dooran

جموں وکشمیر کی صنعت تباہی کے دہانے پر

مشکل اورسنگین معاشی اقتصادی بد حالی کے باوجود وادی کشمیر کے لوگوں کومعاشی اور اقتصادی بد حالی سے باہرنکالنے والی صنعت اب پوری طرح سے تباہی کے دہانے پر ملک کی مختلف منڈیوں میں سیب کی قیمت گھٹ گئی ہے، جبکہ اخراجات میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے ۔رواں برس کے افتداء میں ہی ایک اور راحت باغ مالکان او رسیب اُگانے والوں کوہوئی کہ جی ایس ٹی کوبارہ فیصدی سے 18%کردیاکارڈ بورڈ بید او رسفیدی لکڑی سے بنائی جانے والی پیٹیوں کی قیمتوں میں چالیس سے پچاس فیصدی کااضافہ میں ہوا ہے ،جبکہ کرایہ کوبھی بڑھادیاگیاہے ۔سرکا رکی جانب سے میوہ صنعت کوراحت پہنچنے کے بجائے مسلسل مصائب ومشکلات میں مبتلاکیاجارہاہے ۔وادی کی میوہ صنعت نے مشکل حالات میں بھی جموںو کشمیرکے لوگوں کوسہارا دیااور انہیں بد ترین معاشی اقتصادی بد حالی میں مبتلا ہونے سے بچا لیا مسئلہ شورش شروع ہونے سے گھریلوں صنعتیں دم توڑ ئی کاروبا ربری طرح سے متاثر ہوا سیاحت کی صنعت ٹھپ ہوگئی او روادی کشمیرکے پاس پیٹ کی آگ کوبجھانے کیلئے بہت کم کام دستیاب تھا اب میوہ صنعت پرتمام نظریں ٹکی ہوئی تھی اور اس صنعت نے جموں وکشمیرکے لوگوں کوکافی حد تک مصائب ومشکلات سے بچایا،تاہم پچھلے کئی بردسوں سے یہ صنعت تباہی کے دہانے پر مسلسل گامزن ہے ۔جراثیم کش ادویات میعار کی نہیں ہے ناقص کھاد کامسلسل باغ مالکان استعمال کررہے ہے اس کے ساتھ ساتھ سیب کو ملک کی منڈلیوں تک پہنچانے کے لئے درکار کارڈ بورڈ سیب کی پیٹیوںجس سے عرف عام میں باردانہ کانام دیاجاتاہے قیمتوں میں اضافہ ہوا تین سال پہلے سفیدی اور بید کی لکڑی سے بنائی جانے والی سیب کی قیمتوں کی قیمت چالیس سے پچاس روپے اور کارڈ بورڈ پیٹی کی قیمت پچاس سے ستر روپے تھی اب لکڑی سے بنائی جانے والی سیب کی پیٹی سو سے 110اور کارڈ بور ڈکی 120 حساب سے فرخت ہورہی ہے کرایہ میں اضافہ ہوا اور یہ سبہی اضافی اخراجات تب برداشت کے قابل تھے اگر ملک کی مختلف منڈیوں میں کشمیری سیب کوبرپور نرخ ملتا ۔سیب کی قیمتوں میں مسلسل گراوٹ آ رہی ہے اور اسکی کہی وجوہات ہے۔ گلوبل مارکٹ کی وجہ سے آسٹریلیاں امریکہ ،سوزرلینڈ،ایران کے ممالک میں جوسیب پید اہورہاہے وہ ملک کی مختلف ریاستوں میں پہنچایاجارہاہے جسکی وجہ سے کشمیری سیب کو ملک کے تاجراہمیت نہیں دے رہے ہیں ۔سرکار نے جی ایس ٹی بارہ فیصدی سے 18%کردیااور اس طرح کشمیر کی سیب صنعت کو تباہی کے دہانے پرپہنچانے میں سرکار کاحد سے زیادہ عمل دخل ہے ۔پڑوسی ریاست ہماچل پردیش میں حکومت سیب اُگانے والوں کوجوراحت پہنچاتی ہے اس کی طرف جموں وکشمیرکی سرکار نہ تو دیکھتی ہے اور نہ ا س طریقہ کار کواپنانے کی کوشش کررہی ہے یہی وجہ ہے کہ تیس لاکھ کے قریب لوگوں کی یہ صنعت اب آخری ہچکولے کھارہی ہے ۔