بھارت: کپڑے کے پلانٹ میں گیس کا اخراج، 112 خواتین کی حالت غیر

بھارتی ریاست آندھرا پردیش میں کپڑے بنانے والے ایک پلانٹ میں گیس کے اخراج کے بعد حالت غیر ہونے پر کم از کم 112 خواتین کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کی خبر کے مطابق پولیس نے بتایا کہ منگل کی رات جنوبی ریاست آندھرا پردیش کے ضلع اچیوتاپورم کے ایک پلانٹ میں کام کرنے والے 2 ورکرز نے متلی اور الٹی کی شکایت کی۔سینئر پولیس اہلکار ایم اوپیندرا نے واقعہ کی تفصیلات سے متعلق اے ایف پی کو بتایا کہ گیس لیکج سے متاثر ہونے والی تمام خواتین کی حالت بہتر ہے، واقعہ میں کسی مزدور کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں جب کہ گیس کے اخراج سے متعلق تحقیات جاری ہیں۔بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، جون کے مہینے میں اسی علاقے میں اسی طرح کے ایک اور واقعہ کے بعد تقریباً 200 خواتین بے ہوش ہو گئیں تھیں جنہیں طبی امداد کے لیے ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔2020 میں، اسی ریاست کے صنعتی بندرگاہی شہر وشاکھاپٹنم میں ایک کیمیکل پلانٹ میں گیس کے اخراج کے بعد کم از کم 5 افراد ہلاک ہوگئے تھے جب کہ حالت غیر ہونے پر سیکڑوں لوگوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔1984 میں، بھارتی تاریخ کا بدترین صنعتی حادثہ پیش آیا تھا جب کہ وسطی بھارت کے شہر بھوپال میں کیڑے مار دوا بنانے والے ایک پلانٹ سے گیس کا اخراج ہوا۔یونین کاربائیڈ کی جانب سے چلائے جانے والے پلانٹ کے ارد گرد رہنے والے تقریباً 3 ہزار 500 لوگ زہریلی گیس لیک ہونے کے بعد موت کے منہ میں چلے گئے تھے جب کہ اس مہلک گیس لیکج کے مضر صحت اثرات کا آج تک لوگوں کو سامنا ہے۔مہلک گیس لیکج حادثے کے بعد آج بھی اس علاقے میں بچے غیر متوازن اور بگڑی ہوئی جسمانی حالت میں پیدا ہوتے ہیں، ان کے پاؤں اور ہاتھ کی انگلیاں آپس میں ملی ہوئی ہوتی ہیں جب کہ اس زہریلی گیس کے اثرات سے ماؤں کے متاثر ہونے کی وجہ سے ان کے بچے نشوونما کی کمی کا شکار پیدا ہوتے ہیں۔