medicine

اسپتال کی دوائیں فروخت کرنے کے معاملے میں 7 فوجیوں کو ملی سزائے قید

سرینگر//ہندوستانی فوج کے کورٹ مارشل نے شہری بازار میں غیر قانونی طریقے سے دوائیں فروخت کرنے کے لیے سات جوانوں کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی ہے۔ فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ دواؤں کے غلط استعمال اور ان دواؤں کو فروخت کر پیسہ حاصل کرنے کے معاملے میں 10 جوانوں کو الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں سے 7 جوانوں کو سزا سنائی گئی ہے جب کہ تین دیگر کو 15 جولائی کو ایک سول عدالت نے بری کر دیا۔فوجی ذرائع کے حوالے سے شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سزا پانے والے 6 جوانوں کو سروس سے برخواست کرنے سے لے کر دو سال سے لے کر چھ سال تک کی جیل کی سزا دی گئی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس معاملے میں غلط کام قومی راجدھانی میں ہوا، لیکن فوج کے دہلی وِنگ کے ذریعہ ہدایت کردہ جنرل کورٹ مارشل یوپی کے میرٹھ چھاؤنی میں ہوا۔لزم جوانوں کے وکیل آنند کمار نے بتایا کہ عدالت نے جوانوں کو ان کے خلاف لگے کچھ الزامات سے بری کر دیا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ مقدمہ کے دوران فریق استغاثہ کے اتفاق ہونے کے باوجود فوجی عدالت آر اینڈ آر اسپتال سے دوا کے بہی کھاتے بھی نہیں لے سکی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ معاملے کے لیے اہم کئی دیگر گواہوں کو نہیں بلایا گیا تھا۔