حقوق اطفال کی کھلم کھلا خلاف ورزی بچوں کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیلا جارہا ہے
سرینگر//وادی میں موسم بہار آنے کے ساتھ ہی جہاں مقامی وغیر ریاستی گداگروں کی فوج شہر وقصبوں میں امڈ آتی ہے وہیں پر گداگر اپنے ساتھ معصوم بچوں کو بھی اسکام میں لگانے سے بھی نہیں جھجکتے جو ایک قابل تشویش بات ہے۔خاص کر ماہ مبارک میں غیر مقامی گداغروںکی سرگرمیاں بڑ ھ رہی ہیں۔گرمیاں شروع ہونے کے ساتھ ہی جہاں غیر ریاستی بھکاریوں ک فوج وادی وارد ہوتی ہے وہیں پر مقامی گداگر بھی سرگرم ہوجاتے ہیں جن میں عورتوں اور بچوں کی خاصی تعداد موجود ہوتی ہیں ْگداگر جو شہر ودیگر بڑے قصبوں کے بازاروں ،آستانوں ،مسجدوں و دیگر عوامی جگہوں پر اپنا ڈھیرہ جمائے بیٹھے ہیں اور راہگیروں کو تنگ وطلب کرتے رہتے ہیں ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق بھکاریوں نے ایک نئے طریقے کا استعمال کرتے ہوئے اس پیشے میں بچوں کو بھی اتارا ہے جو مسجدوں و بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے دکھائی دیتے ہیں ۔درگاہ حضرت بل ،آستان عالیہ خانیار ،مخدوم صاحب ؒ ،نقشبند صاحب ،جامع مسجد سرینگر و دیگر جگہوں پر بھکاری بچے نماز ادا کرنے کی غرض سے آئے ہوئے شہریوں کا دامن پکڑ کر پیسہ دینے پر مجبور کرتے ہیں ۔یہ انتہائی سنگین وانسانی معاملہ ہے کیونکہ معصوم بچوں سے گداگری کرنا جرم ہے اور اس سے قوم کے ان معماروں کا مستقبل تاریک بنتا جارہاہے اور مذکورہ بچے غلط ہاتھوں میں پڑ جانے کی وجہ سے مختلف جرائم کے عادی بن جاتے ہیں جو ہمارے معاشرے کیلئے سنگین خطرہ ہے ۔پولیس نے جہاں حال ہی میں گداگروں کے خلاف مہم چھیڑتے ہوئے انہیں گرفتار کرنے کا سلسلہ شروع کیاتھا اس میں معصوم بچوں سے بھیک منگوانے والوں کے خلاف بھی سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ معصوبچوں کا کوئی استحصال نہ کر سکے۔اگرچہ مرکزی سرکار نے غریب بچوں کی مفت تعلیم اور سکول میں ایک وقت کامفت کھانا بھی مہیا رکھا ہے تاہم سماج میں پل رہے کچھ خود غرض عنصر معصوم بچوں کو تعلیم کے نورسے دور رکھ کر ان کو پیسہ کمانے کا ذریعہ تصور کرتے ہوئے ان کے ہاتھوں میں قلم کے بجائے کشکول دیتے ہیں جس کی وجہ سے مذکوری بچے تاریکی میں چلے جاتے ہیں اور منشیات ،جوا اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوجاتے ہیں ۔اس سماج کے طبقہ ہائے فکر سے وابستہ افراد کو دھیان دینے کی ضرورت ہے اور ان نونہالوں کو گداگری کے اس دلدل سے نکالنے کیلئے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔










