کیا پانچ برسوں میں چین خلائی تحقیق میں امریکہ سے آگے نکل جائے گا؟

کیا پانچ برسوں میں چین خلائی تحقیق میں امریکہ سے آگے نکل جائے گا؟

فلکیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مارچ کی 4 تاریخ کو ایک چینی راکٹ چاند کی سطح سے ٹکرا سکتا ہے۔ متوقع حادثے کی خبر ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب بیجنگ کی جانب سے بیرونی خلا کی ترقی اور پیش رفت کے پانچ سالہ منصوبے کا ایک خاکہ پیش کیا گیا ہے جس میں سیٹلائٹس، خلا میں مزید گہرائی تک جانے اور مزید لوگوں کو مدار میں بھیجنے کا ذکر ہے۔تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چین، اپنے راکٹ کے متوقع حادثے کے باوجود بیرونی خلا میں پیش رفت کے بہت سے اہداف اپنے پانچ سالہ منصوبے کے دوران حاصل کر سکتا ہے ۔چین کے خلائی پروگرام کو خاص طور پر خلائی ٹیکنالوجی کو تجارتی مقاصد کے استعمال کے حوالے سے، روس اور امریکہ کے خلائی پروگراموں کے حریف کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
ٹیل گروپ مارکیٹ انیلیسز فرم کے خلائی شعبے کے ڈائریکٹر مارکو کیسرز کا کہنا ہے کہ “چین کو بڑھتی ہوئی مسابقت کے تناظر میں سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے”۔ان کا مزید کہنا تھا کہ” اگرچہ اس سلسلے میں امریکہ چین جیسے ملکوں سے آگے ہے، لیکن ان کی معیشتیں تیزی سے ترقی کر رہی ہیں اور وہ اس تک پہنچنے والے ہیں”۔
ماضی سے مستقبل کا سفر
چین نے اپنا پہلا سیٹلائٹ 1970 میں خلا میں بھیجا تھا اور اپنا پہلا خلاباز 2003 میں خلا میں اتارا تھا جس سے وہ یہ سنگ میل عبور کرنے والا روس اور امریکہ کے بعد دنیا کا تیسرا ملک بن گیا۔2019 میں، چین کے ایک خلائی جہاز نے چاند کے ایک دور افتادہ حصے میں تاریخی لینڈنگ کی اور اب بیجنگ اس سال کے آخر میں خلا میں اپنے ” تیانگونگ” خلائی اسٹیشن کو فعال کرنے کے مراحل طے کر رہا ہے۔
امریکہ کے اپنے سیکیورٹی خدشات کی بنا پر چین کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے استعمال سے خارج کر دیا گیا ہے ۔ اس خلائی اسٹیشن کی سرگرمیوں کے لیے یورپ، امریکہ، روس، جاپان اور کینیڈا تعاون کرتے ہیں۔چین کے خلائی پروگرام “اے 2021 کا تناظر” کے مطابق اگلے پانچ برسوں کے دوران بیجنگ خلامیں سائنسی تحقیق، مریخ پر اپنی تحقیق مکمل کرنے اور نظام شمسی کے ایک سیارے مشتری کے بارے میں اپنی تحقیق کے لیے طویل مدتی خلائی سرگرمیاں جاری رکھے گا۔