محنت کشوں کاعالمی دن ،EJCCاور فوڈ ایمپلائز ایسوسی ایشن جموں وکشمیرکی مشترکہ تقریب

ملک میں اقتصادی بدحالی، بے روزگاری اور مہنگائی کے بعد بجلی کا بحران

کوئلہ بحران کے لیے کانگریس کی 60 سالہ حکومت ذمہ دار‘، مودی حکومت پر چدمبرم کا طنز

سرینگر//سابق مرکزی وزیر اور کانگریس لیڈر پی چدمبرم نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے دعوے زمینی سطح پر میل نہیں کھاتے ، انہوں نے بتایا کہ ملک میں بے روزگاری، اقتصادی بدحالی اور اب بجلی کا بحران پیدا ہو ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ سرکار زمینی سطح پر ناکام ہے ۔ پی چدمبرم نے ٹوئٹ میں طنزیہ انداز میں یہاں تک لکھ دیا ہے کہ کوئلہ، ریلوے یا بجلی وزارتوں میں کمی نہیں ہے، قصور تو ان محکموں کے وزیر رہ چکے کانگریس لیڈروں کا ہے۔کرنٹ نیوزآف انڈیا کے مطابق کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر مالیات پی چدمبرم نے کہا کہ ملک میں اس وقت جو حالات ہیں اس سے ہر کوئی خوفزدہ ہے ۔ بڑھتی بے روزگاری، سماجی نابرابری اور اقتصادی مسائل ، مہنگائی نے عام لوگوں کی کمر توڑ دی ہے ۔ انہوں نے ہفتہ کے روز کیے گئے ایک ٹوئٹ میں انھوں نے بتایا کہ ملک میں وافر مقدار میں کوئلہ ہے، بڑے ریل نیٹورک ہیں، پاور پلانٹس میں صلاحیت ہے، پھر بھی بجلی کی زبردست قلت ہے۔ انھوں نے ٹوئٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ اس کے لیے مودی حکومت کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، یہ تو کانگریس کی 60 سالہ حکومت کی وجہ سے ہوا ہے۔پی چدمبرم نے ٹوئٹ میں طنزیہ انداز میں یہاں تک لکھ دیا ہے کہ کوئلہ، ریلوے یا بجلی وزارتوں میں کمی نہیں ہے، قصور تو ان محکموں کے وزیر رہ چکے کانگریس لیڈروں کا ہے۔ انھوں نے ساتھ ہی چٹکی لیتے ہوئے لکھا کہ مودی حکومت نے مسافر ٹرینوں کو رد کر کوئلہ ٹرینوں کو چلانے کا مناسب حل تلاش کر لیا ہے۔ مودی ہے، ممکن ہے۔واضح رہے کہ ملک میں بجلی بحران پیدا ہو گیا ہے اور راجدھانی دہلی میں بھی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ اس تعلق سے اپوزیشن لیڈران لگاتار مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بھی ایک فیس بک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’میں پھر سے کہہ رہا ہوں، یہ بحران چھوٹی صنعتوں کو تباہ کر دے گا، جس سے بے روزگاری مزید بڑھے گی۔ چھوٹے بچے اس زبردست گرمی کو برداشت نہیں کر سکتے۔ اسپتالوں میں داخل مریضوں کی زندگی داو? پر ہے۔ ریل، میٹرو خدمات کو روکنے سے معاشی نقصان ہوگا۔‘‘ انھوں نے ساتھ ہی وزیر اعظم سے یہ سوال بھی پوچھا کہ ’’مودی جی، کیا ا?پ کو ملک کے لوگوں کی پروا نہیں ہے۔‘‘