سرینگر//شمالی فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اوپیندر دویدی نے کہا ہے کہ پاکستان دراندازوں کو اس طرف دھکیلنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم اگر کسی موقع پر درانداز اس طرف آنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو انہیں فوج آسانی کے ساتھ ختم کردیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرحدوں پر 100فیصدی دراندازی کو روکنا ممکن نہیں ہے کیوںکہ جموں کشمیر میں پاکستان کے ساتھ لگنی والی سرحدیں کافی وسیع ہیں اور کافی دشوار گزار بھی ہیں لیکن سرحد پار سے دراندازی کو روکنے، پرامن جموں و کشمیر کے لیے عسکریت پسندوں کو ختم کرنے کے لیے سیکورٹی گرڈ کو مضبوط کیا گیا۔ سی این آئی کے مطابق شمالی فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اوپیندر دویدی نے کہا کہ جموں و کشمیر کی سرحدوں پر 100 فیصد عسکریت پسندوں کی دراندازی کو کبھی نہیں روکا جا سکتا۔کپواڑہ کے علاقے کیرن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرحد پار سے دراندازی کو روکنے اور پرامن اور خوشحال جموں و کشمیر کے لیے عسکریت پسندوں کو ختم کرنے کے لیے سیکورٹی گرڈ کو مضبوط کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جنگجوؤں کی 100 فیصد دراندازی سرحدوں پر کبھی نہیں رک سکتی لیکن اب اگر عسکریت پسند دراندازی کے وقت کہیں بھی کامیاب ہو جاتے ہیں تو ان کا سراغ لگایا جاتا ہے اور بعد میں کثیر سطحی حفاظتی حصار کی وجہ سے انہیں مار دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کی وجہ سے سرحدی علاقوں میں امن و امان کی فضا قائم ہوئی ہے جبکہ عام لوگوں کو اس سے کافی ریلیف ملا ہے اور ہماری کوشش رہی ہے کہ جنگ بندی کا معاہدہ ہمیشہ قائم رہے۔پڑوسی ملک کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض اوقات وہ کچھ غلط کام کرتے ہیں جس سے وہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر مجبور ہو جاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کو اب یہ احساس ہو گیا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرنے سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا، اسی لیے وہ اسے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔سرحدی سیاحت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ فوج نے ہمیشہ سرحدی علاقوں کے لوگوں کو تحفظ فراہم کیا ہے۔اب ہمیں ان علاقوں کو ترقی دینا ہے کیونکہ یہ قدرتی خوبصورتی سے مالا مال ہیں اور سیاحت کی بہت زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم کیرن جیسے علاقوں کو سیاحت کے نقشے پر لائیں گے تاکہ لوگ دور دور سے یہاں آئیںجس سے یہاں کے مقامی نوجوانوں کو بھی روزگار ملے گا۔










