rupee

نوٹ بندی کے بعد بھی جعلی کرنسی کی تعداد میں 100 فیصد کا اضافہ

کالے دھن کو ملک واپس لینے کا منصوبہ کامیاب ثابت نہیں ہوا

سرینگر// وزیر اعظم نریندر مودی نے 8 نومبر 2016 کو جب پرانے 500 روپے اور 1000 روپے کے نوٹوں کو واپس لیتے ہوئے نوٹ بندی کا اعلان کیا تھا تو اس کا بڑا مقصد یہ تھا کہ ملک سے جعلی نوٹوں کا صفایہ ہو جائے گا۔ لیکن آر بی آئی کی سالانہ رپورٹ پر نظر ڈالیں تو یہ صاف نظر آ رہا ہے کہ ہندوستان میں نقلی کرنسی کا چلن بڑھا ہے۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق نوٹ بندی کے چھ سالوں کے بعد ملک کے بینکنگ سسٹم میں جعلی نوٹوں کا ملنا بدستور جاری ہے۔ اس رپورٹ نے آر بی آئی کے ساتھ ساتھ حکومت ہند کو بھی فکر میں اضافہ کر دیا ہے۔آر بی آئی کی سالانہ رپورٹ سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ملک میں ایک بار پھر نقلی نوٹوں کا بحران بڑھتا جا رہا ہے۔ 500 روپے کے جعلی نوٹ سب سے زیادہ پائے جا رہے ہیں اور 22-2021 میں 500 کے جعلی نوٹ 21-2020 کے مقابلے 100 فیصد سے زیادہ پائے گئے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 22-2021 میں جعلی نوٹوں کی تعداد میں گزشتہ سال یعنی 21-2020 کے مقابلے 10.7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس میں سب سے زیادہ جعلی نوٹ 500 روپے والے ہیں جس میں 101.9 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ 22-2021 میں 2000 روپے کے جعلی نوٹوں کی تعداد میں 21-2020 کے مقابلے 54.16فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔آر بی آئی کی رپورٹ کے مطابق 10روپے کے جعلی نوٹوں کی تعداد میں جہاں 16.4فیصد کا اضافہ ہوا ہے، وہیں 20 روپے کے جعلی نوٹوں میں 16.5 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 200 روپے کے جعلی نوٹوں کا چلن بھی عام ہو گیا ہے اور 21-2020 کے مقابلے 22-2021 میں 11.7 فیصد کا اضافہ ہوا، اور 50 روپے کے جعلی نوٹوں میں بھی 28.7 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا۔ جہاں تک 100 روپے کے جعلی نوٹوں کی بات ہے، اس میں 22-2021 میں 16.7 فیصد کا اضافہ دیکھنے کو ملا۔قابل ذکر ہے کہ جعلی نوٹوں سے ملک کا معاشی ڈھانچہ کمزور ہوتا ہے۔ اس سے مہنگائی بھی بڑھتی ہے کیونکہ بینکنگ نظام میں نقد کی روانی بڑھتی ہے۔ جعلی نوٹوں سے ملک میں غیر قانونی ٹرانزیکشن میں بھی اضافہ ہوتا ہے کیونکہ ایسے ٹرانزیکشن میں اصل کرنسی کا استعمال نہیں ہوتا ہے۔