دریائوں ندی نالوںمیں پانی کی سطح بڑھنے کی کم قلیل اُمید
سری نگر//موسمیاتی ماہرین نے خبردارکیا ہے کہ ماہ اپریل کے باقی دنوں اورمئی کے مہینے میں تسلی بخش یااچھی بارشیں ہونے کاامکان نہیں ہے جبکہ اسکے برعکس مئی کے مہینے میں گرمی کی شدت میں کافی اضافہ ہوسکتاہے ۔جے کے این ایس کے مطابق ماہرین موسمیات نے کہاکہ بارشیں ہونگی لیکن مختصر وقت کیلئے یاکہ وقفے وقفے سے ،اورایسی بارشوں سے دریائے جہلم اوردیگرآبی ذخائر میں پانی کی سطح میںاضافہ نہیں ہوسکتا۔خیال رہے 28 اپریل کی صبح10 بجے، سنگم میں جہلم کا پانی 3.55 فٹ اور رام منشی باغ سری نگر میں5.64 فٹ کی سطح پرتھا، جو کہ معمول سے کم ہے۔انہوںنے کہاکہ جب ہم جہلم کی صورتحال کاموازنہ گزشتہ کچھ برسوں سے کرتے ہیں توہمیں صاف نظرآتا ہے کہ اسوقت دریامیں پانی کی سطح معمول سے کم ہے۔اس دوران موسمیاتی ماہرین نے یہ بھی کہاہے کہ مہینے کے مہینے میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت کے ساتھ معمول سے کم سے عام بارش کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے جانکار ذرائع نے بتایاکہ یکم مارچ اور27اپریل2022 کے درمیان، جموں و کشمیر میں اوسطاً 244.7 ملی میٹر کے مقابلے میں صرف36.6 ملی میٹر بارش ہوئی ہے،اوراس حساب سے موجودہ کمی 85 فیصد ہے۔موسمیاتی ماہرین نے خبردارکیا ہے کہ آنے والے دنوںمیں کسی خاص بارش نہ ہونے کی وجہ سے،مئی کے مہینے میں زیادہ تر دنوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت غالب رہ سکتا ہے، اس طرح برف پگھلنے کی شرح میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوںنے کہاکہ ہم ایک ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں جب برف پگھلنے سے جہلم کے پانی کی سطح میں اضافہ نہیں ہو رہا ہے، کیونکہ اونچائی والے علاقوں (خاص طور پر نچلے علاقوں) کی زیادہ تر برف پہلے ہی مکمل طور پر پگھل چکی ہے۔اس طرح معمول سے زیادہ درجہ حرارت جہلم کے پانی کی سطح میں مزید گراوٹ کا باعث بنے گا۔خیال رہے مارچ اوراپریل کے مہینے میں 85فیصد کم بارشیں ہونے کے باعث دریائے جہلم اوردیگر ندی نالوں وجھیلوں میں بھی پانی کی سطح کافی کم ہوگئی ہے ،اورمحکمہ آبپاشی وسیلاب کنٹرول نے پہلے ہی شمالی ضلع بارہمولہ کے درجنوں دیہات کے زمینداروں اورکاشتکاروں کویہ مشورہ دیاہے کہ کھیت کھلیانوںکودرکار سیرابی پانی دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے امسال دھان کے بجائے کوئی اورفصل کی کاشت کریں ۔










