بہا ر کے کئی اضلاع میں کھاد کی قلت ہو گئی ہے۔ اس درمیان بہار کے وزیر زراعت سدھاکر سنگھ نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت ضرورت کے مطابق فرٹیلائزرس کی فراہمی نہیں کر رہی، جس وجہ سے کسانوں کی پریشانیاں بڑھ گئی ہیں۔ محکمہ زراعت کا کہنا ہے کہ اس خریف کے موسم میں دھان کی روپائی 86 فیصد تک مکمل ہو چکی ہے۔ اب دھان کی فصل کے لیے مناسب فرٹیلائزرس کی ضرورت ہے۔زیر زراعت سدھاکر سنگھ نے منگل کو ریاست میں مختلف فرٹیلائزرس کی ضرورت، الاٹمنٹ اور فراہمی کا تجزیہ کیا۔ انھوں نے بتایا کہ ضرورت کے مطابق مختلف فرٹیلائزرس کی فراہمی کے لیے حکومت ہند کو خط بھیجا جا رہا ہے۔ وزیر زراعت سدھاکر سنگھ نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مرکز کی طرف سے یوریا کی اپریل سے اگست تک 7.70 لاکھ میٹرک ٹن کی ضرورت کے برخلاف 6.71525 (87 فیصد) لاکھ میٹرک ٹن ہی دستیاب کرایا گیا ہے۔اسی طرح اس مدت میں ڈی اے پی کی 2.50 لاکھ میٹرک ٹن، این پی کے کی 1.90 لاکھ میٹرک ٹن اور اے او پی کی 0.95 لاکھ میٹرک ٹن ضرورت تھی، لیکن ڈی اے پی کی 1.72033 (69 فیصد) لاکھ میٹرک ٹن، این پی کے کی 1.50843 (79 فیصد) لاکھ میٹرک ٹن اور ایم او پی کی 0.35588 (37 فیصد) لاکھ میٹرک ٹن ہی فراہمی کی گئی۔ یہ ضرورت سے 13 فیصد کم ہے۔ وزیر زراعت نے کہا کہ حکومت کی ترجیح فرٹیلائزرس کی کالابازاری روکنا اور قیمت کو کنٹرول کرنا ہے۔ انھوں نے کسانوں سے کھاد کو لے کر پریشانی اور شکایت کے لیے ایک ہیلپ لائن نمبر بھی جاری کیا ہے۔










