دس لاکھ تقرریوں کا اعلان محض ایک انتخابی دھوکہ: مایاوتی

پرانی پینشن نظام کی بحالی ایک بڑا انتخابی مدا، اکھیلیش کے بعد مایاوتی کا بھی بحالی کاوعدہ

سماجو ادی پارٹی(ایس پی)سربراہ اکھلیش یادو کے بعد اب بہوجن سماج وادی پارٹی(بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے بھی اعلان کیا ہے کہ اترپردیش میں حکومت بننے پر ان کی حکومت پرانی پینشن نظام کو بحال کرے گی۔مایاوتی نے اوریا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی ایس پی کی حکومت بننے پر پرانی پینشن نظام کو پھر سے نافذ کیا جائے گا۔ قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے اکھلیش نے اترپردیش میں ایس پی کی حکومت بنے پر پینشن نظام کو بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس دوران انہوں نے ریاست میں نظم ونسق کی حالت کو کافی خستہ قرار دیتے ہوئے دلتوں کے ساتھ ہورہے مظالم کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے حال ہی میں ایک دلت لڑکی کی اناؤ میں قتل کے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بی ایس پی کی حکومت بننے پر بی جے پی اور ایس پی حکومتوں کی طرح نظم ونسق کو کسی بھی قیمت پر لچر نہیں ہونے دیا جائے گا۔
مایاوتی نے بی جے پی حکومت پر مسلم اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے ساتھ تفریقانہ رویہ اپناے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ مسلم سماج اس حکومت میں سب سے زیادہ دکھی ہے۔ وہیں اس حکومت میں برہمن سماج نے اپنے آپ کو نظرانداز محسوس کیا ہے۔ اتنا ہی بی جے پی حکومت میں دلتوں اور پچھڑوں کو ریزرویشن کا فائدہ نہیں مل پارہا ہے۔ایس پی حکومت پر بھی انہوں نے ریزرویشن ختم کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ایس پی حکومت میں ایس سی سماج و ایس ٹی کا سرکاری ٹھیکوں میں ریزرویشن ختم کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظام پہلی بار بی ایس پی حکومت میں کیا گیا تھا۔ اتنا ہی نہیں دلت سماج کے طلبہ کا بیرون ممالک جاکر پڑھائی کرنے کی اسکیم کو بھی ختم کردیا گیا۔
بی ایس پی سپریمو نے بی جے پی اور ایس پی حکومت میں نوجوانوں کی بے روزگاری کو اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دس سالوں میں لوگوں کو روزگار نہ ملنے کی وجہ سے نقل مکانی کرنی پڑی ہے۔ بی ایس پی کی حکومت بننے پر بے رزگار نوجوانوں کو روٹی۔روزی کے وسائل ضروری فراہم کئے جائیں گے جبکہ کورونا وبا کے دوران عوام کی حالت او ر بھی زیادہ خراب ہوگئی۔مایاوتی نے بی ایس پی کی سابقہ حکومتوں کی حصولیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایس پی اور بی جے پی کی عوام مخالف حکومتوں سے نجات پانے کے لئے عوام کو اپنی واحد خیر خواہ پارٹی بی ایس پی کی ہی حکومت بنانا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس پی کی چاروں حکومتوں میں بغیر کسی تفریق کے سبھی طبقات کے لئے کام کیا گیا۔