bilinkan

پلوسی کے دورہ تائیوان پر چینی ردعمل غیر متوازن اور خطرناک تھا:بلنکن

واشنگٹن ڈی سی — //امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے وائس آف امریکہ کو د یےگئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی کی جانب سے تائیوان کے دورے پر چینی ردعمل غیر متوازن اور خطرناک تھا۔وائس آف امریکہ کی خمر سروس کو دئے گئے اس انٹرویو میں اینٹنی بلنکن نے کہا کہ پلوسی کا تعلق امریکہ کی قانون ساز شاخ سے ہے، جو خود مختار ہے۔ بقول ان کے پلوسی کا تائیوان کا دورہ کرناا ان کا استحقاق ہے جیسا کہ اسی برس ان سے پہلے امریکی کانگریس کے کئی اراکین نے تائیوان کا دورہ کیا۔امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ پلوسی کے دورے پر چین جو بھی رائے ہو مگر اس کے باوجود اس کا ردعمل غیر متوازن اور خطرناک تھا۔ بشمول چین کی جانب سے تائیوان کے اوپر سے گزرنے والے 11 بیلسٹک میزائل فائر کرنے اورتائیوان کے گرد اپنے جنگی جہازبھیجنے کے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے پانچ میزائل جاپان کے نزدیک آ کر گرے۔وزیر خارجہ کے مطابق چین کے ان اقدامات پر آسیان سمیت خطے کے ممالک نے مذمتی بیانات جاری کئے۔ اسی لیے یہ خدشات پیدا ہوگئے ہیں کہ یہ اقدامات خطے میں عدم استحکام پیدا کر سکتے ہیں۔بلنکن نے کہا کہ ’’میرا خیال ہے کہ ہم سب کو ذمہ داری دکھانی ہوگی ، امریکہ از خود اس قسم کے اشتعال انگیز اقدامات نہیں کرتا۔ ہمارے خیال میں سمندروں کو پرامن رہنا چاہئے اور آبنائے تائیوان خطے میں تقریباً ہر ملک کے لیے اہم ہے۔ اگر یہاں پر جاری تجارت میں خلل پیدا ہوا تو اس کے عالمی معیشت پر گہرے اثرات پیدا ہوں گے۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ امریکہ سمیت تمام ممالک کا یہ فرض ہے کہ وہ ذمہ داری سے کام لیں , چین کو بھی چاہیے کہ وہ امریکی کانگریس کے ارکان کے دورے کو بہانہ بنا کر خطے کے لیے ممکنہ طور پر خطرناک اور عدم استحکام پیدا کرنے والے اقدامات سے پرہیز کریں۔میانمارکے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے بلنکن نے کہا کہ ملک میں حالات پہلے سے بدتر ہوگئے ہیں بشمول جمہوری تحریک کے ارکان کو پھانسی چڑھانے کے واقعے کے، جس پر آسیان، کمبوڈیا اور دیگر افراد کی اپیلیں بھی نظر انداز کر دی گئی ہیں۔ اینٹنی بلنکن کے مطابق میانمار کی فوجی حکومت ملک میں فوجی بغاوت کے بعد پیدا ہونے والے بحران کو حل کرنے کی کوششوں پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کر رہی ہے۔ بلنکن نے کہا کہ گزشتہ کئی مہینوں سے آسیان متفقہ پانچ نکات پر عمل درآمد کی کوشش کر ارہا ہے لیکن حکومت ان پر دستخط کرنے کے باوجود ان پر عمل درآمد نہیں کر رہی ہے۔واضح رہے کہ ان نکات میں تشدد کا خاتمہ، قیدیوں کی رہائی اور میانمار کو جمہوریت کی پٹری پر دوبارہ چڑھانا شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایسے طریقے تلاش کرنا ہوں گے جو اس امر کو یقینی بنائیں کہ میانمار کی فوجی حکومت کی ہتھیاروں تک رسائی کو بند کیا جائے۔ خطے کے ممالک کو برما کی فوجی حکومت پر مزید معاشی اور سیاسی دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ بلنکن نے کہا کہ میانمار کے حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ نیشنل یونٹی گورنمنٹ سمیت میانمار کے تمام نمائندوں سے گفتگو کریں۔آسیان کے اس سلسے میں کردار پر سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ آسیان تنظیم کو یہ دیکھنا چاہئے کہ میانمار کی حکومت نے پانچ نکاتی اتفاق رائے پر عمل کرنے سے انکار کر دیا ہے ایسے میں میانمار کی آسیان تنظیم سےمعطلی سمیت تمام آپشنز پر غور کرنا چاہئے۔کمبوڈیا کی بندرگاہ ریام سے متعلق، جہاں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق چین ایک بحری اڈہ بنا رہا ہے، ایک سوال کے جواب میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ کی پہلی ترجیح یہ ہے کہ کمبوڈیا کی خارجہ پالیسی آزاد رہے اور وہ کسی بھی ملک سے دباؤ محسوس نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ’’جہاں تک ریام نیول بیس کا معاملہ ہے تو میرے خیال میں خطے کے ممالک کو اس بات سے تشویش ہو سکتی ہے کہ اگر کسی ایک ملک کے پاس اس فوجی اڈے کے کسی بھی حصے کو استعمال کرنے کا بلاشرکت غیرے کنٹرول دے دیا جائے یا وہ ایسی کارروائیاں کر رہا ہو جس سے خطے کے دوسرے ممالک کی سیکیورٹی کو خطرات لاحق ہوں۔‘‘بلنکن کا کہنا تھا کہ یہ بات اہم ہے کہ اس بارے میں شفافیت برتی جائے اور اس اڈے کو سب کے لیے کھلا رکھا جائے اور کسی ایک ملک کو بلاشرکت غیرے استعمال کی اجازت نہ دی جائے۔