2022کا مشن جموں و کشمیر میں عسکریت پسندی کے گراف کو 100 سے نیچے لانا ہے:آئی جی پی کشمیر

سری نگر// انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) کشمیر زون وجے کمار نے کہا کہ سال 2022میں سیکورٹی فورسز کا ہدف جموں و کشمیر میں عسکریت پسندی کے گراف کو 100 سے نیچے لانا ہے جبکہ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں امن کا قیام عمل میں لانے کے لئے سیکورٹی فورسز سخت محنت کر رہے ہیں۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق بڈگام اور پلوامہ میں دو تصادم آرائی کے بعد بل پورہ شوپیان میں ایک پریس کانفرنس میں شرکت کرتے ہوئے آئی جی پی کشمیر زون نے کہا کہ اس سال کے دوران اب تک 21 جنگجو مارے گئے ہیں جن میں 8 پاکستانی عسکریت پسند تھے تاہم انہوں نے کہا کہ وادی میں عسکریت پسندوں کی تعداد کو کم کرنے میں سیکورٹی فورسز کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں یقینی طور پر عسکریت پسند تنظیموں میں نئے نوجوانوں کی بھرتی میں کمی آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کارروائیوں سے وادی میں امن قائم ہوگا جس سے پورے جموں و کشمیر میں ترقی کے راستے پیدا ہوں گے۔وجے کمار نے کہا کہ عسکریت پسند وادی کے سرگرم عسکریت پسندوں کو ہتھیار لانے اور سپلائی کرنے کے لیے بہت سے راستوں کا استعمال کرتے ہیں۔ جموں ڈویڑن سے دراندازی کی 35 کوششوں کو ناکام بنایا گیا جس میں کچھ ہتھیار اور ڈرون قبضے میں لیے گئے تاہم انہوں نے کہا کہ وادی میں عسکریت پسندوں کو ہتھیاروں کی فراہمی کے لیے سڑکیں اور سرحدی راستے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سیکورٹی فورسزز اپنی انٹیلی جنس کے نیٹ ورک کو مضبوط کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں تاکہ ان جنگجوں کی ان تمام کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو ماہ میں تقریباً ایک یا دو غیر ملکی عسکریت پسند مارے گئے جبکہ سردیوں کے دوران غیر ملکی عسکریت پسند نشیبی علاقوں میں خاص طور پر دیہاتوں میں رہتے ہیں جس کی وجہ سے وہ بے نشانہ بنتے ہیں۔آئی جی پی نے مزید کہا کہ سیکورٹی فورسز کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہائبرڈ عسکریت پسند اور پاکستانی عسکریت پسند رہے ہیں لیکن ہم ان سب کو بے اثر کرنے کے لیے ہر ممکن طریقے سے توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔