یوکرینی فوجی کیف کی طرف بڑھتے روسی فوجیوں کا مقابلہ کر رہے ہیں، تاہم جمعے کو یوکرین کے صدر ولودیمر زیلینسکی نے کیف میں رہنے کا عظم کیا ہے۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق روس کا یوکرین پر زمین، آسمان اور سمندر سے لانچ کیا جانے والا حملہ کسی بھی یورپی ملک پر دوسری جنگِ عظم کے بعد ہونے والا سب سے بڑا حملہ ہے۔دھماکوں اور گولیوں کی بارش کے دوران تقریباً ایک لاکھ افراد یوکرین چھوڑ کر جاچکے ہیں جبکہ درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک صحافی کے مطابق یوکرین کے دارالحکومت کیف کی وسط میں جمعے کو دو زور دار دھماکے سنائی دیے ہیں۔
یوکرین کے وزیر خارجہ دومترو کولیبا نے جمعے کی صبح کیف پر ہونے والے ’خوفناک راکٹ حملوں‘ کی مذمت کی ہے۔ٹوئٹر پر ان کا کہنا تھا کہ ’اس سے پہلے ہمارے دارالحکومت پر ایسا 1941 میں ہوا تھا، جب نازی جرمنی نے حملہ کیا تھا۔‘یوکرین کے صدر ولودیمر زیلینسکی نے جمعے کو خبردار کیا کہ روسی ’سبوتاژ گروپس‘ کیف داخل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے شہریوں کو چوکنا رہنے کی ہدایت کی۔واضح رہے کہ گذشتہ روز روس کے فوجیوں نے اپنے پڑوسی ملک یوکرین پر حملہ کیا تھا۔
کریملن کی جانب سے بڑے پیمانے پر کیے جانے والے حملے پر یوکرینی صدر نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو روس سے لڑنے کے لیے اکیلا چھوڑ دیا گیا ہے۔ایک ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اپنے ملک کا دفاع کرنے کے لیے اکیلا چھوڑ دیا گیا ہے۔ کون ہمارے ساتھ لڑنے کے لیے تیار ہے؟ مجھے کوئی نظر نہیں آتا۔‘جمعرات کو روسی صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے حملے کے اعلان کے بعد یوکرین کے شہروں میں شیلنگ ہوتی رہی جس کے بعد شہریوں کو ٹرین کے سٹیشنوں میں پناہ لینی پڑی۔روسی پیراٹروپرز نے بیلاروس سے ہیلی کاپٹرز اور جنگی طیاروں کے ساتھ داخل ہوتے ہوئے کیف کے شمال مغربی مضافات میں گوسٹومیل ایئرفیلڈ کا کنٹرول حاصل کیا۔










