ہندوارہ//سابق وزیراعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے کہاہے کہ جموں کشمیر میں حالات ٹھیک نہیں ہے یہاں کے لوگوں کو دبامیں رکھا گیا ہے کشمیر کو ایک قید خانہ بنایا گیا ہے کوئی بھی یہاں سچ کی بات کرتا ہے اس کو تہاڈ جیل پہنچایا جاتا ہے چھاپا ماری سے کشمیر کے لوگ کافی تنگ آگئے ہیں لیکن کب تک یہ چلتا رہے گا۔جے کے این ایس نامہ نگارطارق راتھر کے مطابق ہری کرالہ پورہ کپوارہ میں ایک تعزیتی موقع پرمحبوبہ مفتی نے کہا جموں کشمیر میں حالات ٹھیک نہیں ہے جموں کشمیر کی حالات خراب ہے۔ انہوں نے کہا جس طرح سے کشمیر میں ماحول بنایا گیا ہے پکڑدھکڑ کا سلسلہ جاری ہے ملازمین کی نوکریوں سے نکالا جارہا ہے، سچ بولنے والوں کو جیل میں ڈال دیا جاتا یے ،یہاں کے میڈیا کو سچ لکھنے پر دبایا جاتا ہے، کئی صحافیوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہاکہ اس سے لگتا ہے کہ جموں کشمیر کے تشخص کو ختم کرنے کی کوشش ہورہی ہے اور وزیر اعظم خاموش تماشائی ہے جس پر یہ امید نہیں تھی۔ انہوں نے کہا یہ جو بھی حق کی بات کرتا ہے اس کو دباو میں ڈالا جاتا ہے کب تک یہ چلتا رہے گا۔ محبوبہ مفتی نے کہا خون خرابہ کسی مسلے کا حل نہیں ہے جموں کشمیر کے لوگ امن چاہتے ہیں اور یہ امن برقرار رہنا چاہئے جس کے لئے ہمیں ایک ہونا ہے ہمیں یکجہ ہونا ہے ۔محبوبہ مفتی نے لوگوں سے اپیل کہ لوگ میری آواز ہے جب میرے پیچھے لوگ ہونگے تبھی میں اپنی آواز بلند کرسکتی ہوں میری آواز آپ کی آواز جب لوگ ساتھ ہے تبھی کچھ ممکن ہے۔ انہوں ساتھ میں کہا پی ڈی پی کے ساتھ چلنا آسان کام نہیں ہے یہ وہ ایک جماعت ہے جو ایک بڑی لڑائی لڑ رہی ہے جو ایک مشکل لڑائی ہے، ہمیں ایک ہوکے ایک آوازبننے کی ضرورت ہے جب لوگ میرے پیچھے ہونگے تبھی میں اس جنگ کو لڑسکتی ہوں ابھی ہمیں سرکار نہیں بنانیہے یکجا ہونا ہے۔ محبوبہ مفتی نے حال ہی میں ہندوارہ واقع پر سخت الفاظ میں مذمت کرتے اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا یہ ایک بدقسمتی ہے کہ اب ہمیں مسجدوں کے اندر بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا مرحوم مفتی محمد سعید نے اس کا علاج کیا تھا لیکن اس کو اسوقت کسی نے ساتھ نہیں دیا چونکہ مرحوم مفتی صاحب کو یہ معلوم تھا کہ کشمیر کے لوگوں کے ساتھ کیا ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ االلہ کے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں۔انہوں نے کہا کہ ووندژلے شین گلے بے ای بہار‘اچھے دن پھر آئے گے لیکن اس کیلئے یکجا ہونا ہے ایک ہونا ہے۔ واضح رہے مجبوبہ مفتی ہری کرالہ پورہ کپوارہ میں پولیس اہلکار عامر کے گھر پر تعزیت پر تھی، عامر جو سرینگر شوٹ اوٹ میں مارا گیا تھا۔محبوبہ مفتی نے عامر کے خاندان کے ساتھ ڈھارس بندھ کی اور مرحوم کے ایصال ثواب کے لئے دعائے مغفرت کی اور لواحقین کو یہ صدمہ برادشت کرنے کی ہمت دیں۔انہوں نے کہا اس گھر کے ساتھ ہمارے کافی پرانے تعلقات ہے اور ان لوگوں کے لئے میرے گھر کے دروازے ہمشیہ کیلئے کھلے ہیں۔










