سری نگر //2سال تک جاری رہنے والی کووڈ 19صورتحال نے سماج کے تمام شعبوںکومتاثر کیاہے ۔جہاں نظام تعلیم درہم برہم ہوکررہ گیا،وہیں کاروباری ،تجارتی اورصنعتی ودیگر معاشی سرگرمیوںکے منفی اثرات اب نمایاں ہورہے ہیں ،کیونکہ ملک میں بے روز گاری کی شرح بڑھ رہی ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق ہندوستان کی معیشت کی نگرانی کرنے والے ایک ذمہ دار ادارے CMIE کی جانب سے ماہانہ بنیادوں پر ملک بھرمیں بے روز گاری کے حوالے سے سروے کیاجاتاہے ،اورحاصل کردہ اعدادوشمار کویہ ادارہ یاسینٹر اپنی ویب سائٹ پر دستیاب رکھتاہے۔سینٹر فار مانٹرینگ انڈین اکانومی CMIEکے مطابق 5اپریل 2022کوملک بھرمیں مجموعی شرح بے روزگاری 7.7فیصد تھی ،جس میں سے شہروں وقصبوںمیں بے روزگاری کی شرح 8.6فیصد اوردیہی علاقوںمیں شرح بے روز گاری اسے کم یعنی7.3فیصد تھی ۔سینٹر فار مانٹرینگ انڈین اکانومی CMIEکے مطابق سب سے کم بیروزگاری ریاست چھتیس گڑھ میں درج کی گئی ،جہاں محض0.6فیصد آبادی بے روز گار ہے جبکہ سب سے زیادہ بے روز گاری ریاست ہریانہ میں ہے ،جہاں شرح بے روز گاری 26.7فیصد ہے ۔بے روز گاری کے معاملے میں ریاست راجستھان اورجموں وکشمیر ایک برابر ہیں ،کیونکہ دونوں میں بے روزگاری کی شرح اپریل2022کے اوائل میں 25فیصد تھی ۔جنوری 2016سے مارچ2022تک جموں وکشمیرمیں بے روزگاری کی شرح میں مجموعی طورپر 100فیصد کااضافہ ہواہے ،گرچہ اس دوران کسی کسی مہینے بے روز گاری کی شرح10فیصدسے کم بھی ریکارڈکی گئی ۔ سینٹر فار مانٹرینگ انڈین اکانومی CMIE کی ویب سائٹ پردستیاب اعدادوشمار کے مطابق جنوری2016میں جموں وکشمیرمیں بے روز گاری کی شرح12.3فیصد تھی ۔فروری میں یہ شرح18فیصد ہوگئی ،مارچ میں13.8،اپریل10.5،مئی میں22.0،جون میں21.3،جولائی میں18.2،اگست میں24.0، ستمبر25.3، اکتوبر26.3، نومبر2016میں29.9اوردسمبر 2016میں بے روزگاری کی شرح21.3فیصد درج کی گئی ،خیال رہے2016میں گرمائی ایجی ٹیشن کی وجہ سے کئی ماہ کشمیرمیں معمول کی زندگی مفلوج رہی ،جس کااثر جموں صوبے کی معاشی سرگرمیوں پر بھی پڑا۔ اعدادوشمار کے مطابق جنوری2017میں جموں وکشمیرمیں بے روز گاری کی شرح21.7فیصد تھی ۔فروری میں یہ شرح9.5 فیصد ہوگئی ،مارچ میں17.7،اپریل17.1،مئی میں10.2،جون میں11.9،جولائی میں7.6،اگست میں7.3، ستمبر12.6، اکتوبر12.8، نومبر2017میں12.9اوردسمبر 2017میں بے روزگاری کی شرح14.0فیصد درج کی گئی ۔ اعدادوشمار کے مطابق جنوری2018میں جموں وکشمیرمیں بے روز گاری کی شرح10.0 فیصد تھی ۔فروری میں یہ شرح15.1فیصد ہوگئی ،مارچ میں14.0،اپریل10.7،مئی میں9.7،جون میں13.2،جولائی میں10.0،اگست میں8.0، ستمبر13.2، اکتوبر14.6، نومبر 2018میں11.2اوردسمبر 2018میں بے روزگاری کی شرح9.1فیصد درج کی گئی ۔ اعدادوشمار کے مطابق جنوری2019میں جموں وکشمیرمیں بے روز گاری کی شرح17.1 فیصد تھی ۔فروری میں یہ شرح15.2فیصد ہوگئی ،مارچ میں15.2،اپریل10.6،مئی میں16.3،جون میں14.7،جولائی میں16.3،اگست میں22.4، ستمبر 19.9 ،اکتوبر20.7،نومبر2019میں14.6اوردسمبر 2019میں بے روزگاری کی شرح12.5فیصد درج کی گئی ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 5،اگست 2019 کودفعہ370و35Aکی منسوخی اورجموں وکشمیرکی تقسیم وتنظیم نوکے پیش نظر ممکنہ گڑھ بڑھ کے پیش نظر اگست کے اوائل سے کئی ماہ تک سیکورٹی وجوہات کی بناء پر جموں وکشمیر میں سخت بندشیں عائد رہیں ۔سینٹر فار مانٹرینگ انڈین اکانومی CMIE کی ویب سائٹ پردستیاب اعدادوشمارکے مطابق جنوری2020میں جموں وکشمیرمیں بے روز گاری کی شرح21.1فیصد تھی ۔فروری میں یہ شرح20.8فیصد ہوگئی ،مارچ میں15.5،اپریل(دستیاب نہیں)،مئی میں18.7،جون میں17.9،جولائی میں10.9،اگست میں11.1 ،ستمبر16.2،اکتوبر16.1،نومبر2020میں8.6اوردسمبر 2020میں بے روزگاری کی شرح16.6فیصد درج کی گئی ۔دستیاب اعدادوشمارکے مطابق جنوری2021میں جموں وکشمیرمیں بے روز گاری کی شرح21.9فیصد تھی ۔فروری میں یہ شرح14.2فیصد ہوگئی ،مارچ میں9.5،اپریل11.9 ،مئی میں10.6،جون میں15.4،جولائی میں13.6،اگست میں21.4،ستمبر22.2،اکتوبر16.1،نومبر2021میں21.2اوردسمبر 2021میں بے روزگاری کی شرح15.0فیصد درج کی گئی ۔اب جہاں تک رواں سال یعنی2022کے پہلے تین ماہ کاتعلق ہے تو جنوری میں بے روزگاری کی شرح15.0،فروری میں13.2اورمارچ کے مہینے میں25.0فیصد ریکارڈکی گئی ،اوررواں ماہ کے اوائل میں جموں وکشمیرمیں بروزگاری کی شرح کاتناسب وہی تھا۔تاہم معاشی واقتصادی ماہرین کہتے ہیں کہ موسم بہار میں کامیاب سیاحتی سیزن اورموسم گرما میں کاروباری ،تجارتی ،صنعتی ،باغبانی ،زرعی اورتعمیراتی سرگرمیوںکی وجہ سے بے روز گاری کی موجودہ شرح میں کافی کمی آنے کی توقع ہے۔










