جموں / /اودھمپور ۔ سرینگر ۔ بارہمولہ ریلوے لائن ہندوستانی حکومت کے سب سے قابل ذکر پروجیکٹوں میں سے ایک ہے ۔ یہ پروجیکٹ مکمل ہو جانے کے بعد یو ٹی کیلئے انقلابی ثابت ہو گا کیونکہ یہ یہاں کے اقتصادی منظر نامے کو بدل دے گا ۔ریلوے لائن نہ صرف وادی کشمیر کو ہمہ موسمی رابطہ فراہم کرے گی بلکہ نقل و حمل کے اخراجات کو بھی کافی حد تک کم کرے گی اور جموں و کشمیر کی نقل و حمل کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھے گی ۔ ریلوے ٹریک کی لاجسٹکس کو بہت سے قدرتی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ انتہائی درجہ حرارت اور پہاڑی علاقوں سے لڑتے ہوئے اسے بڑے زلزلے والے زون کے ذریعے تعمیر کیا جانا تھا ۔ اگرچہ جموں سے کٹڑہ اور بانہال سے بارہمولہ تک کے حصے بنائے گئے ہیں اور چل رہے ہیں ، کٹڑہ سے بانہال تک کا ٹریک ابھی مکمل ہونا باقی ہے ۔مزید یہ کہ ریلوے لائن کی کپواڑہ تک توسیع کو بھی منظوری دی گئی ہے ۔ ماضی کی تاریخوں میں واپس آتے ہوئے سابقہ ریاست میں پہلا ریلوے ٹریک 1897 میں اس وقت کی نوآبادیاتی حکومت نے سیالکوٹ ( پاکستان ) سے جموں تک بچھایا تھا ۔ 1947 میں تقسیم ہند کے ساتھ ہی سیالکوٹ کے پاکستان جانے کے بعد سے جموں سیالکوٹ لائن بند ہو گئی ۔ نتیجے کے طور پر جموں کشمیر کی پوری ریاست ہندوستانی ریل نیٹ ورک سے منقطع ہو گئی اور ریاست پنجاب کا پٹھان کوٹ قریب ترین ریلوے ہیڈ بنا رہا ۔ اس کے بعد 1975 میں پٹھان کوٹ اور جموں کے درمیان ایک ریل رابطہ قائم کیا گیا اور ایک مرمت شدہ جموں توی ریلوے اسٹیشن کھولا گیا ۔ یہ اگلے 30 برسوں تک ریلوے لائن کے شمالی سرے پر رہی جب تک کہ جموں تا اودھمپور لائن 2005 میںنہیں کھولی گئی تھی ۔ جموں ۔ اودھمپور کے حصے میں 20 سرنگیں ہیں ، سب سے لمبی سرنگ 2.5 کلو میٹر لمبی ہے جبکہ سب سے اونچے پُل کی لمبائی 77 میٹر ہے ۔ وادی کشمیر کو شمالی ریلوے گرڈ سے جوڑنے کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے حکومت ہند نے 2002 میں جموں ۔ بارہمولہ ریلوے لائن کو ایک قومی منصوبہ قرار دیا ۔ اپریشنل طور پر جموں ۔ بارہمولہ ریلوے لائن کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ جموں ۔ بارہمولہ ریلوے لائن کی ایک اہم کامیابی 11 کلو میٹر لمبی پیر پنچال ریلوے ٹنل کی تکمیل تھی جسے بانہال ۔ قاضی گنڈ ٹنل بھی کہا جاتاہے ۔ یہ ٹنل انتہائی چیلنجنگ تھی اور اس کی تکمیل کو ایک شاندار کامیابی کے طور پر سراہا گیا کیونکہ یہ ہندوستان کی سب سے طویل ریل ٹنل تھی اس کی اوسط بلندی 1760 میٹر ہے اور جواہر ٹنل سے 440 میٹر نیچے ہے ۔ یہ ٹنل وادی کشمیر کو باقی ملک کے ساتھ تمام موسمی رابطہ فراہم کرتی ہے ۔ ابھی تک کٹڑہ ۔ بانہال سٹریٹ کی تعمیر پوری رفتار کے ساتھ چل رہی ہے یہ سٹریچ 111 کلو میٹر ہے لیکن اس حصے کا تقریباً 98کلو میٹر حصہ پُل اور ٹنل پر مشتمل ہے ۔ ان پلوں میں سلال ہائیڈرو الیکٹرک ڈیم کے قریب دریائے چناب کی گہری کھائی پر تعمیر ہونے والا پُل بھی ہو گا۔ فولاری محرابوں کا یہ پُل 1315 میٹر لمبا اور زمین سے 359 میٹر کی بلندی پر ہے ۔ یہ انجینئرنگ کا کمال ہے جو ایفل ٹاور کی اونچائی سے 35 میٹر زیادہ ہے ۔ ٹریک کیلئے مستقبل میں بجلی کی فراہمی کیلئے بھی انتظامات کئے جائیںگے ، حالانکہ ریل لائن ابتدائی طور پر ڈیزل انجنوں کا استعمال کرے گی ۔ مسافر ٹرینوں کو ہائی پاور ڈیزل ایک سے زیادہ یونٹ اور گرم ائر کنڈیشنڈ کوچز فراہم کی جائیں گی جن میں چوڑی کھڑکیاں ، سلائیڈنگ دروازے اور ٹیک لگائے ہوئے سیٹیں ہوں گی ۔ مختصراً یہ بلا شبہ کہا جا سکتا ہے کہ جموں ۔ بارہمولہ ریلوے لائن ایک بار مکمل ہو جانے کے بعد جموں و کشمیر یوٹی کی معیشت ،کنکٹوٹی ، سیکورٹی اور ترقی کو بہت بڑا فائدہ دے گی ۔
مغربی ایشیا پر کانگریس کے بیانات اشتعال انگیز، بھارتیوں کی جانوں کو خطرہ// وزیر اعظم
جموں و کشمیر میں 2100 سے کوڑا کرکٹ چھاٹنے کے شیڈ تعمیر
محکمہ صحت میں نئی عارضی بھرتیوں کی تجویز نہیں
3 برسوں میں 10 ہزار سے زائد اسامیاں مشتہر
راشن کی تقسیم کاری نظام
باغ گل لالہ میں 15 دن میں تقریباً 1.78 لاکھ سیاحوں کی آمد
کے اے ایس افسران کا 13 سالہ جمود پر اظہار تشویش
جموں و کشمیر میں ونڈ انرجی کے فروغ کا کوئی امکان نہیں
سیلابی نقصان کے باعث 9 میگاواٹ سیوا-III ہائیڈل پروجیکٹ بند
2,671 راشن کارڈ منسوخ، 14.4 لاکھ ترجیحی راشن کارڈ جاری










