سری نگر//چیف سیکر ٹری ارون کمار مہتا کی صدارت میںآج سول سیکرٹریٹ سری نگر کے میٹنگ ہال میں جموںوکشمیر یوٹی کے تعمیراتی ورثے کی بحالی اور تحفظ کے لئے ایگزیکٹیو کمیٹی میٹنگ منعقد ہوئی۔میٹنگ میں سیکرٹری سیاحت سرمد حفیظ ، ڈائریکٹر آرکائیوز ، آرکیالوجی اور میوزیم راہل پانڈے ، چیف ٹائون پلانر کشمیرنے شرکت کی اور متعدد دیگر اَفسران اور متعلقین نے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ میٹنگ میں حصہ لیا۔ ابتداً، ڈائریکٹر آرکائیوز ، آرکیا لوجی اور میوزیم راہل پانڈے نے کمیٹی کو سکیم کے مقاصد اور سکیم پر اَب تک کی حصولیابی پر روشنی ڈالتے ہوئے سکیم کے مینڈیٹ کے بارے میں جانکاری دی۔اُنہوں نے کمیٹی کے سامنے 35مقامات کی ڈی پی آر بھی پیش کی جو سکیم کے پہلے مرحلے میں عملایا جائے گا ۔ان 35مقامات میں 17صوبہ کشمیر سے اور 18 مقامات جموں صوبے سے ہیں۔ ان 35سائٹس کے احیاء کے لئے ایک کثیر جہتی نقطہ نظر کو مد نظر رکھا گیاہے جس میں کچھ اِضافی ترقیاتی اجزأ جیسے زمین کی تزئین، نقطہ نظر کا راستہ، رہنمائی اور معلوماتی بورڈ، عوامی سہولیات، پینے کے صاف پانی کی سہولیت،روشنی، باؤنڈری وال وغیرہ کو شامل کرنا ہے ۔ ڈی پی آرز کی مجموعی اور جزو کے لحاظ سے مالیاتی تقسیم بھی کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی۔چیف سیکرٹری ارون کمار مہتا نے پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے کہاکہ جموںوکشمیر کی تاریخی ورثے اور تعمیراتی مقامات کی بحالی حکومت کی ترجیح ہے اور ان مقامات کو ان کے اَصل مقام پر بحال کرنے کے لئے مربوط کوششیں کرنے کی ضرورت ہے ۔اُنہوں نے اَفسران اور متعلقین کو ہدایت دی کہ وہ جموںوکشمیر کے تعمیراتی اور ورثے مقامات کی بحالی ، تحفظ اور دیکھ ریکھ کے لئے مختصر ، درمیانی اور طویل مدتی منصوبہ بندی اور حتمی شکل دیں۔اُنہوں نے کہا کہ شارٹ ٹرم پلانز کو فوری طور پر عمل میں لایا جائے جس میں لینڈ سکیپ ، اپروچ پاتھ ، لائٹنگ ، اِنفارمیشن بورڈ ، عوامی سہولیات جیسے اجزأ شامل ہیں اور باقی جولانگ ٹرم پلان کے تحت آتی ہیں وہ خود بخود چل جائیں گی۔اُنہوں نے کہا کہ منظور شدہ ایکشن پلان کے مطابق شراکت داروں کی مشاورت سے ورثے مقامات کو لوگوں کے لئے خوشگوار جگہ بنایا جائے اور اُنہوں نے کہا کہ ایک بار جب لوگ ان مقامات کا دورہ کرنا شروع کر یں گے تو اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اس پوری مشق کا مقصد بظاہر جموں و کشمیر میں مذہبی، ورثے اور ثقافتی مقامات کو محفوظ رکھنا ہے جس پر کثیر تعداد میں لوگ خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور یہ مقامات جموں و کشمیر کی جامع ثقافت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ایک تفصیلی پرزنٹیشن اور تفصیلی غوروخوض کے بعد ایگزیکٹو کمیٹی نے تمام 35 منصوبوں پر عملدرآمد کی منظوری دے دی ہے۔ کمیٹی نے پروجیکٹوں کی مؤثر اور سرعت سے تکمیل کے لئے ہیریٹیج کنسلٹنسی سروسز کی خدمات حاصل کرنے کی بھی منظوری دی ہے۔ کمیٹی کی اگلی میٹنگ میں محکمہ آرکائیوز، آرکیالوجی اور میوزیم متعلقہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مشاورت سے اضافی ورثے کی جگہوں پر کام کرے گا۔چیف سیکرٹری کی ہدایات کے مطابق 150 مقامات کو بحال برقرار رکھا جائے جن میں کل 75 صوفی مقامات اور 75 دیگر ثقافتی، مذہبی اور تاریخی اہمیت کے حامل تاریخی مقامات ہیں۔اِس کے علاوہ دِکش دیونے’’ ہیر ٹیج میپنگ‘‘ کا ایک تصوراتی خیال بھی کمیٹی کے سامنے پیش کیا۔ اس آئیڈیا کا مقصد ورثے مقامات کا ڈیجیٹل نقشہ بنانا اور اسے گوگل میپس سے جوڑنا تھا تاکہ جموں و کشمیریوٹی کا دورہ کرنے والے سیاحوں، مسافروں کو تعلیم اوراطلاع دینے اور ان کی مدد کی جا سکے۔ اس خیال سے قائل ہو کر، ایگزیکٹو کمیٹی نے جموںوکشمیر یوٹی کے لوگوں کے فائدے کے لئے مقامی شراکت داروں اور اَفراد کو شامل کرنے کے لئے کام کرنے کا مشورہ دیا۔ ایک بارمربوط کوششوںسے ان مقامات کو ان کے اصل مقام پر بحال کیا جائے گا، مختلف شراکت داروں اور اور مقامی لوگوں کی روزی روٹی کی سرگرمیاں بڑھ جائیں گی۔










