وزیر اعظم کے دورہ جموں کشمیر کو حتمی شکل دی گئی

وزیر اعظم کے دورہ جموں کشمیر کو حتمی شکل دی گئی

تمام تر تیاریاں مکمل، حفاظتی کے خصوصی انتظامات ، بلیک کمانڈوز کی خدمات حاصل

سرینگر//وزیر اعظم نریندر مودی جو کہ 24اپریل کو جموں آرہے ہیں کے حوالے سے سرکاری سطح پر تمام تر تیاریاں مکمل کی جاچکی ہیں ۔ وزیر اعظم کے دورہ کے سلسلے حفاظت کے سخت انتظامات کئے جارہے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کے دورہ کے سلسلے میں بلیک کمانڈوز کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں اس کے ان کی یہاں موجودگی کے دوران ڈرون کے ذریعے آس پاس کے علاقوں کی نگرانی کی جارئے گی۔ وزیر اعظم نریندر مودی جموںکشمیر اور لداخ کی تقسیم اوردونوں خطوں کو یونین ٹریٹری بننے کے بعد24اپریل کو جموں کشمیر کا پہلا دورہ کریں گے ۔ اپنے دورہ کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی جموں سے ملک کی 700پنچائتوں اور کسانوں سے بات کریں گے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے اور سابقہ ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کرنے کے بعدیہ وزیر اعظم کا 24اپریل کوجموں و کشمیر کا پہلا دورہ ہوگا۔وزیر اعظم کے دورہ کے لئے سرکاری سطح پر تمام تر تیاریاں مکمل کی جاچکی ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ حفاظتی اقدامات بھی کڑے کئے جائیں گے اور ان کی موجودگی کے دوران بلیک کمانڈوز بھی تعینات کئے جارہے ہیں اس کے علاوہ آ س پاس کے علاقوں میں ڈرونز کے ذریعے علاقے کی نگرانی کی جائے گی ۔ وزیر اعظم سال 2019کے بعد پہلی مرتبہ تاہم انہوں نے 27 اکتوبر 2019 کو راجوری اور 3 نومبر 2021 کو جموں ڈویڑن کے نوشہرہ سیکٹر میں فوجی جوانوں کے ساتھ دیوالی منائی تھی۔ ریاست کے طور پر جموں و کشمیر کا ان کا آخری دورہ 3 فروری 2019 کو تھا جب انہوں نے تینوں خطوں بشمول جموں، سری نگر اور لداخ کا دورہ کیا تھا اور ہزاروں کروڑ روپے کے پروجیکٹوں کا آغاز کیا تھا۔ذرائع کے مطابق 24 اپریل کو وزیر اعظم نریندر مودی کے جموں ضلع میں پلی پنچایت کے دورے سے پہلے چھ مرکزی وزارتوں نے پنچایت کے تمام 340 گھروں کو شمسی توانائی سے سمیت انتظامات کرنے کے لیے ہاتھ ملایا ہے۔ مرکزی وزارت کی ایک ٹیم نے گزشتہ چند دنوں سے جموں ضلع پنچایت کا دورہ کیا۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ چھ مرکزی وزارتیں جو وزیر اعظم کے دورے کے لیے تعاون کر رہی ہیں ان میں سائنس اور ٹیکنالوجی، سائنسی اور صنعتی تحقیق کی کونسل، ارتھ سائنسز، خلائی، ایٹمی توانائی اور بائیو ٹیکنالوجی شامل ہیں۔سائنس اور ٹیکنالوجی کی مرکزی وزارت ڈاکٹر جتیندر سنگھ کی سربراہی میں ہے، جو وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت بھی ہیں۔ اس کی ایک ٹیم نے جموں ضلع کا تین روزہ دورہ کیا اور پنچایت پلی کا دورہ کیا، جسے وزیر اعظم کے 24 اپریل کے دورے کے لیے منتخب کیا گیا ہے اورانتظامات کا جائزہ لیا۔پنچایتی راج ڈے کی تقریب سے خطاب کرنے کے علاوہ، وزیر اعظم سے جموں و کشمیر میں صنعتی سرمایہ کاری شروع کرنے اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کے اپنے دورے کے دوران کچھ ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھنے کی بھی توقع ہے۔تاہم وزیراعظم کا باقاعدہ شیڈول ابھی جاری ہونا باقی ہے۔جموں و کشمیر میں سرمایہ کاری کی تجاویز بھی اس وقت تک 70,000 کروڑ روپے سے تجاوز کر سکتی ہیں جب تک وزیر اعظم اس سکیم کا باقاعدہ آغاز کریں گے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی جلد ہی جموں و کشمیر میں صنعتی سرمایہ کاری کا آغاز کریں گے۔حکومت ہند نے 6 جنوری 2021 کو جموں و کشمیر میں صنعتی ترقی کی اسکیم شروع کی تھی جو 28,400 کروڑ روپے کی تھی اور اس سے نجی شعبے میں نوجوانوں کے لیے 4.5 لاکھ سے 5 لاکھ ملازمتیں پیدا ہونے کی امید تھی۔