ضلع ترقیاتی کمشنر کپواڑہ نے ضرورت مندوں اور بے سہارا لوگوں میں کھانے کی اشیاء تقسیم کیں

کشتواڑ کے مڑوہ واڈون تحصیل میں لوگ تمام تر سہولیات سے محروم

سرینگر// کشتواڑ کے مڈوہ واڈون تحصیل کو قدرت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ سرکاری دفاتر میں تعینات غیر مقامی افسران کبھی کبار ہی دفاتر میں حاضر ہوتے ہیں جبکہ عوام کے مسائل کے ازالہ کی طرف سرکار کی طرف سے کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ محکمہ مال ، محکمہ صحت اور ، پی ایچ ای، پی ڈی ڈی اوردیگر محکمہ جات کی کارکردگی زمینی سطح پر صفر دکھائی دے رہی ہے۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جہاں سرکار کی جانب سے دیہی علاقوں میں ہر طرح کی سہولیات بہم رکھنے کے دعوے کئے جارہے ہیں وہیں پر صوبہ جموں کے ضلع کشتواڑ میں مڈوہ واڈون نامی تحصیل جو کہ ایک پچھڑا ہوا تحصیل ہے میں لوگوں کو ہر طرح کی بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔ بجلی پانی تو دور کی بات اس تحصیل میں کئی کلو میٹر طے پکی سڑکیں بھی نہیں بنائی گئی ہے جس کی وجہ سے تحصیل کی نصف سے زیادہ آبادی ٹرانسپورٹ کی سہولیات سے بھی مرحوم ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ مڈوہ کے 80 فیصدی علاقے اس دورجدید میں بھی بجلی، پانی اور طبی سہولیات سے محروم ہے۔ مقامی لوگوںنے کہا ہے کہ یہاں پر تحصیل آفس، بلاک دفاتر ، طبی مراکز ، پی ڈی ڈی اور پی ایچ ای ، محکمہ شیپ اینڈ ہسبنڈری کے دفاتر تو موجود ہیں لیکن ان دفاتر میں تعینات افسران برائے نام ہے۔ ان کی پوسٹنگ یہاں پر تو ہے لیکن وہ یہاں پر آنے کی زحمت گوارا نہیں کررہے ہیں۔ لوگوں نے کہا کہ لوگوں کے روز مرہ کے مسائل کے ازالہ کیلئے جب بھی لوگ متعلقہ دفاتر جاتے ہیں تو انہیں یہ سن کر مایوسی ہوتی ہے کہ صاحب آج نہیں آئے ہیں بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ صاحب کئی دنوں سے نہیں آئے اور پتہ بھی نہیں کہ کب آنا ہے۔ مقامی لوگوں نے سی این آئی نمائندے امان ملک کو کہا کہ افسران سرکاری خزانوں سے یہاں کی پوسٹنگ کیلئے تنخواہ تو حاصل کرتے ہیں لیکن ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوتے۔ لوگوں کے مطابق افسران غیر مقامی ہونے کی وجہ سے وہ یہاں پر نہیں آتے جبکہ دیگر عملہ جس میں قریب 90 فیصدی مقامی ہے دفاتر میں حاضر تو ہوتے ہیں لیکن افسران موجود نہ ہونے سے وہ عوام کو کوئی راحت پہنچانے کے قابل نہیں ہے۔لوگوں کے مطابق نہ ایگزکیٹیو انجینئر ، نہ بی ڈی او اور نہ اورکوئی آفیسر دفتر میں موجود رہتا ہے۔