Lt Governor of J&K

جموں وکشمیر ایک روشن مستقبل کی راہ پر گامزن:لیفٹیننٹ گورنر

لیفٹیننٹ گورنر نے معاشرے کی بے لوث خدمت کرنے والے تبدیلی لانے والوں کی متاثر کن داستانیں شیئر کیں

جموں//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج کے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’’ عوام کی آواز ‘‘ میں جموں وکشمیر یوٹی کے تبدیلی سازوں کی حوصلہ اَفزا اور متاثر کن داستانیں شیئرکیں جو معاشرے کی بے لوث خدمت کر رہے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی انمول تجاویز اور خیالات کو تسلیم کیا اور ان کی تعریف کی اور اس پر بامقصد اقدامات کا یقین دِلایا۔لیفٹیننٹ گورنرنے ریڈیو پروگرام’’ عوام کی آواز‘‘ میںلوگوں سے کہاکہ وہ اَپنا اہم کردار اَدا کریں اور ایک ترقی یافتہ اور خوشحال نئے جموںوکشمیر کی تعمیر کے لئے حکومت کی کوششوں کی تکمیل کریں۔اُنہوں نے کہا کہ ہم غریبوں ، پسماندہ اور معاشرے کے کمزور طبقات کی فلاح و بہبود کے لئے پُر عزم ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا،’’ مختلف نئے اقدامات نے ایک عام آدمی کے خوابوں کو پورا کیا ہے۔ جموںوکشمیر ایک روشن مستقبل کی راہ پر گامزن ہے۔‘‘ لاتعداد شہریوں کے جذبے کی ستائش کرتے ہوئے جنہوں نے خود کو دوسروں کی خدمت کے لئے وقف کیا ہے، لیفٹیننٹ گورنر نے اودھمپور کے ویدیا شری آر سی نگر کا خصوصی ذکر کیا۔اُنہوں نے کہا کہ کس طرح 98 برس بزرگ اَپنے ساتھیوں کے لئے آیورویدک میدیسن ، یوگا اور فزیو تھراپی سینٹر چلا کر بزرگوں کے لئے اُمید کی کرن روشن کی ہے ۔ اِس کے علاوہ یتیموں کے لئے ایک سینٹر سٹیزن ہوم اور ایک بال آشرم قائم کر رہے ہیں۔اُنہوں نے کہاکہ حکومت بزرگ شہریوں کی دیکھ دیکھ اور فلاح و بہبود کو سب سے زیادہ ترجیح دیتی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر یوٹی اِنتظامیہ نے تمام اَضلاع میں Geriatric and Palliative کیئر سہولیات کو یقینی بنایا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ محکمہ سماجی بہبود کو مخصوص ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ ہمارے بزرگ اولڈ ایج پنشن سکیموں اور دیگر فلاحی پروگراموں کے تحت فوائد حاصل کریں۔اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر نے سنیتا دیوی ، صدف یوسف اور مہک شرما کی متاثر کن داستانیں شیئر کی جو اَپنی بے پناہ شراکت سے معاشرے میں بڑی مثبت تبدیلی لا رہے ہیں اور اعتماد پیدا کر رہے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ان کی اور ان جیسے بے شمار دیگر خواتین کی تہہ دل سے تعریف کی جنہوں نے اپنی بے لوث خدمات اور مضبوط قوت ارادی سے امن، خوشحالی اور سماجی تعاون کو آگے بڑھانے میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’اننت ناگ سے ہماری بیٹی صدف یوسف جو آئی ٹی سے فارغ التحصیل ہے۔صدف یوسف خواتین کو بااِختیار بنانے کے لئے کام کر رہی ہے اور معاشرے کے محروم طبقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لئے کوششیں کر رہی ہے۔ کووِڈ ۔19 وَبا کے دوران صدف یوسف نے ٹیلی کاؤنسلنگ سے خواتین، بزرگوں اور طلباء کی بے لوث خدمت کی‘‘۔ اُنہوں نے کہا کہ محکمہ سماجی بہبود کے ساتھ مل کروہ اننت ناگ کے دور دراز علاقوں میں صحت اور حفظان صحت سے متعلق بیداری پروگراموں پر کام کر رہی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے راجوری کے بلرگی گائوں کی رہنے والی سنیتا دیوی کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ متعدد چیلنجوں کا سامنا کرنے کے باوجود اُنہوں نے’اُمید‘ سیلف گروپ کے ذریعے اپنی زندگی میں ایک مثبت تبدیلی لائی اور پھر دور دراز علاقوںکے بچوں کے لئے ایک سکول شروع کیا۔اُنہوں نے مزید کہا کہ ان بچوں کے لئے ٹرانسپورٹ کا بندوبست کرنے میں ان کی کوششیں جو مشکل ٹپوگرافی کی وجہ سے سکول جانے سے قاصر ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے ریاسی کے شاپانو گاؤں کی مہک شرما کو جموں و کشمیر کی خواتین کے لئے ایک تحریک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈیری کاروبار کو قائم کرنے کی ان کی نئی کوششوں نے بہت بڑی تبدیلی لائی ہے کیوں کہ اس سے ان کے گاؤں اور آس پاس کے علاقوں کی دیگر خواتین کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے خواتین کو بااِختیار بنانے کے لئے مسلسل کوششیں کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر یوٹی حکومت اَپنی پالیسی اِصلاحات اور ہینڈ ہولڈنگ سکیموں سے جموں و کشمیر میں خواتین کی سماجی، اقتصادی اور تعلیمی حالت میں تیزی سے نمایاں تبدیلیاں لائے گی۔اُنہوں نے مزید کہا کہ ہم ایک مساوی معاشرے کے قیام کے لئے پُرعزم ہیں جہاں ہر شہری کو جموں و کشمیر کی خوشحالی کے فوائد حاصل ہوں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے رام نگر کے وِکاس شرما سے شاہراہوں پر بیت الخلا ء کی سہولیات کی فراہمی کے بارے میں حاصل کردہ تجویز کاحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تجویز شاہراہوں پر آرام کی جگہوں اور بیت الخلاء کی تعمیر کے ہمارے عزم کے مطابق ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے سری نگر کی مہرین الطاف کی طرف سے دیہی، کاٹیج صنعتوں کے فروغ اور مضبوطی سے متعلق ایک اور تجویز کا اشتراک کرتے ہوئے مشاہدہ کیا کہ دیہی اور کاٹیج صنعتیں دیہی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اور مذکورہ شعبے میں ایک نیا انقلاب لانے کے لئے حکومت کی طرف سے متعارف کی گئی اصلاحات پر روشنی ڈالی۔ لیفٹیننٹ گورنر نے یاد دِلایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے گڈ گورننس اور جامع ترقی کے نظرئیے سے کام کرتے ہوئے گذشتہ ڈیڑھ برس میں روزگار کے مقامات اور لوگوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے لئے بہت سے اقدامات کئے ہیں۔گذشتہ برس ہی کاریگروں کی مالی مدد اور ہنر مندی کی فراہمی کے لئے کار خانہ دار سکیم شروع کی گئی تھی جس نے دستکاری سے متعلقہ دیہی اور کاٹیج صنعتوں کو کافی حوصلہ دیا ہے ۔ اس کے علاوہ کھادی وِلیج اِنڈسٹری کمیشن ، کھادی وِلیج انڈسٹریز بورڈ اور رورل لائیو لی ہڈ مشن کے ذریعے مختلف دیہی اور کاٹیج صنعتوں کو بھی فروغ دیا جارہا ہے۔کھادی ولیج اِنڈسٹریز کمیشن کی طرف سے گذشتہ ایک برس میں 3,254 پروجیکٹوں کی مدد کی گئی جس سے 26,281 افراد کو براہ راست روزگار ملا۔ اسی طرح کھادی ولیج انڈسٹریز بورڈ نے ایک برس میں 8,500 مختلف پروجیکٹوں پر کام کیا تھا اور تقریباً 46,000 لوگوں کو 190 کروڑ روپے کی مالی امداد فراہم کرکے براہ راست فائدہ پہنچایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ جموں اور کشمیرصوبوں کے ڈائریکٹوریٹ آف انڈسٹریز نے 6,299 پروجیکٹوں کو 131 کروڑ روپے کی مالی امداد دی ہے اور چھوٹے کاروبار سے وابستہ تقریباً 15,000 لوگوں کو براہ راست فائدہ پہنچا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ صرف ایک سکیم کے تحت 386 کروڑ روپے کا فائدہ دے کر 88,170 لوگوں کے لئے فائدہ بخش ثابت ہوئی ہے۔ایس ایف یو آر ٹی آئی کے تحت دیہی اور کاٹیج صنعتوں کے کلسٹر قائم کرنے کی ہدایات پہلے ہی جاری کی جاچکی ہیں جس پر تیزی سے کام جاری ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ اب تک جموںوکشمیر یوٹی میں 8 کلسٹر بنائے گئے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے وِجے پور سانبہ سے تعلق رکھنے والے پنکج اتری کے مشورے کا ذکر کیا جس نے نوجوانوں سے متعلق اقدامات اور ترقی پسند اقدامات کو آگے بڑھانے کے مقصد کے لئے وقف جگہیں تفویض کرکے ہمارے معاشرے کے منظر نامے کو تبدیل کرنے کی ضرورت کو اُجاگر کیا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے سینٹر فار ڈ سٹرکٹ یوتھ ٹریننگ اینڈ امپاور منٹ ( ڈی وائی ٹی اِی۔ سی ) کو بلاک کی سطح تک لے جانے کا بھی ذکر کیا تاکہ طلباء کو اِمتحان کی تیاری ، ضروری کتابوں کی دستیابی ، اساتذہ ، کھیلوں اور جسمانی تربیت کی سہولیات فراہم کی جاسکیں تاکہ طلباء کو مزید سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ اسی طرح تمام 4,290 پنچایتوں میں یوتھ کلب قائم کئے گئے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے ہر ضلع میں طلباء کو زراعت اور باغبانی کے طریقوں میں تکنیکی تربیت دینے کے لئے ’’سٹوڈنٹ فارمر‘‘ کے قیام کے بارے میں پنکج کی تجویز کی تعریف کی اور یقین دِلایا کہ اس کو پیشہ ورانہ تربیت میں شامل کرنے کے لئے متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کی جائیں گی۔کولگام کے احسان خلیق کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے جس میں 10 اضلاع میں ’’خصوصی خواتین سیل‘‘ بنانے کے حال ہی میں اعلان کردہ پائلٹ پروجیکٹ کے فوائد کو اُجاگر کیا گیا تھا اور اسے جموںوکشمیر یوٹی کے تمام اضلاع تک توسیع دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے قابل عمل تجویز پر متعلقہ کارروائی کی یقین دہانی بھی کرائی۔اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر یہ بھی مشاہدہ کیاکہ وزیر اعظم نریندر مودی اس ماہ پنچایتی راج ڈے کے موقعہ پر جموں وکشمیر آرہے ہیں تاکہ ملک بھر میں ’’ گرام سوراج‘‘ قائم کرنے کے مرکزی حکومت کے عزم کو بانٹ سکیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ مجھے اُمید ہے کہ اِس تاریخی موقعہ پر جموںوکشمیر کی تمام 4,290 پنچایتوں کے عوامی نمائندے اور ہر شہری خود اِنحصاری ، ترقی اور امن کے راستے پر چلنے کے اَپنے عزم کا اعادہ کریں گے۔