ہندوستان جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر تشکیل دیکرڈیجیٹل انقلاب کے فوائد کو یقینی بنا رہا ہے:وزیر اعظم

بھارت، ٹیکنالوجی کے اگلے انقلاب کی طرف بڑھ رہا ہے۔ وزیر اعظم

سرینگر// وزیراعظم نے کہا کہ ملک میںسیمی کنڈکٹرز کو ڈیزائن کرنے کے لئے غیر معمولی طور پر باصلاحیت لوگ موجود ہیں۔ انکی تعداد سیمی کنڈکٹر بنانے والے، دنیا کے انجینئروں کی 20 فیصد ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے، اپنے مینو فیکچرنگ شعبے میںیکسر تبدیلی لانے کے لئے بہت سے اقدامات کئے ہیں۔وزیراعظم نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سیمی کان انڈیا کانفرنس 2022 کا افتتاح کیا۔ انھوں نے کہا کہ بھارت، ٹیکنالوجی کے اگلے انقلاب کی طرف بڑھ رہا ہے۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سی میکون انڈیاکانفرنس 2022 کا افتتاح کیا۔ یہ تین روزہ تقریب، بنگلورو میں منعقد کی جارہی ہے۔وزیراعظم نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے، آج کی دنیامیں سیمی کنڈکٹرز کے رول کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ ہمارا اجتماعی مقصد بھارت کو، سیمی کنڈکٹر کی عالمی سپلائی چین کے، کلیدی شراکت داروں میں سے ایک بنانا ہے۔ انھوںنے کہا کہ بھارت اس سلسلے میں، ہائی ٹیک، اعلیٰ کوالٹی اور اعلیٰ طور پر قابل انحصارہونے کے اصول کی بنیاد پر کام کرنا چاہتا ہے۔پروگرام کے دوران وزیراعظم نے بھارت کے لئے 6 وجوہات کاخاص طور پر ذکر کیا، جن سے بھارت، سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کا ایک پرکشش سرمایہ کار ملک بن جائے گا۔پہلی یہ کہ بھارت ایک ارب 30 کروڑ سے زیادہ بھارتیوں سے رابطہ قائم کرنے کے لئے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کررہا ہے۔ مالی شمولیت، بینکنگاور ڈیجیٹل ادائیگی کے میدان میں حال ہی میں بڑی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظمنے کہا کہ بھارت، صحت و تندرستی سے لے کر سب کی شمولیت اور بااختیار بنانے تک، حکمرانیکے سبھی شعبوں میں زندگیوں میں یکسر تبدیلی لانے کے لئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمالکررہا ہے۔دوسری یہ کہ 600 ہزار گاؤوں کو براڈ بینڈ سے جوڑنے، 5G، آئی او ٹی اور صاف ستھریتوانائی کی ٹکنالوجیز جیسے اقدامات سے بھارت، ٹیکنالوجی کے نئے انقلاب کی طرف بڑھ رہاہے۔ تیسری یہ کہ بھارت، دنیا کیسب سے تیزی سے ترقی کرنے والے اسٹارٹ اپس نظام کے ساتھ اپنی بڑی معاشی نشو و نما کیطرف پیش قدمی کررہا ہے۔ امید ہے کہ سیمی کنڈکٹرز کا بھارت کا اپنا خرچ 2026 تک 80 اربڈالر اور 2030 تک 110 ارب ڈالر سے زیادہ ہوجائے گا۔چوتھی یہ کہ بھارت نے اپنے یہاں کاروبار کو اور زیادہ آسانبنانے کے لئے بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ہیں۔پانچویں یہ کہ بھارت نے، 21ویں صدی کی ضرورتوں کو پورا کرنیکے لئے نوجوان بھارتیوں کو ہنرمند بنانے اور تربیت دینے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ لگایاہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میںسیمی کنڈکٹرز کو ڈیزائن کرنے کے لئے غیر معمولی طور پر باصلاحیت لوگ موجود ہیں۔ انکی تعداد سیمی کنڈکٹر بنانے والے، دنیا کے انجینئروں کی 20 فیصد ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے، اپنے مینو فیکچرنگ شعبے میںیکسر تبدیلی لانے کے لئے بہت سے اقدامات کئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب عالم انسانیت کو صدی کی سب سے بڑی وبا کا سامنا تھا، بھارت، نہ صرف اپنے عوام کی صحتکو بہتر بنا رہا تھا بلکہ اپنی معیشت کو بھی صحت مند بنا رہا تھا۔ وزیراعظم نے حکومتکی مدد کی ضرورت کا اعتراف کیا اور عوام کو، کاروبار کے لئے ایک سازگار ماحول فراہمکرنے کی حکومت کی بہترین کوششوں کا یقین دلایا۔یہ تین روزہ کانفرنس، الیکٹرانک سازو سامان کی مینوفیکچرنگ،سیمی کنڈکٹر ڈیزائننگ اور اختراع کے شعبے میں بھارت کو ایک قائد ملک بنانے کے وزیراعظمکے ویڑن کو آگے بڑھانے کے مقصد سے منعقد کی جارہی ہے۔