حد بندی کمیشن کی تازہ تجاویز نے جموں و کشمیر کے عوام کو مایوسی کر دیا:ڈاکٹر فاروق عبد اللہ

حد بندی کمیشن کی تازہ تجاویز نے جموں و کشمیر کے عوام کو مایوسی کر دیا:ڈاکٹر فاروق عبد اللہ

سری نگر//نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے حد بندی کمیشن کی حالیہ سفارشات کو بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کمیشن بی جے پی کے حق میں کام کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کمیشن سے جموں و کشمیر میں لوگوں کو مزید دور کر دیا ہے۔ جے کے این ایس کے مطابق ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ہفتے کے روز یہاں گپکار میں واقع اپنی رہائش پرپیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ کی میٹنگ کے بعد ایک پریس کانفرنس میں نامہ نگاروں کے سوالوں کا جواب دینے کے دوران کہاکہ’ حد بندی کمیشن نے جو کیا وہ انتہائی بد قسمتی ہے اس سے جموں وکشمیر کے لوگ مزید دور ہی ہوگئے ہیں‘۔ نیشنل کانفرنس کے صدرڈاکٹر فاروق جوپی اے جی ڈی کے صدر بھی ہیں ،کا کہنا تھاکہ حد بندی کمیشن نے بی جے پی کے حق میں کام کرتا ہے۔انہوںنے کہاکہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں کہ تو کمیشن کا منصوبہ یہ ہے کہ’ دفعہ370 کی منسوخی کے متعلق بی جے پی جموں وکشمیرکی اسمبلی میں ایک قرار داد پاس کرکے اس کو خود عدالت عظمیٰ میں لے گی اور اپنی جیت کا اعلان کرے گی‘۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ حد بندی کمیشن نے اس طریقے سے نشستوں کی ترتیب کی کہ جس سے بی جے پی کو فائدہ پہنچے گا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ حد بندی کمیشن کی تازہ تجاویز نے جموں و کشمیر میں بیگانگی بڑھا دی ہے۔انہوں نے کہا کہ حد بندی کمیشن کی طرف سے دی گئی سفارشات متعصبانہ ہیں اور کمیشن نے جو کچھ بھی کیااور کہا ہے، اس نے درحقیقت جموں و کشمیر میں بیگانگی کو بڑھا دیا ہے۔ ڈاکٹر فاروق نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کو فائدہ پہنچانے اور انتخابات میں پارٹی کو آگے بڑھانے میں مدد کرنے کیلئے سیٹوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔انتخانات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس انتخابات میں حصہ لے گی۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک نیشنل کانفرنس کا تعلق ہے، ہم ہر صورت الیکشن لڑیں گے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا پی اے جی ڈی مشترکہ طور پر انتخابات لڑے گی، ڈاکٹرفاروق نے کہاکہ اس موڑ پر اس مسئلے پر تبصرہ کرنا قبل از وقت ہے۔ الیکشن آنے دیں، بہت سے لوگ الیکشن لڑنے کے لئے ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔