شیخ بشیر احمد
ٹینگہ پورہ نواب بازار سرینگر؍۲
مورتی بنانے کا آرڈر آصف علی نے چند دن پہلے لے رکھا تھا۔ پچھلے دو دن سے دن رات اس پر کام کرتا رہا۔ اب کام لگ بھگ مکمل ہونے کو تھا۔ البتہ جو تھوڑا سا کام ادھورا رہ گیا تھا۔ آج اُ سے پورا کرنے کا ارادہ کر ہی لیا تھا۔
مگر جیسے ہی زبیدہ کے پیٹ میں بے اعتبار انٹھیں اٹھنے لگیں۔ وہ شدت دردوکرب سے بے حال ہورہی تھی۔
پھر جو نہی کوئی مروڑ اُٹھتا وہ بے اختیار چیخ پڑتی۔ سارا معاملہ گڑبڑ ہوگیا۔ ساتھ ہی ایک اچھا خاصا موڈ بھی خراب ہوگیا۔
’’اب پہلے کسے نپٹا لوں؟ ‘‘ ۔۔۔ اگر چہ زبیدہ کے اندر ایک اضطراب تھا جو کسی پل اُسے قرار نہیں لینے دیتا۔
بڑی متانت سے آصف علی کا ہاتھ دبا کر بولی۔
’’گھبرانے کی بات نہیں۔ کیونکہ پہلے پہل ایسا ہی ہوتا ہے۔‘‘
’’مگر مجھے ڈر لگ رہا ہے۔‘‘ آصف علی نے گھبراتے ہوئے کہا۔
’’اتنی فکر ہے تو فوراً دایہ حلیمہ کو بلائو‘‘
یہ سنکر وہ وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا۔ دوڑتے دوڑتے دایہ حلیمہ کے پائوں پر گر کر کافی دیر تک گڑگڑاتا رہا اور منت سماجت کرنے لگا۔ وہ کسی نازک جھکی شاخ کی طرح نرم پڑگئی اور اسکے ہمراہ آنے پر تیار ہوئی۔
دائی حلیمہ مزاج کی بڑی تیز تھی مگر جب معاملہ دیرپا یا پیچدہ مسئلہ کھڑا ہوکر دیکھتی تو فوراً دوڑ کے چلی آتی۔
چونکہ یہ علاقہ شہر سے کافی دُور تھا اور حکومت کی سہولیات سے محروم رہ گیاتھا۔ بستی کے آس پاس کوئی ڈسپنسری موجود نہ تھی اور نہ ہی کوئی معقول اِنتظام اور بندوبست تھا۔ لہذا پرانے رسم و رواج اور تشخیص کے مطابق وعلاج معالج ہورہا تھا۔ اس معاملے میں وہاں کئی معزز اور ماہر عورتوں میں سے دایہ حلیمہ ہی واحد وہ عورت تھی جو بحیثیت دایہ کے طور پر ایسا کام انجام دے سکتی تھی۔
زبیدہ بستر پر دراز دروزدہ میں مبتلا تھی۔ اس کی پیشانی پر پسینے کی بوندیں موتیوں جیسے چمک رہی تھیں اور دل کی دھڑکین دھونکنی کی طرح چل رہی تھیں۔ ایک عجیب سی بے چینی اُسے مسلسل چبھ رہی تھی جس سے آنکھیں نم ہوگئیں تھیں اور اُسے کسی پل چین و سکون نصیب نہیں ہورہاتھا پھر جیسے ہی پیٹ میں بے اختیار انٹھیں اُٹھتیں توبے حال ہوکر کراہنے لگتی اور اسکے منہ سے دبی دبی ہلکی ہلکی سی چیخیں نکل جاتی۔
وہ سِسک سِسک کر دائی حلیمہ کے بازو پر سر رکھکر سوالیہ نگاہوں سے دیکھا کرتی۔ اپنے آپ سے بڑبڑاتی رہتی۔ کبھی خود کو بُرا بھلا کہنے لگتی۔ کبھی الٹے سیدھے لہجے میں بے تُکی باتیں اور الٹی سیدھی حرکیتں کرتی رہتی۔
پھر کچھ ایسا ہوا کہ اچانک کوئی خیال اسکے ذہن میں بجلی کے موافق کوندااور رگ وپے میں اُتر گیا تو اسکی آنکھوں میں ایک طرح کی چمک پیدا ہوگئی۔ ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی اور وہ چند لمحوں میں ایک ہفتہ پیچھے چلی گئی۔ جب اُس نے خواب میں کسی باریش بزرگ کے سامنے آصف علی کو دو زانوں بیٹھے اسکے کندھوں پر ایک کبوتر منڈلاتے ہوئے دیکھا تھا۔
گوابھی اس واقعہ کو زیادہ عرصہ نہ ہوا۔ جب اُس نے خواب میں باریش بزرگ کو دیکھا۔ جس نے اس بار بیٹا ہونے کی بشارت دی تھی۔ یہ سوچتے سوچتے اسکے دل و دماغ پر ایک غیبی طاقت کا احساس ہونے لگا تھا۔ پھر دل سے مجبور ہوکر اس نے یہ سب برداشت کرنے کا تہیہ کر لیا۔
سرہانے بیٹھی دایہ حلیمہ جو حیران و پریشان اور تکان کی وجہ سے کوئی جواب دے نہیں پارہی تھی۔ سوائے اسکے پھلوں کے رس کی چسکیاں پلا دیتی۔ متلی آجانے پر اسکی پیٹھ پر ہاتھ پھیر لیتی اور کبھی کبھی میٹھی میٹھی باتوں سے تسلی دیتی تو کبھی ہسنے ہنسانے کی طرف مایل کرنے کی کوشش کرتی رہتی۔
سارا گھر اداسی کی پرتوں میں لپٹا ہوا تھا۔ دُور بیٹھا کمرے کے ایک کونے میں آصف علی سر نہوڑے کسی سوچ میں ڈوبا تھا۔ سامنے اسٹو(stove) پر کیتلی کے اندر پانی اُبل رہا تھا۔
’’یونہی کب تک بیٹھے رہوگے۔ ذرا کچھ لاج وشرم کر۔ بے تمیز، بے شرم کہیں کے۔ کوئی کام دام نہیں رہا ہے۔‘‘؟
’’دفعتاً دائی حلیمہ کے ذہن میں کونسا خیال آیا۔ جھٹک کر آصف علی کو کمرے سے باہر نکلنے کے لئے کہا۔
بچارا! آصف علی سیدھا سادہ آدمی تھا۔ شریف النفس بھی مگر محنتی ضرور تھا۔ اپنی بیوی کے قرب یں رہنا زیادہ پسند کرتا تھا ۔شرم و حیا سے اسکے کانوں کی لویں سرخ ہوگئیں اور وہ وہاں سے اُٹھ کر فوراً چلا گیا۔
بچپن سے ہی آصف علی کھیتوں کے منڈھیروں پر یا چنار کے درخت کی چھائوں میں مٹی کے کھلونے بنانے کا شوقین تھا۔آس پاس کوئی درسگارہ یامکتب نہ تھا اور نہ ہی پڑھنے پڑھانے کا کوئی معقول ذریعہ تھا۔ بچے زیادہ تر صبح سے شام تک بھیڑ بکریاں اور مویشی چراتے تھے اور بالغ عمر کے لوگ اپنے ہی آبائی پیشے سے منسلک ہوکر اپنی روزی روٹی کمالیتے تھے۔
اُس نے ہوش سنبھالتے ہی پہلے پہل سنگتراشی کا پیشہ اختیار کر لیا تھا۔ بعد ازاں مورتیاں بنانے کی طرف راغب ہوگیا۔ بچپن کی عادت اور شرارت ابھی چھوڑی نہ تھی۔ گھر کے اندر ایک کمرے کو کارخانہ کی شکل دیدی۔ فرصت کے لمحات میں وہاں چھوٹے چھوٹے پتھروں کے کھلونے اور مورتیاں بنانا شروع کردی تھیں۔
زندگی ایک تماشہ ہے…….
کبھی کوئی اسکے اشارے پر ناچتا ہے کبھی خود کسی کے اشارے پر ناچتا ہے۔ چونکہ یہ سمجھنے والی بات ہے۔
آصف علی کی زندگی میں جس چیز کی کمی رہ گئی تھی وہ بھی اللہ میاں نے ایک پری کی صورت میں عطا کی تھی۔ بالکل وہ کشمیری دیہاتی الھڑ دوشیزہ تھی۔ جو سروقد بھی تھی ۔ ماہتا بی چہرہـ‘ بادامی آنکھیں۔ پلکوں کے اوپر گھنے جنگل جیسی بھویں اور سیب کے ترشی ہوئی قاشوں کی طرح ہونٹ سرخ تھے۔
حسن اتفاق سے ایک دن اس نے ایسی حسین و جمیل مورتی بنائی کہ جسے ایک بار کوئی دل پھینک عاشق مزاج دیکھ لیتا تو وہ منہ مانگی قیمت دینے پر راضی ہوجاتا۔ خوشی کی مستی میں زبیدہ کو پاس بلاکر سر پر اپنی میلی کچیلی سی ٹوپی کی نوک سیدھ کرکے بڑے مفکرانہ انداز میں بولا۔
’’ادھر آئو زبیدہ بیگم! دیکھو کیسی خوبصورت مورتی بنائی ہے میں نے ‘‘اُس نے اپنی پھٹی پرانی قمیض کے آستین سے مورتی کو صاف کرکے اسکی طرف بڑھادی۔ ’’واقعی لاجواب ہے یہ۔‘‘ وہ داد دئیے بغیر نہ رہ سکی۔ ’’ارے پگلی! تیری جان کی قسم‘ میرا دل گواہی دے رہا ہے کہ کریم بخش ضرور خریدلے گا‘‘ ’’کیا وہاں وہی ایک دکاندار رہ گیا ہے اور بھی کسی کو دکھانا۔‘‘ فرط مسرت سے مورتی کو اپنے مہندی رنگے نازک ہاتھوں میں لے کر زبیدہ جھومنے لگی۔ ’’انمول گڑیا۔ پری جیسی لگتی ہے۔‘‘ ’’بالکل تمہاری جیسی ہے نا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے آصف علی نے اسکے ماتھے پر اپنی مجتیں ثبت کرنے لگا۔ مارے خوشی کے اُسکے قدم زمین پر نہ پڑرہے تھے آخراپنی ٹوپی کو سر سے اتار کر ہوا میں اچھالتے کوئی کشمیری گیت گاتے ہوئے کمرے سے نکل پڑا۔ اُس دن آصف علی بے حد مسُرور تھا۔ صبح اٹھ کر پہلے مورتی کو کاغذ کے پلندے میں ملفوف کیا ۔اس کا دل مورتی کو بیج ڈالنے کے لئے مچل رہا تھا۔ اس نے گھر پر ہی بلیواڑ کے ایک جانے پہچانے دکاندار کے پاس جانے کا ارادہ کرلیا۔ جو وقتاً فوقتاً اسکے بنائے ہوئے پرندوں کے مجمسے اور مورتیاں خرید لیا کرتا تھا۔ جلدی جلدی سے ناشتہ کرکے وہ اُجلے دھلے کپڑے پہن کر شہر کی طرف روانہ ہوگیا۔ شہر آکر بلیواڑ سٹرک پر کہیں جارہا تھا۔ کسی سوچ میں گم تھا کہ اچانک سامنے سے آرہا ایک غیر ملکی سیاح سے جاٹکرا یا۔ یہ تو قسمت اچھی تھی کہ گرنے سے بال بال بچ گیا۔ مگر بغل میں دبائی ہوئی مورتی چھوٹ کر دورُ سٹرک پر جاگری۔ سیاح خفیف سا ہوگیا۔ آگے چند قدم آگے بڑھا اور پھر بند پیکٹ سٹرک سے اٹھا کر اسکی طرف بڑھا دیا۔ ’’سوری! چوٹ نہیں آیا۔؟‘‘ پھر اسی انداز میں ’’تھنکس گارڈ‘‘ جھٹ بول پڑا۔
’’او ہنہ !‘‘یہ کہکر آصف علی نے لمحہ بھر اسکی طرف دیکھا۔ مورتی کا خیال آتے ہی اخبار کا تہہ کھول دیا اور اچھی طرح سے دیکھا پرکھا۔ مطمئین ہوکر وہ خوشی سے اچھل پڑا۔ سیاح نے جب حیران حیران سی نگاہوں سے چمکتی مورتی دیکھی تو اسکی کاریگری کے آگے ہوش کھو بیٹھا۔ وہ خشک ہونٹوں پر زبان پھرتے ہوئے ایکدم بولا۔’’کیا دام مانگتا ہے۔ جتنا مانگتا‘ میں دینے کو تیار ہوں‘‘اس نے بناء چھوئے اپنی دلی کیفیت کا اظہار کیا۔
آصف علی حیرت سے اسکا منہ تکتا رہ گیا۔ اُسے یقین نہیں آرہاتھا کہ چشم زون میں چمکتا ہوا سورج جیسے اسکے ہاتھ میں آگیا ہو۔ یہ تو اسکی فنکارانہ مہارت کا کرشمہ تھا۔ اسکی محنت کا صلہ اور کچھ قسمت کا کھیل بھی………
اُس نے آسمان کی جانب نظریں اٹھائیں اور دل ہی دل میں خدا کی عظمت بیان کرنے لگا۔اتنے میں دُور کسی مقامی مسجد شریف سے اذان کی گونج سنائی دی۔
’’پانچ ہزار!‘‘ __وہ بے ساختہ جیسے چیخ پڑا اور لفافہ بندپیکٹ سیاح کی طرف بڑھادیا۔
وہ بار بار اپنا ہاتھ مورتی پر پھیرتا رہا اور دادبھی دیتا رہا۔ جیسے کوئی بچہ من پسند کھلونا ملنے پر خوش ہوتا ہے۔ اُس سے رہا نہ گیا۔ خوش ہو کر اپنی زبان میں بولا۔
How a genious artist you are!
Wonderful — I like it.
آصف علی اسکی بات سنکر جیسے سناٹے میں آگیا۔تھوڑی دیر تک کسی ہونق کی طرح گُور کر دیکھتا رہا ۔ بچارا! غیر ملکی زبان سے نابلد تھا۔ان پڑھ اور گنوار بھی ۔وہ اسکی زبان سمجھ نہیں پارہا تھا۔فوراً ہی وہ کس تذبذب کا شکار ہوا۔
چند لمحوں تک من ہی من میں اپنی حماقت پر پچھتا تارہا اور اپنے آپ کو کوستا رہا۔
’’منہ مانگی دام نہ بتائی ہوتی تو آج کا یہ دن دیکھنا نہ پڑتا۔ نجانے اب اسکا کیاانجام ہوگا۔‘‘
یہ سوچ کر وہ اسقدر گھبرایا کہ اسکا وہاں ٹھہرنا اب مشکل ہوگیا اور پھر وہیں مورتی چھوڑ کر بھاگنے کا بھی ارادہ کرلیا۔
جبکہ سیاح ایک نظر آصف علی اور ایک نظر مورتی پر ڈالتا توجیسے اُسے دُنیا کا آٹھواں عجوبہ ہاتھ لگا ہو۔
ادھر آصف علی کو ایسا محسوس ہورہا تھا کہ وہ اسکے جسم کی بوٹی بوٹی بھن کر اپنی نگاہوںسے چبا رہا ہے ’’O.K. (او۔کے) کوئی بات نہیں۔ دیتا ہوں۔‘‘
سیاح نے زیر لب مسکراتے ہوئے بٹوہ نکالا اور ہزار کے پانچ نوٹ اسکے ہاتھوں میں تھما دئیے۔ اور پھر تشکر کی نظریں ڈال کر آگے بڑھا۔
آصف علی ہکا بکا دیکھتا رہ گیا۔ اسکے اندر خوشی کا فوارہ پھوٹ پڑا اور سوچنے لگا‘‘ کہیں وہ کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہا ہے۔‘‘؟
تھوڑی دیر تک آصف علی اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ سٹرک پار کرکے سامنے والی بلڈنگ میں داخل ہوگیا اور آنکھوں سے اُوجھل جاتے ہی اپنی ٹوپی کے نیچے کھوپڑی کبھلائی۔ پھر وہ بھی وہاں سے نو دو گیارہ ہوگیا۔
دیکھتے دیکھتے آصف علی کی قسمت جاگ اٹھی تھی ۔بلیواڈ کے دکاندار حلقوں میں بات مشہور ہوگئی کہ آصف علی نے ایک پتھر کی مورتی پانچ ہزار میں فروخت کردی ہے۔ جب یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تو پلک جھپکتے ہی اسکے آنگن میں برسات کی بارش کی طرح آرڈر برس پڑے۔ قدر ت کا کرشمہ یہ ہوا کہ اُسے بہت دنوں کی غریبی ، تنگدستی، مفلسی اور بے چینی سے نجات ملی اور اعتماد کی لہر شایانوں میں دوڑ گئی۔ اُدھر اسکے اندر کوئی چھُپا ہوا فنکار جاگ اٹھا ۔ادھر دورُ دورُ تک اسکی کاریگری کا ڈنکا بجا۔ اُس نے ایک سے ایک بڑھکر بڑی مورتیاں بنانا شروع کیں۔ قدرت نے اسکے ہاتھوں میں ایسا جادُو بھر دیا کہ لوگ حیرت سے دانتوں تلے انگلیاںدبانے پر مجبور ہوگئے۔
اس طرح جیسے تیسے گھر کا پہیہ چلتا رہا۔ مگر جاڑے کے موسم میں چھت سے بارش کے قطروں کا ٹپکنا بند نہ ہوا۔ برسوں سے اسکی مرمت ہو نہ سکی اور یہ خلش اسکے دل میں سوہاں روح بنی رہی۔
چند دن پہلے کی بات ہے شہر کے ایک معروف و رئیس تاجر کمل رائے اس کے پاس ملنے کیلئے آئیے اُس نے اپنی بیٹی کے جنم دن پر نادر مورتی دینے کی خواہش ظاہر کی۔ وہ اسکی لاڈلی بیٹی تھی جو اسے از حد پیار کرتی تھی۔ سارا معاملہ طے پایاگیا البتہ ایک ہفتہ کی مہلت مانگی۔
پچھلے کئی دنوں سے وہ اس قدر کام میں مہنمک رہا جیسے اسکے سر پر بھوت سوار ہوگیا تھا اور پھر پورا ہفتہ ایک ایک کرکے یوں چٹکی بجاتے گزر گیا کہ اب آخری دن رہ گیا تھا۔
وہ زبیدہ کو وہیں اپنے حال پر چھوڑ کر اپنے کارخانے میں آگیا اور پھر دیر تک کھڑا سامنے مورتی کے سراپا کا جائیز ہ لیتا رہا۔ جوں جوںایک ایک پل گزرتا رہا۔ اسکے دماغ میں طوفان اٹھ رہاتھا۔ سچ تو یہ ہے کہ اس آزمائش کی گھڑی میں اسکی زندگی دائو پر لگ چکی تھی اور اُسے کچھ سُوجھتا نہیں تھا۔
پاس مورتی مخمور آنکھوں سے ایسی تکتی جاری تھی جیسے اچانک اسکے وجود میں کوئی روح حلول کر گئی ہو، ہونٹوں پر جیسے مسکراہٹ رقصاں تھی۔ بس حیرانگی کی بات یہ تھی کہ ماتھے پر سندور لگانے کی لکیر کہیں نظر نہیں آرہی تھی۔ جسے بنانے اور تراشنے کیلئے آصف علی کافی متفکر تھا اور اس سبب سے کام اُدھورا پڑا تھا یا یوں سمجھو کہ اس وجہ سے مورتی ادھوری سی لگ رہی تھی جس کے بغیر وہ کوئی بیوہ سی لگتی تھی۔
کمرے کے ایک بڑے میز پر چھوٹے بڑے پتھر کے بہت سے بے ترتیب ٹکڑوں کے علاوہ چند آہنی آلات جن میں دو الگ الگ سایئز کے ہتھوڑے اور ایک چھلنی بھی تھی۔ ایک رنگدار مارک لگانے کا ڈبہ بھی تھا۔ اُن سب چیزوں سے الگ تھلگ سامنے مورتی درمیانی حصہ پر رکھی تھی۔
آصف علی نے ہاتھ میں چاک کا ایک ٹکڑا اٹھایا۔ اسکے نوک دار سرے سے ٹھیک ماتھے کے درمیانی حصہ پر ٹکیہ جیسا نشان لگا دیا۔ پھر ایک پتلی سی لکیر ماتھے سے اوپر کھوپڑی کے پیچھے کھینچ لی۔ جو سرکے بالوں کو دو مساوی حصوں میں تقسیم کررہی تھی جسے دیکھتے ہی سندور لگادینے کی جگہ ظاہر ہو رہی تھی۔ جگہ کا تعین صیح اندازہ کرکے ایک ہاتھ میںہتھو ڑا اور دوسرے میں چھلنی کی مدد سے تراشنے میں مشغول ہوگیا۔
ابھی وہ کام سے فارغ نہ ہوا کہ دوسرے کمرے سے زبیدہ کے کراہنے کی آواز سنائی دینے لگی۔ آواز اتنی اونچی تھی جیسے اسکے دماغ پر کوئی زُور زُور سے ہتھوڑا مار رہا تھا۔چند ساعت ایسے گزرے کہ اس نے اپنے ہاتھ روک کر ان کی باتیں سننے کی کوشش کی جو دائی حلیمہ اور زبیدہ کے درمیان ہورہی تھی۔
’’بیٹی ! صبر سے کام لے۔ اس نازک گھڑی میں عورت کو درد سہنا ہی پڑتا ہے ورنہ کیسے وہ دیوی یا ماں کا رتبہ حاصل کرسکتی ہے۔
’’کیا اسکے بغیر ایک عورت ماں کا درجہ پا نہیں سکتی ہے؟‘‘
’’یہ تو قدرت کا نظام ہے کیا بانجھ عورت کو بھی ماں کی صف میں کھڑا دیکھ سکتی ہو۔‘‘
دیکھنے میں وہ مورتی پر ہتھوڑا چلا رہا تھا لیکن اصل میں زبیدہ کے خیالوں میں گم تھا۔ اُسے اُن کی فلسفی باتوں سے کوئی سروکار یا دلچسپی نہیں تھی۔ اس کی نظریں نئے مہمان کو دیکھنے کی منتظر تھیں۔ اور سماعت ننھی معصوم سی چیخ کے لئے بیقرار….
کچھ لمحے ایسے گزرے پھر ایک خاموشی چھائی رہی۔ جیسے سمندر مدد وجزر پیدا ہونے سے پہلے بے سدھ دکھائی دیتا ہے۔
آصف علی ضربوںپر ضربیں لگا رہا تھا۔ اس کا عمل پانی پر چابک مارنا جیسے تھا۔ باوجود کوشش کے سندور کی لکیر صاف طور پر نمایاں نہیں ہورہی تھی۔ کہیں نہ کہیں ایک سیدھ میں ہونے کی بجائے مڑتی ہوئی نظر آرہی تھی۔
پھر جب اس کمرے میں خاموشی کو چیرتے کسی نو زائیدہ بچہ کی پہلی چیخ سنائی دی جو چند ساعتوں کے بعد خود بخود فوراً بند ہوگئی اور دیر تک وہاں موت جیسا سناٹا چھا گیا۔ آصف علی کو ہوش نہ رہا۔ اُسکی آنکھوں کے سامنے ایک سیاہ ہیولا پھیل گیا اور ہتھوڑا بے تحاشہ ماتھے کے اس حصے پر اس زُور سے پڑا کہ پیشانی کااگلا حصہ جہاں ٹیکے کا نشان تھا اکھڑ کر نیچے زمین پر آگیا۔










