این اِی پی ۔2020۔ ملک کے تعلیمی منظر نامے کو تبدیل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ
جموں//ملک کے تعلیمی منظر نامے کو تبدیل کرنے کے لئے مرکزی کابینہ نے 28 ؍ جولائی 2020ء کو قومی تعلیم پالیسی ( این اِی پی ) کو منظور ی دی تھی۔ حکومت نے 34 برس کے وقفے کے بعد 2.5لاکھ گائوں کی سطح کے شراکت داروں سے دو قومی پارلیمانی سطح کی کمیٹیوں کے لئے آرأ کو یکجا کیا ، 50ماہ سے زیادہ مشاورت اور ورکشاپوں اور آخیر میں نیشنل قومی پالیسی ( این اِی پی ) تشکیل دیا گیا۔جموںوکشمیر یوٹی اِنتظامیہ نے بھی این اِی پی ۔ 2020 کو عملایا ہے ۔جموںوکشمیر بنیادی طور پر ثقافت اور مقامی زبابوں کو فروغ دینے، طلباء کیلئے روزگار کے مواقع پید اکرنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے ۔ پیشہ ورانہ کورسوں ، ہم نصابی سرگرمیاں اور طلباء کے تبادلے کے پروگراموں کو این اِی پی کے تحت تعلیمی نظام کا لازمی حصہ بنایا جائے گا۔اعلیٰ تعلیم محکمہ نے مساوی رَسائی ، صنفی برابری اور سماجی و اِقتصادی طور پر پسماندہ گروپوں ( ایس اِی ڈی جیز) کی ترقی کے لئے این اِی پی ۔2020 کی عمل آوری کے لئے اِقدامات کرنا شروع کئے ہیں۔جے کے ایچ اِی ڈی نے متعدد اقدامات اُٹھائے ہیں اور کئی ریاستی اور مرکزی معاونت والی سکیموں پر عمل درآمد کیا ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر س سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ فیلو شپ ( ایل جی ایس ڈی ایف ) 2021ء میں شروع کی گئی ہے تاکہ حوصلہ اَفزا نوجوان پیشہ ور اَفراد کو یوٹی میں سٹریٹجک منصوبہ بندی ، ترقیاتی پالیسیوں اور اِقدامات کی عمل آوری میں اَپنا حصہ اَدا کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا جاسکے۔ اے آئی سی ٹی اِی۔ پرگتی سکیم کے تحت 124 طلباء مستفید ہوئے ہیں اور یہ تعداد ہر سال بڑھتی جار ہی ہے۔پی ایم ایس ایس ایس سکیم کے تحت جموںوکشمیر سے باہر اَنڈر گریجویٹ تعلیم حاصل کرنے کے لئے گذشتہ سال 4,488طلاب کو سکالر شپ دی گئی ہے۔جسمانی طور پر معذور طلباء کے لئے اے آئی سی ٹی اِی ۔ سکشم سکالر شپ سکیم کو بھی کامیابی کے ساتھ عملایا گیا ہے۔محکمہ فنون ، موسیقی ، سنسکرت ، لسانیات ، اُردو ، پنجابی ، ڈوگری اور ماحولیاتی علوم کو فروغ دینے کے لئے یوجی اور پی جی سطح پر کئی پروگرام پیش کر رہا ہے ۔ محکمہ اعلیٰ تعلیم نے ہنر میں اِضافہ اور ملازمت کے لئے اگلے تعلیمی سیشن سے بی ووکیشنل شروع کرنے کے لئے 16 ڈگری کالجوں کی نشاندہی کی ہے۔تحقیق، اِختراعات اور ٹیکنالوجی کے اِنضمام کو فروغ دینے کے لئے ڈگری کالجوں میں کئی ریسرچ اینڈ انوویشن سینٹروں ، انوویشن اینڈ انکیو بشن سینٹروں ، برائوزنگ سینٹروں ،سمارٹ / ڈیجیٹل قائم کئے گئے ہیں۔مزید یہ کہ پی پی پی موڈ کے تحت 14 مختلف کالجوں میں ایجاد اختراع ، انکیو بشن اینڈ ٹریننگ ( سی آئی آئی آئی ٹی ) کے مراکز کے قیام کے لئے بھی عمل شروع کیا جارہا ہے۔محکمہ نے تدریس اور سیکھنے کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے جموںوکشمیر یوٹی میں ڈگری کالجوں کے این اے اے سی کی منظوری کے لئے کئی اقدامات کئے ہیں ۔دسمبر 2022ء تک این اے اے سی کی منظوری حاصل کرنے کے لئے 100 کالجوں کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ’’ آن لائن اور اوپن اینڈ ڈسٹنس لرننگ ( او ڈی ایل ) ایجوکیشن سمیت رَسائی ‘‘ اور’’ٹیکنالوجی کے انضمام سے تعلیم کی تبدیلی ‘‘ کو حل کرنے کے لئے جے کے ہائیر ایجوکیشن تمام ڈگری کالجوں کو سنگل پلیٹ فارم نیٹ ورکی خاطر ’’ جے کے اِی گورننس سسٹم ‘‘ شروع کرنے جار ہی ہے ۔اس سے اداروں کی نگرانی، آن لائن لرننگ اینڈ ٹیچنگ، دستاویزات کی آن لائن جمع کرنے میں مدد ملے گی۔قومی نیشنل پالیسی ۔ 2020 کے تحت جموںو کشمیر اعلیٰ تعلیم محکمہ بنیادی طور پر جموںوکشمیر یوٹی میں ایک زیادہ جامع اور کثیر الشعبہ تعلیم کے قیام پر توجہ مرکوز کر رہا ہے ۔ اس کے علاوہ بی ووکیشنل کورسوں ( بیچلر آف ووکیشنل ایجوکیشن ) ، جی ڈی سیز میں آنرس اور پی ایچ ڈی پروگراموں کا تعارف بھی شامل ہے ۔ جیسا کہ ایچ اِی آئی میں اکیڈمک بینک آف کریڈٹ ( اے بی سی ) کا قیام بھی این اِی پی ۔ 2020 کے تحت ایچ اِی ڈی کا بنیادی مقصد ہے۔مزید برآں ، ایک نئی نیشنل ریسرچ فائونڈیشن ، جے کے ۔ ریسرچ فائونڈیشن سے تمام شعبوں میں کوالٹی اکیڈمک ریسرچ کو متحرک کرنا اور کالجوں میں انوویشن اور انکیوبشن سینٹروں کا قیام بھی این اِی پی کے تحت ایچ اِی ڈی کے بڑے مقاصد ہیں۔مزید یہ کہ حکومت اِدارہ جاتی تنظیم نو او رحکومت کی یکجہتی کی منظوری کا بھی منصوبہ رکھتی ہے ۔ ڈگری کالجوں اور خود مختاری کی طرف بڑھتے ہوئے فیکلٹی اور طلباء کے تبادلے کے پروگرام کو بڑھانا ہے ۔










