آئی ایس ڈی ایس نے منجیت کمار کو ایک کامیاب کاروباری شخصیت کے طور پر بااِختیار بنایا ہے

ہانجی دانتر میں آبی ذخائر تباہی کے تباہی کے دہانے پر

زرعی موسم شروع ہونے سے قبل آبپاشی نہرکی بحالی عمل میں لائی جائے : لوگوں کا مطالبہ

سرینگر //جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں محکمہ اری گیشن اور فلڈ کنٹرول کی غفلت شعاری کے نتیجے میں ضلع کے کئی نالوں کی حالت بگڑ گئی ہیں اور نالوں میں جگہ جگہ گندی و غلاظت پڑی ہوئی ہے جس کے باعث نالوں کا پانی آلود بن چکا ہے۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے مختلف علاقوں میں سدیوں پْرانے نالے جو کہ ایک زمانے میں اس قدر صاف و شفاف تھے کہ لوگ ان کنالوں اور نالوں کا پانی کھانے پینے کیلئے استعمال کرتے تھے۔ کیوں کہ اْس وقت ندی نالوں اور دیگر آبی ذخائر کی دیکھ ریکھ کیلئے کوئی بھی سرکاری محکمہ موجود نہیں تھا تاہم جب سے محکمہ اری گیشن و فلڈ کنٹرول وجود میں آیا ہے تب سے وادی کے تمام قصبہ جات اور اضلاع میں قدیم ندی نالوں کی حالت بگڑ گئی اور قدرتی نالوں کا پانی آلود ہ بن گیا ہے۔ سی این آئی نمائندے امان ملک کے مطابق ضلع اننت ناگ کے ہانجی دانتر علاقے میں قائم نالہ ہانجی دانتر اور دیگر درجنوں آبی کنال اور نالوں کی حالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ نالوں میں جگہ جگہ گندگی و غلاظت کے ڈھیر دکھائے دے رہے ہیں جس کی وجہ ان نالوں اور کنالوں کا پانی آلودہ ہوچکا ہے۔اور ناقابل استعمال ہے۔مقامی لوگوں نے سی این آئی نمائندے امان ملک کو بتایا کہ ماضی میں وقت وقت پر آبپاشی نہروں اور کوہلوں کی ڈریجنگ، صفائی اور مرمت ہوا کرتی تھی اور کسانوں کو بھی آبپاشی کی سہولیات آسانی سے میسر رہا کرتی تھی لیکن گذشتہ کئی برسوں میں ایسا کوئی بھی عمل نہیں ہورہا ہے اور آبپاشی کے یہ ذرائع دن بہ دن سکڑتے جارہے ہیں۔بعض گندگی اور غلاظت کے کوڑے دانوں میں تبدیل ہوگئیں جبکہ بعض صفائی کے فقدان سے بند ہونے کے قریب پہنچ گئی ہیں۔ ان آبپاشی نہروں اور کوہلوں کو یکسر نظر انداز کرنے کی وجہ سے کھیتوں کیلئے آبپاشی کی سہولیات دن بہ دن کم ہوتی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کے شعبے کیساتھ جموں وکشمیر کی ایک بہت بڑی آبادی وابستہ ہے اور یہ شعبہ یہاں کی معیشت کا اہم ستون رہا ہے لیکن ایسا محسوس ہورہاہے کہ ایک منصوبہ بند سازش کے تحت اس شعبہ کو ختم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور اس شعبے سے وابستہ کسانوں اور کاشتکاروں کو محتاج بنانے کے منصوبے پر کام جاری ہے۔ لوگوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ خواب غفلت سے جاگ کر زرعی موسم شروع ہونے سے پہلے پہلے جنگی بنیادوں پر آبپاشی نہروں اور کوہلوں کی صفائی، ڈریجنگ اور دیگر تجدیدی کام مکمل کریں۔ ادھر مقامی لوگوں نے محکمہ اری گیشن اور فلڈ کنٹرول کے خلاف سخت ناراضگی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ محکمہ کے ملازمین کی غفلت شعاری کی وجہ سے پچھلے سال ہانجی دانتر میں کھیتوں میں کھڑی فصل تباہ و برباد ہوگء, کیوں کہ مذکورہ محکمہ کے ملازمین نے ہانجی دانتر کنال کے پانی کو دوسری طرف وقت پر نہیں موڑا اور پانی کھیتوں میں ہی رہنے کی وجہ سے دھان کی فصل تباہ ہوگئی۔