لفٹینٹ گورنر نے جموں میں ڈرگ ڈی ایڈکشن سنٹر کا سنگِ بنیاد رکھا

لفٹینٹ گورنر نے جموں میں ڈرگ ڈی ایڈکشن سنٹر کا سنگِ بنیاد رکھا

ہمارا مقصد نوجوانوں کو نشے سے دور کرنا اور انہیں معاشرے کے مرکزی دھارے میں لانا ہے ۔ ایل جی

جموں //لفٹینٹ گورنر منوج سنہا نے جموں میں منشیات سے چھٹکارا مرکز کا سنگِ بنیاد رکھا ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ منشیات سے چھٹکارا مرکز ایک مربوط مرکز کے طور پر کام کرے گا جہاں نشے کے عادی افراد کا اعلاج کیا جائے گا ، ان کی مشاورت کی جائے گی ، نئی پیداواری مہارتیں سیکھنے کے قابل بنایا جائے گا اور انتہائی احتیاط اور پیار کے ساتھ ان کی بحالی کی جائے گی ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ ہم منشیات کے استعمال کے تشویشناک رحجان کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد نوجوانوں کو نشے سے دور کرنا اور انہیں سماج کے مرکزی دھارے میں لانا ہے ۔ ایل جی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحتیں ہیں اور وہ مختلف شعبوں میں بڑی بلندیاں حاصل کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں کو منشیات کے ذریعے اندھیروں میں دھکیلنے کیلئے سرحد پار سے ایک سازش رچی جا رہی ہے ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر حکومت نے پڑوسی ملک کی طرف سے شروع کی گئی منشیات کی دہشت گردی سے لڑنے کیلئے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں ۔ لفٹینٹ گورنر نے مزید کہا کہ ہم نے کچھ زیادہ خطرے والے اضلاع کی نشاندہی کی ہے جن میں کمیونٹی کی شرکت ، عوامی تعاون اور نوجوانوں کی قیادت میں بیداری مہم کو بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تا کہ منشیات کے استعمال کی لعنت کا مقابلہ کیا جا سکے ۔ لفٹینٹ گورنر نے معاشرے سے منشیات کی لت کو ختم کرنے کیلئے عزم سے سے کام کرنے کیلئے سیکورٹی فورسز ،جموں و کشمیر پولیس ، انسداد منشیات ٹاسک فورس ، سرکاری محکموں اور رضاکاروں کی تعریف کی ۔ لفٹینٹ گورنر نے منشیات کے استعمال کے خلاف کوششوں میں اضافے کیلئے یوتھ کلبوں اور خواتین کو مہمات میں شامل کرنے کی تجویز دی ۔ اس موقع پر ڈی جی پی جموں و کشمیر دلباغ سنگھ ، جے ایم سی مئیر چندر موہن گپتا ، ممبر پارلیمنٹ جگل کشور شرما نے بھی اپنے اپنے خطاب میں منشیات کی روکتھام پر زور دیا ۔ اس موقع پر اے ڈی جی پی جموں مکیش سنگھ ، ڈویژنل کمشنر جموں راگھو لانگر ، ڈپٹی مئیر جے ایم سی محترمہ پورنیما شرما ، سابق قانون ساز دیویندر سنگھ رانا ، ڈی سی جموں انشول گرگ ، یو ایل بی اور پی آر آئی کے نمائندے اور پولیس کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے ۔