے۔خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق وزیر داخلہ سلیمان صویلو کا کہنا تھا کہ استقلال اسٹریٹ پر ہونے والے دھماکے کے احکامات کوبانی شہر سے جاری ہوئے تھے۔کوبانی شہر شام کے صوبہ حلب میں واقع ہے جس کا سرکاری نام عین العرب ہے۔ یہ شہر کرد عسکریت پسندوں کے کنٹرول میں ہے۔استقلال اسٹریٹ میں شام کے چار بج کر 20منٹ پر دھماکا ہوا تھا جس کے بعد لوگ میں خوف و ہراس پھیل گیا اور یہاں موجود دکانیں اور ریستوران بند کر دیے گئے تھے۔’ٹی آر ٹی‘ کے مطابق ابتدائی معلومات کی بنیاد پر ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے دھماکے کو دہشت گردی قرار دیا تھا۔خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق اتوار کو ترکیہ کے وزیرِ انصاف بیکر بوزداج کا دھماکے کے حوالے سے کہنا تھا کہ ایک خاتون استقلال اسٹریٹ میں لگ بھگ 40 منٹ تک ایک بینچ پر بیٹھی رہیں۔