ڈیزل کی قیمت میں 25 روپے فی لیٹر کا اضافہ، لیکن ریٹیل کنزیومرس متاثر نہیں!
سرینگر // اسمبلی انتخابات ختم ہونے کے بعد سے ہی امکانات ظاہرکئے جا رہے تھے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے تھوک صارفین کو زوردار جھٹکا دیتے ہوئے ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 25 روپے کا اضافہ کر دیا ہے۔ حالانکہ ریٹیل کنزیومرس پر اس کا اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ پٹرول پمپ پر خوردہ صارف کے لیے ڈیزل کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق ذرائع کے حوالے سے شائع کی گئی اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ دہلی میں ڈیزل خریدنے والے تھوک صارفین کو اب 115 روپے فی لیٹر ادا کرنا ہوگا۔ حالانکہ پٹرول پمپ پر ڈیزل 86.67 روپے فی لیٹر کی شرح سے فروخت ہو رہا ہے۔ ممبئی میں تھوک خریداروں کیلئے ڈیزل کی قیمت بڑھ کر 122.05 روپے فی لیٹر پہنچ گئی ہے۔ وہاں پٹرول پمپ پر فروخت ہو رہے ڈیزل کی قیمت 94.14 روپے فی لیٹر ہے۔واضح رہے کہ ڈیفنس، ریلوے اینڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن، پاور پلانٹ، سیمنٹ پلانٹ اور کیمیکل پلانٹ اہم تھوک کسٹمرس میں شامل ہیں۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں زیادہ مقدار میں تیل کا خرچ کرنے والے صارفین کی ضرورتوں کو الگ سے تیل فراہم کرتی ہیں۔ کمپنیاں ان کسٹمرس کے لیے تیل کے اسٹوریج اور ہینڈلنگ کے لیے خاص طور پر انتظام کرتی ہیں۔اس درمیان پٹرول پمپ پر ایندھن کی فروخت میں اس مہینے کافی اضافہ درج کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بس آپریٹرس اور مالس جیسے تھوک صارف آئل کمپنیوں سے سیدھے تیل آرڈر کرنے کی جگہ پٹرول پمپ سے ایندھن خرید رہے ہیں۔ اس سے ریٹیلرس کا خسارہ مزید بڑھ گیا ہے۔ اس معاملے کی سیدھے طور پر جانکاری رکھنے والے تین ذرائع نے کہا کہ نیارا انرجی، جیو-بی پی اور شیل جیسے پرائیویٹ رٹیلرس کو سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔ ایسے میں 136 دنوں سے مستحکم ریٹ پر پٹرول، ڈیزل فروخت کرنے کے مقابلے پمپ بند کرنا کمپنیوں کو زیادہ بہتر متبادل لگ رہا ہے۔










