کمرشل ایل پی جی سلنڈر کے داموں میں 102.50 روپے کا اضافہ

نئی دہلی: پٹرولیم کمپنیوں نے ایک مرتبہ پھر ایل پی جی سلنڈر کے داموں میں اضافہ کیا ہے۔ کمرشل ایل پی جی سلنڈر کے داموں میں 102.50 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس معاملہ پر کانگریس پارٹی نے مرکزی کی نریندر مودی حکومت پر حملہ بولا ہے اور داموں میں کئے گئے اضافہ کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔خیال رہے کہ دہلی میں 19 کلوگرام ایل پی جی کے تجارتی سلنڈر کے دام 2253 روپے سے بڑھ کر 2355.50 روپے ہو گئے ہیں۔ کانگریس پارٹی کی ترجمان الکا لامبا نے یہاں کانگریس کے صدر دفتر پر پریس کانفرنس سے بات چیت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے اور داموں میں اضافہ کر رہی ہے۔الکا لامبا نے بتایا کہ یکم مارچ کو تجارتی ایل پی جی سلنڈرد کے داموں میں 105 روپے کا اضافہ کیا گیا۔ اس کے بعد یکم اپریل کو 250 روپے اور اب یکم مئی کو 102.50 روپے کا اضافہ کر دیا گیا۔ اس طرح سے مجموعی طور پر ایل پی جی کے تجارتی سلنڈر کے داموں میں 618.50 روپے کا اضافہ کیا جا چکا ہے۔کانگریس لیڈر الکا لامبا نے مزید کہا کہا کہ مہنگائی کے ساتھ غریبوں اور کام کاجی طبقہ پر بار بار حملہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا ’’فکر اور بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکنامی کے ایک سروے کے مطابق ملک میں تقریباً 2.1 کروڑ نوکریاں کم ہو گئی ہیں اور 45 کروڑ نوجوانوں نے تو نوکری کی امید ختم ہونے کے بعد نوکری تلاش کرنا ہی بند کر دیا۔الکا لامبا نے کہا کہ سب سے بڑا حملہ تو ہندوستانی خواتین پر کیا گیا ہے، جن میں سے صرف 9 فیصد کے قریب ہی کام کرتی ہیں۔ لامبا نے الزام عائد کیا کہ ملک مودی کی لائی ہوئی آفت سے متاثر ہے، جہاں کوئلہ کی شدید قلت ہے اور اس سخت گرمی کے موسم میں لوگ بجلی کی کٹوتی کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہ ’’پٹرول اور ڈیزل ککی قیمتیں بھی کم نہیں ہو رہی ہیں۔ مہنگائی پر وار کرنے کے بجائے مودی حکومت کانگریس اور راہل گاندھی پر حملہ کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔‘‘